بیادِ محترم عبدالغفار عزیز – افشاں نوید




تھوڑی دیر قبل شعبہ امور خارجہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے تحت عبدالغفار عزیز بھائی کی یاد میں زوم پر تعزیتی ریفرنس تھا . دنیا کے کونے کونے سے خواتین شریک تھیں . عرب دنیا کی خواتین کے پیغامات بھی سنائے گئے . ہاں اس وقت کوئی اپنے آنسو روک نہ پا رہا تھا . میں سوچ رہی تھی کہ ایسا کیا رشتہ ہے کہ ہر ایک لواحقین میں شامل ہے۔ یہ عقیدے اور نظریہ کا رشتہ ہے۔ جو اسلام سے جڑا ہے۔

ایک ساتھی نے کہا ان کی بیرونی دنیا بالخصوص عرب دنیا میں جو عزت تھی اس سے پاکستان کے لوگ واقف ہی نہیں ہیں۔ بولیں ہمیں سوڈان میں کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا …….. کانفرنس ہال کے باہر کمپئیر کی آوازیں گونج رہی تھیں . ہم کہنے لگے اس عرب کا کتنا پراثر لہجہ ہے۔ اندر گیے تو دیکھا عبدالغفار عزیز بھائی پروگرام کی اناؤنسر تھے . ایک خاتون نے کہا کہ ہمیں جب بھی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا تو ان کی عزت و تکریم دیکھ کر ہمارا دل بڑھ جاتا تھا کہ ان کی عزت پاکستان کی عزت ہے . وہ دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت تھے۔ ایک ساتھی نے کہا کہ ایک بار امریکہ ایک کانفرنس میں جانا تھا۔ ہمیں سفارت خانے پر ویزے کے سلسلے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ فلاں صاحب کو میرا کارڈ دکھا دیں اور پھر اسی سفارت خانے میں جہاں کوئی ہماری بات سننے والا تھا ان کی وجہ سے ہمیں وی آئی پی پروٹوکول ملا .

وہ حکومت میں تو نہ تھے لیکن اللہ نے ان کے نصیب میں کتنا اکرام لکھا تھا۔ کل ٹی وی پر ایک میزبان کہہ رھے تھے کہ جب ہمیں مسلم امہ کے موجودہ حالات پر پروگرام کرنا ہوتا تو ان کی مدد لیتے۔ یہ بھی کیسا متعصبانہ رویہ ہے کہ ہمارا میڈیا ایسی شخصیات سے فیض تو اٹھاتا ہے مگر انھیں متعارف کرانے میں بخل سے کام لیتا ہے۔ آج تعزیتی ریفرنس میں راحیل قاضی نے بتایا کہ دنیا کے پانچویں براعظموں سے ان کی تعزیت کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ آغا جان اور منور حسن مرحوم کی رحلت پر اسی طرح پیغامات موصول ہوئے تھے۔ بلاشبہ وہ آغا جان کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کے والد نے نوعمری میں ان کا ہاتھ قاضی صاحب کے ہاتھ میں دیا تو انھوں نے والد کی اطاعت میں سر جھکا کر زندگی مشن کے نام وقف کردی . دنیا سے اپنا حصہ تک نہ مانگا اور سنت ابراھیمی زندہ کر گئے۔ ہم کسے کامیابی سمجھتے ہیں، اللہ کسے اکرام سے نوازتا ہے۔ جو دنیا طلب نہیں کرتا دنیا اسی کے گیت گاتی ہے . جو دنیا کی طلب میں جیتے ہیں۔

لم یکن شیاء مذکورہ ……… وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہوتے جنھیں یاد رکھا جائے۔
ان کی بہن نے گلوگیر لہجے میں بتایا کہ” امیر جماعت کی ہمارے بھائی کے جنازے پر یہ گواہی ہماری سکینت کا باعث بنی کہ ہم نے تمام عمر ان کی زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ سنا جس سے کسی کی دل شکنی ہو۔ نہ وہ غیبت کرتے نہ سنتے۔اگر ان کے سامنے کسی کا نامناسب ذکر ہوتا تو تڑپ جاتے کہ اس فرد سے معافی مانگو جس کی غیبت کی ہے. فورا استغفار کرو”.

ایک خاتون نے کہا وہ ایک پروگرام میں بولے ………. ” قرآن کو تنہائی کا رفیق بنالو۔اگر کسی دن قرآن نہ پڑھ سکو تو دوست کی طرح اس پر ہاتھ رکھ دو کہ کل اچھی طرح ملیں گے، بہت سا وقت اکھٹے گزاریں گے۔” جن ساتھیوں کو ان کے ساتھ کسی اجتماعی سفر کا موقع ملا انھوں نے بتایا کہ دوران سفر وہ کس طرح دوسروں کی خدمت کرتے۔ کئی گھنٹوں کے سفر میں کوئی ضخیم کتاب انکی ہمراہی میں ہوتی۔وہ اطراف سے بے گانہ اتنے منہمک ہوکر مطالعہ کرتے کہ رشک آتا انکے مطالعہ کی عادت پر۔ کل تعزیتی ریفرنس میں انکے بڑے بھائی نے کہا انھوں نے اخوان المسلمون سے دو چیزیں سیکھی تھیں ایک قرآن سے ہمہ وقت تعلق دوسرے وظائف۔ گھر کے بچے بچے کو موقع بہ موقع دعائیں یاد کراتے۔ دنیا بھر کی خواتین کئی گھنٹے ریفرنس میں اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہیں۔ قیمہ پاکستان دردانہ صدیقی بھی اسی طرح غمگین اپنے جذبات کا اظہار کررہی تھیں جیسے ان کی حقیقی بہنیں۔ دین کا رشتہ کتنا قیمتی رشتہ ہے۔

اس سے بڑی کیا دولت ہوگی کہ دنیا کے کونے کونے میں جانے والے کی مغفرت کی دعائیں کی جائیں۔ ان کے لیے گواہیاں پیش کی جائیں .

اپنا تبصرہ بھیجیں