سانحہ موٹر وے پر اٹھنے والے سوالات – صائمہ عبد الواحد




نیٹ سرچنگ کے دوران دیکھے جانے والے فحش مناظر عمل پر اکساتے ہیں اور ہوس کو بھڑکانے والی یہ آگ ، انسان کو درندوں سے بھی بدتر بننے پر مجبور کر دیتی ہے۔ قصور کس کا ؟؟؟ بچے بچے کے ہاتھ میں سمارٹ موبائل موجود ہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا مشکل ترین ۔۔۔۔
کچرا چننے والے سے لے کر ہر سوچ ، ہر طبقے اور ہر عمر سے تعلق رکھنے والے کے ہاتھ میں سمارٹ موبائلز موجود ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر دکھائے جانے والے فحش ڈرامے اور فحش اشتہارات …… فحش لٹریچر اور فحش مواد جو سوشل میڈیا پر ہر وقت آنکھوں کے سامنے موجود رہتا ہے آپ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے دیکھنے پر مجبور ہیں آپ ایک دینی اسکالر کی ویڈیو دیکھ رہے ہوں یا تعلیمی مواد کے لئے نیٹ سرچنگ کریں آپ کی نظر کے سامنے ایسے فحش مناظر گزریں گے جس سے آپ نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھنے پر مجبور ہوں گے. ان سب کا ذمہ دار کون ؟؟؟ جب اس طرح کے سانحات رونما ہوتے ہیں تو چار دن تک ٹی وی اور سوشل میڈیا پر بحث شروع رہتی ہے اب تو حال یہ ہے کہ ہر دن ایک نیا واقعہ ایک نیا سانحہ رونما ہو رہا ہے۔ کیا۔۔۔ کیوں ۔۔۔کون۔۔ کب۔۔ اور کیسے ؟؟؟؟؟ سے نکل کر اس طرف آنا چاہیے کہ آیا ان سانحات کے رونما ہونے کی اسباب کیا ہیں اور ان کے لیے کون سے اقدامات ہو سکتے ہیں۔
جب الیکٹرانک میڈیا پر اس طرح کے مواد نشر کرنے پر پابندی کی بات ہوتی ہے اور اس کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے تو لبرل سوچ رکھنے والوں کے پیٹ میں مروڑ شروع ہوجاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر فحش مواد نشر ہونے پر پابندی عائد کرنے کی بات کی جاتی ہے تو لوگوں کو آزادی رائے کے حقوق یاد آ جاتے ہیں۔ مرد اور عورت کے کام کے دائرہ کار الگ الگ ہونے چاہیے اگر اس پر بات کی جائے تو وہ حقوقِ نسواں کے علمبردار کھڑے ہو جاتے ہیں۔ موٹروے کے سانحہ پر لوگوں کی زبانیں چلیں تو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔۔۔۔لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اسلام میں آدھی رات کو عورت کے گھر سے نکلنے کو منع کیا گیا ہے۔ اسلام اور کن کن باتوں کو منع کرتا ہے ذرا تسلی سے ٹھہر کر ہم نے اس بات پر سوچا؟؟ ہمارے ملک میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے نئی نسل کو کس دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے؟؟؟ کیا ایسے لوگوں کو سرعام پھانسی نہیں دینی چاہیے؟؟؟؟ کیا مستقل بنیادوں پر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے فحش مواد پر پابندی نہیں لگا دینی چاہیے؟؟ ایسے لوگوں کو چوکوں اور چوراہوں پر نہیں لٹکا دینا چاہیے جو خواتین کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی عزتوں کو تار تار کر دیتے ہیں؟؟؟
ہر سطح کے تعلیمی اداروں سے مخلوط تعلیم ختم کی جائے اور بنیادی اداروں میں بحیثیت ماں اپنی بیٹیوں اور خصوصاً اپنے بیٹوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ قوموں کی زندگیوں کبھی نہ کبھی ایسے مواقع ضرور آتے ہیں کہ اس مقام پر ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اگر آج مستقل بنیادوں پر اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرے کی تعمیر نہ کی گئی تو مستقبل میں اور بھی خوفناک نتائج کیلئے تیار رہنا ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں