آنکہ بخشد بے یقیناں را یقیں – افشاں نوید




جو بے یقینوں کو یقین بخشتی ہے اس کو ……… یوم تاسیس مبارک !!!!
کل صبح نرسری گئی ، کچھ نئے گملے ، پنیریاں ، موسمی پھول ، بیج لینے۔ مالی بتاتا رہا کہ یہ بیج اتنے دنوں میں پنیری بنیں گے . اس گملے کو دھوپ سے بچانا ہوگا، اس کو کم پانی دینا ہے ، یہ دن میں دو بار پانی مانگتا ہے ، اس بوٹی کا , اس پھول کا یہ موسم نہیں۔
اس موسم میں فلاں فلاں پودے کمہلا جاتے ہیں …….. ایک دنیا آباد ہے یہاں تو احساسات کی۔ اتنے ناز،نخرے اٹھانا پڑتے ہیں ان بے زبان پودوں کے۔ یہ مالی تو ماں جیسا خیال رکھتے ہیں اپنی نرسری کا۔ مگر ہم ………. اپنے بچوں کو بے دھیانی میں کبھی سرد ہواؤں کے حوالے کر دیتے ہیں ، کبھی گرم تھپیڑوں کے۔ انھیں ایسے تعلیمی اداروں کے حوالے کر دیتے ہیں جو ان سے یقین کی دولت چھین کر انھیں تشکیک کے سرابوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ کتنی بڑی بات ہے کہ “وہ” آگے بڑھتی ہے ،کہتی ہے کہ میں تمہیں سردوگرم سے بچاؤں گی۔میں ماں تو نہیں مگر ماں کی طرح تمہاری چھایا بن جاؤں گی . وہ بے یقینوں کا یقیں بن جاتی ہے …….. انسانوں ہی کا نہیں ادوار کا مان بن جاتی ہے .
یہ جمعیت طالبات ہے ……… نصف صدی کا قصہ ہے یہ ……… پچھلی نصف صدی نے اگلی نصف صدی کے ہاتھوں میں جمعیت کا ہاتھ دیدیا اور یوں پچھلے برس ، جمعیت پچاس برس مکمل کرچکی . ماشاءاللہ …..!
پچاس برس قبل سوچاگیاکہ طالبات اور تعلیمی اداروں میں پاکیزہ فضا کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ نصف صدی سے جمعیت طلباء اور طالبات حق اور صداقت کے اس علم کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ انکے ننھے بازؤں نے اک بھاری بوجھ اٹھایا ہواہے۔ وہ کار نبوت ھے جسکے لئے خود قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیاں دیتاہے کہ خود کو ھلاک نہ کردو اس غم میں کہ لوگ رجوع نھی کرتے۔
فلعلک باخع نفسک ۔۔۔
اس کٹھن وادی میں یہ قافلہ پچاس برس سے آگے بڑھ رہاہے ۔ یہ باسعادت بچیاں حاضر و موجود سے بے زار اپنے عشق کی دھن میں مگن تھکتی نہیں ، مایوس نہیں ہوتیں ۔ علم کی دنیا کی مسافر یہ طالبات کہیں اپنی تربیت کے لئے بےچین ہیں تو کہیں سر جوڑے شورائیں اس غوروخوص میں مگن کہ وقت کے چیلنجز سے نبردآزما ہ ونے کے لئے کیا لائحہ عمل اپنایاجائے؟؟ کبھی مہمات چلاتی ہیں کہ قرآن کا پیغام عام کریں تو کبھی دجالی فتنوں کی آگہی عام کرنے کے لیے سوچتی ہیں ، لکھتی ہیں ، بولتی ہیں۔ داعیانہ کردار میں جدت پیدا کرنے کے لیے نت نئے آئیڈیاز پر کام کرتی ہیں۔ داخلوں کے موقع پر سراپہ خدمت بن کر نئی طالبات کی رہنمائی کے کیمپ لگاتی ہیں تو کہیں امتحانات کی تیاری میں مددگار ہوتی ہیں . یہ چاہتی کیا ہیں؟؟؟
بس رب کی رضا …….! اس کے بندوں کو خسارے سے بچانا ، فوز عظیم کا حصول۔۔اخروی نجات ، یہی یقین ان کا سرمایہ حیات ہے۔ انکی ہر ادا بہت پیاری ہے۔ع ظیم ماؤں نے انھیں جنم دیا ہے اور اک عظیم کاز کے لئے وقف کردیاہے۔ یہ سودا بھلا ھر سر میں کہاں سما سکتا ہے ؟ یہ سیکھ کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ جان کر جی رہی ہیں ۔ قیادت کے سفر پر گامزن ……. یہ مغلوب گماں نہیں ہیں۔ جمعیت میں گزارے ہوئے روزوشب ہی سابقات جمعیت کا حقیقی اثاثہ ہیں ۔۔۔ زندگی کی کئی دھائیاں گزار کر انسان سوچتاہےکہ۔۔۔ اچھا یہ جمعیت تھی جوزندگی بھر ساتھ ساتھ رہی۔ جس نے چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ اک جوت جگائے رکھی تمام عمر۔ جمعیت سے وابستہ کوئی فردکبھی نکل ھی نھی پایا جمعیت سے۔ جمعیت طالبات کو اکیاون واں یوم تاسیس مبارک
جمعیت کی یادوں سے جڑے ہر فرد کو یہ “آج” مبارک ……. حق وصداقت کے اس سفر کا ہر پڑاؤ مبارک ……. ہمیشہ دعائیں عزیزازجان بچیوں آپ کے لئے …….!

اپنا تبصرہ بھیجیں