وہ ایک انسان – بنتِ منیر




زندگی ایک روشن کمرے سے ایک نیم تاریک کمرے میں تبدیل ہوگئی… جس میں نہ کوئی در ہے نہ کوئی روشندان.. نہ تالہ ہے نہ ہی کوئی روزن… اس کمرے میں رہنے والے اپنی ہی شبِ تاریک جیتے ہیں…. نہ کسی کا انتظار کرتے ہیں اور نہ ہی کسی سے کوئی شکایت… بس اپنی تنہائی سے یاری بڑھاتے جاتے ہیں….

زندگی بھی انسان کو کن دوراہوں پر لاکھڑا کرتی ہے… کہ جب انسان نہ محبت کو پاسکتا ہے نہ چھوڑ سکتا ہے.. نہ کوئی گزارش کرسکتا ہے….. ایک موڑ پر بھول جاتا ہے کہ الفت کیا ہوتی… محبت بھری لہجے کے پیچھے چبھتے ہوئے تیز خنجر اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں رہتے… وہ کوئی ولی نہیں ہوتا مگر لوگوں کے لہجوں کی پہچان بخوبی کرسکتا ہے…. وہ کوئی منصف بھی نہیں ہوتا کہ اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کا فیصلہ کرسکے…

مگر وہ ظلم سہنے کی سکت کھو چکا ہوتا ہے… زندگی اس سے خراج مانگتے مانگتے نہیں تھکتی مگر وہ…. اپنا آپ مارتے مارتے ہلکان ہوچکا ہوتا ہے…. وہ دکھوں کا مارا ہوتا ہے… اذیتیں اس کی رفیق ہوتی ہیں… اور وہ مسکرانے کا ماہر اپنی زندگی گزار رہا ہوتا ہے…. وہ ایک انسان ہوتا ہے…

اپنا تبصرہ بھیجیں