ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا – قاضی نصیر عالم




اس کی عمر اس وقت صرف چھبیس برس تھی ، جب اس نے ۲۰۰۵ میں اپنے ملک کے چند بیوروکریٹس کو ایک ائیر فیلڈ پر مدعو کیا اور اپنے گھریلو ساختہ ڈرون طیارے کی اڑان بھرنے ، پرواز کرنے اور کامیابی سے واپس اتارنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ۔ اور پھر اسی جگہ انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ اگر اس کے پراجیکٹ کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف مکمل طور پر ملکی ساختہ ڈرون تیار کر سکتا ہے.

بلکہ اس کا ملک اس شعبے میں دنیا کی سربراہی کر سکتا ہے اور یہ سب کچھ فقط پانچ سال کے عرصے میں ممکن ہے۔ لیکن وہاں موجود کوئی بھی شخص اس پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس واقعہ کے ایک سال بعد ہی اس کی چھوٹی سی کمپنی نے ملکی سطح پر ایک مقابلہ جیتا اور اسے ترکش آرمی کے لیے پہلا کنٹریکٹ مل گیا۔ اور یوں اس کے لیے ترکی کے ڈرون پروگرام کا حصہ بننے کی راہ ہموار ہو گئی …… دو ہزار دس وہ سال تھا جب ایک طرف امریکہ نے اسرائیل سے کشیدہ تعلقات کی بنا پر ترکی کو آرمڈ پریڈیٹر ڈرون دینے سے انکار کر دیا اور دوسری طرف چھ سال قبل شروع کیے گئے . ترکی کے ڈرون پروگرام کے تحت پہلا تیار کردہ ڈرون پرواز کے پندرہ منٹ بعد ہی کریش لینڈنگ سے دوچار ہوا۔۔اگلے چند سال مزید ناکامیوں کے نہی تھے لیکن کامیابی بھی کہیں موجود نہ تھی۔

2015ء میں اسی نوجوان انجنیر بےرکتار نے اپنی کمپنی کے تیارکردہ ٹی بی ٹو نامی ڈرون سے سولہ ہزار فٹ کی بلندی سے راکٹ کے زریعے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا مظاہرہ کیا۔ یہ ترکی کی پہلی اسلحہ بردار ڈرون پرواز تھی ۔ شام میں اپنے تینتیس فوجیوں کے جانی نقصان کے بعد ترکی نے اپنے ڈرونز کے زریعے متصل پانچ روز یوں جوابی کاروائی کی کہ روسی صدر کو ترکی کی شرائط پر براہ راست سمجھوتہ کرنا پڑا اس کے بعد لیبیا اوراب آذربائیجان میں ترکی کی ڈرون ٹیکنالوجی اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ بے رکتار کی کمپنی کی طرف سے تیار کردہ دوسرا ایڈوانس ڈرون اپنی ابتدائی ٹیسٹ پروازیں مکمل کر چکا ہے اور اس سال کے آخر تک یہ ترکش آرمی کے آپریشنز کا حصہ ہو گا ۔مذکورہ طیارہ چالیس ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کے علاوہ اپنے پیشرو طیارے سے پانچ گنا اضافی پے لوڈ لے جا سکتا ہے۔ ترکی کے ان مسلح ڈرونز کے خریداروں میں یوکرین اور قطر کے علاوہ تیونس بھی شامل ہے جسکا ترکی کے ساتھ ڈھائ سو ملین ڈالر ک معاہدہ ہوا ہے۔ وہ نوجوان انجنیر جس کی صلاحیتوں پر کوئی بیوروکریٹ اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھا . ٹھیک گیارہ سال بعد اس پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسے اپنا داماد بنا لیا۔

اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف …….. ترکی کے ڈرون پروگرام کے اس چیف آرکیٹیکٹ کو استنبول ٹیکنکل یونیورسٹی میں دوران تعلیم ہی یونیورسٹی آف پینسلوانیا کی طرف سے اسکالر شپ کی پیشکش ہوئی . یہاں سے ماسٹرز ڈگری لینے کے فورا بعد ہی اسے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے دوسری اسکالر شپ دی۔ دوسرے ماسٹرز کی تکمیل کے بعد انہوں نے جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے پی ایچ ڈی مکمل کی اور واپس ترکی آگئے ۔ اس کے بعد کامیابیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان ہے ۔ برین ڈرین تو سنتے آئے ہیں یہ برین ری گین کی کہانی تھی۔ اب ایک کڑوی کسیلی بات بھی سنتے جائیں ۔ گیلپ کے گزشتہ سال کے سروے کے مطابق دو تہائی پاکستانی بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند ہیں اور ان کی نصف تعداد کبھی واپس پاکستان لوٹنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

انیس سو چوراسی میں اسی قسم کے کئے گئے سروے کے مطابق صرف سترہ فیصد افراد بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کے خواہشمند تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اگر بھول گئے ہوں تو پاکستان کڈنی اینڈلیور انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر سعید اختر کا حشر تو یاد ہی ہوگا …….. دفعہ کریں سب حقیقت ٹی وی دیکھیں اور پاپا جونز کا پیزا کھائیں ۔باقی سب کچھ سبز چوغوں والے بابوں پر چھوڑ دیں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں