اداس شامیں بنتے خواب – زبیر منصوری




یہ نومبر کی ایک سرد اداس شام تھی ! ہم کل ہی لمبا سفر کر کےاس پہاڑی علاقہ میں پہنچے تھے ہوٹل کے کمرے میں ہیٹر نے ماحول کو کافی پرسکون بنا دیا تھا سورج بس سرخ ہو کر دن بھی کی تھکن اتارنے کے لئے غروب ہونا چاہتا تھا مگر ابھی اس کی ماندپڑتی کرنیں دور پہاڑ پر جمی سفید برف کو چمکا رہی تھیں ……… یوں لگتا تھا موسم کی یہ اداسی ، شامل کے اندر کی اداسی کے ساتھ مل کر دگنی یا شاید اس سے بھی زیادہ ہو گئی تھی ۔۔۔

وہیں اسلام اباد میں ہی مجھے لگا تھا کہ وہ اب بس ہمت ہار بیٹھا ہے اس لئے میں اسے اس کےنا چاہتے ہوئے بھی اپنے ساتھ اس ورکشاپ کے لئے لے آیا تھا طویل سفر میں وہ باہر دور تک پھیلے کھیتوں باغات اور فصلوں سے اداسیاں کشید کرتا رہا اور میں اس کے سوال کا انتظار ! میں اسے بن مانگے کوئی نصیحت نہیں کرنا چاہتا تھا سچ تو یہ ہے کہ اسے تو مجھ سے محبت تھی ہی مجھے بھی وہ بہت عزیز تھا ایک پورا دن گزر چکا تھا ادھر ادھر کی چند باتوں کے سوا اس نے خود کو اپنے سخت خول میں بند کئے رکھا بلاخر میں نے ہی پہل کرنے کا فیصلہ کیا اخر وہ مجھے بہت عزیز جو تھا ! میں نے پوچھا “شامل کیوں اتنے اداس ہویار ؟ وہ دیکھو سورج بھی تمہاری اداسی کی وجہ سے جلدی منہ لپیٹ کر رخصت ہوجانا چاہتاہے۔۔۔مجھے بھی نہیں بتاو گے؟ دیکھو میں استاد ہی نہیں تمہارا اچھا والا دوست بھی تو ہوں!” مجھے لگا وہ صدیوں سے میرے سوال ہی کا منتظر تھا . اس نے ہیٹر کی گرمی بڑھائی شاید اپنےاندر جمی اداسی کی ٹھنڈ پگھلانے کی ایک کوشش کرنا چاہتا تھا اور بولا

“استاد آپ میری ساری فیملی کو جانتے ہیں سب پڑھے لکھے ہیں . بھائی ایم بی بی ایس کر رہا ہے باجی نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر لیا اور میں نالائق ! ڈفر ! نکما انٹر میں بھی مارکس نہیں لے سکا آہ ” . اس نے غصہ سے مٹھیاں بھینچیں اور کھڑکی کے پاس جا کر باہر دیکھنے لگا مجھے لگا وہ بھیگی پلکیں چھپانے کی کوشش کر رہا ہے شاید کہیں سن رکھا ہو کہ مرد روتے نہیں۔۔۔۔ میں اہستگی سے اٹھا کمبل ہٹا کر نیچے اترا اور کھڑکی کے پاس اس کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا میں نے پیار سے اپنا ہاتھ اس کی گردن کے گرد حمائل کیا اور کہا

“تو؟
کیا ہوا؟
بس زندگی ختم ؟
میڈیکل نہیں تو کچھ بھی نہیں؟

وہ میری طرف دیکھے بغیر دور خلاوں میں کچھ تلاش کرتا رہا . میں نے اسے دونوں کندھوں سے تھاما اور کہا …….. ” دیکھو میرے بچے قدرت نے تمہیں ایک چیلنج دیا ہے بہادر ہو تو آگے بڑھ کر قبول کر لو ورنہ بزدلون کی طرح مایوسی کے سمندر میں ڈوب جاو ” . وہ بولا ، “مگر استاد لوگ ؟میرا خاندان ؟ یہ سب مجھے جینے نہیں دے رہے وہ۔۔۔۔ “لوگ جائیں بھاڑ ” . میں اس کی بات کاٹتے ہوئے زور سے بولا “دیکھو دنیا ہنسنے والوں کے ساتھ ہنستی ہے رونے والوں کے ساتھ کوئی نہیں روتا یاد رکھو ہمارے اردگرد موجود اکثر لوگ ہم سے زبانی کلامی ہمدردی تو کر سکتے ہین ہمارے دکھ نہین بانٹتے . میرے پیارے تم میں بہت صلاحیت ہے بہت انرجی ہے اتنے اسمارٹ نوجوان ہو میں تو کھلی انکھوں سے تمہیں ایک کامیاب اور بھرپور ادمی دیکھ رہا ہوں ۔۔۔ان شا اللہ” اس کی انکھوں میں امید کی چمک پیدا ہوتی ہوئی نظر آئی تو میں اسے ہاتھ سے پکڑ کر کرسیوں کے پاس لے آیا فلاسک سے گرم چائے اپنے اور اس کے کپ میں انڈیلی اور کپ اسے تھماتے ہوئے بولا۔۔۔

“تم میں منیجمنٹ کی صلاحیت ہے ،مین نے تمہین دیکھا ہے ،مجھے تو لگتا ہے اللہ نے تمہیں “میڈیکل “سے بچا کر “میڈیکل سینٹر “بنانے کے کام سے لگانا ہے ۔۔ ” وہ دلچسپی سے متوجہ تھا بولا مگر وہ کیسے؟ میں نے مسکرا کر کہا وہ ایسے کہ تم اب ایم بی اے کرو گے ،ابو کے بزنس سے سرمایہ لے کر ڈاکٹر بھائی کے ساتھ مل کر بڑا میڈیکل سینٹر بناو گے جہاں بہت سے ڈاکٹر کام کریں گے اور تمہیں اونر کی حثیت سے سر سر کہہ کر پکاریں گے علاقہ میں عزت ہوگی پیسہ بھی آئے گا اور اپنے کام کی ازادی بھی حاصل ہو گی۔۔۔۔ میں اس کا خواب ُبن رہا تھا اور وہ محویت سے اسے ُسن رہا تھا اور ہر گزرتا لمحہ اس کے چہرے کی رونق بڑھاتا چلا جا رہا تھا مجھے لگا ابھی غروب ہوتا سورج اس کی ساری مایوسی کو ساتھ ہی لے ڈوبا ہے اسے امید حوصلہ دے کر زندگی کی طرف لوٹتی پگڈنڈی دکھا کر میں اس یقین کے ساتھ خاموش ہو گیا کہ اب وہ اس پگڈنڈی کو شاہراہ خود بنا لے گا اور شاہراہ زندگی پر جب وہ کامیابی کا سفر کرتا کبھی کسی موڑ پر مجھے ملے گا تو میرے لئے اتنی مسرت ہی کافی ہو گی کہ وہ خوش ہے۔۔۔۔
کیا اتنا کافی نہیں؟ للہ الحمد

اپنا تبصرہ بھیجیں