جدائی بھی عارضی ہے ! – سمیرا غزل




میں جانتی ہوں آپ دل گرفتہ ہیں، میں جانتی ہوں آپ ٹوٹے ہوئے ہیں، میں جانتی ہوں آپ دل شکستہ بھی ہیں، آپ اپنے ناظم کی جدائی میں ہلکان بھی ہیں، آپ کا اور آپ کے ناظم کا تعلق بڑا ہی انوکھا اور بے لوث تھا۔ بے ریا تھا، بے غرض تھا، آپ نے نمازیں ساتھ پڑھیں، آپ نے ناشتہ ساتھ کیا، اور یہ سب اس لیے کیا کہ آپ اپنے ناظم کے ساتھ مل کر زیادہ کام سر انجام دے سکیں جو آپ نے کیا بھی ،اور سب نے آپ کی دن رات کی محنت شاقہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
لیکن اب سوال یہ ہے کہ آپ کیا کریں گے؟غم کو فنا بنائیں گے یا بقا؟ غم کو بقا بنائیں گے تو حکمِ ربی پر خود کو فنا کر کے بقا پائیں گے۔ اگر محض غم میں خود کو فنا کردیں گے تو مقصد سے نظر ہٹ جائے گی اور پھر آپ کو بقا نہیں ملے گی۔ اس طرح آپ کے ناظم کا دکھایا ہوا راستہ آپ کی نظر سے اوجھل ہوجائے گا، آپ اپنے ناظم کی روح کو سکون نہیں پہنچا سکیں گے۔ کیوں کہ آپ کے ناظم نے جو بھی کام کیا، جس راستے پر آپ کو اپنے ساتھ چلایا وہ اللہ کا راستہ تھا اور اللہ کی رضا کی خاطر چلایا اور آپ نے دیکھا کہ آپ کے ناظم نے راہ خدا میں خود کو فنا کر کے بقا حاصل کی۔اورایسی بقا کہ آج ان کا نام عظیم لوگوں کے منہ پر خیر کے ساتھ ہے۔ اور جن گزرے ہوئے لوگوں کی فہرست میں لیا جارہا ہے وہ بھی عظیم لوگ تھے۔
یہ بات ہمیں کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اقامت دین کی راہ میں شخصیات ہمارا مطمح نظر نہیں ہوتیں، بلکہ راستہ ہوتا ہے۔ ہم شخصیات سے بھی اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے آخری خطبے میں ہمیں یہی سبق دیا تھا کہ

اگر ایک حبشی غلام بھی تمھیں خدا کی طرف بلائے تو اس کی اطاعت کرنا

ہماری جان ہمارا مال کائنات کی ہر شے خدا کی امانت ہے۔ اس کی طرف لوٹائی جانی ہے، یہاں کچھ بھی ہمارا اپنا نہیں ہے، گو کہ دل بے قرار ہوتا ہے، فراق میں آنکھیں نمناک ہوتی ہیں اور یہ سب فطری ہے اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ہے۔ مگر کچھ ایسا بھی ہے جو ہماری تشفی کے لیے ہے۔

امانت تو واپس کرنی ہی ہوتی ہے۔

جدائی بھی عارضی ہے۔

آپ اپنی صحبت کے طفیل جنت میں ملا دیے جائیں گے۔

اور صبر اللہ کا حکم ہے جس پر ہمارے لیے انعام ہے۔

تو آپ کو صبر تو کرنا ہوگا۔

دیکھیے ہمارے پاس ایک بہت بڑی بہت ہی عظیم مثال موجود ہے۔ا ور ہمیں ایک عظیم پیروکار کی حیثیت میں اس کو دل سے تسلیم کر کے عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ جب ہمارے آقا سرور کونین ﷺ کا وصال ہوا تو صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم بے چین و بے قرار تھے کوئی یہ خبر تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ شدید اضطراب کی حالت میں تھے کہ! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے توحضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں سے گفتگو فرمارہے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے آتے ہی فرمایا : “اے عمر! بیٹھ جاؤ۔” مگر وہ نہ بیٹھے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئےاور نصیحت آموزخطبہ دیتے ہوئےارشادفرمایا :

فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ.

یعنی “تم میں سے جو شخص رسول اللہ ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو وہ بھی سن لے کہ اللہ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔”

پھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:

(وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْؕ-وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْــٴًـاؕ-وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن(۱۴۴))(پ۳، آل عمران : ۱۴۴)

اور محمد تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہو چکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو الٹےپاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا۔”
یہ آیت مبارکہ سن کر لوگوں کو ایسے لگا کہ گویا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے اس آیت کوپڑھنے سے قبل وہ اسے جانتے ہی نہ تھے، یہ آیت سنتے ہی ہر شخص یہی آیت دہرانے لگا۔اور حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں کہ :

” حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے یہ آیت مبارکہ سن کرمیں حیران وششدر رہ گیا اور مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا، میری ٹانگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور میں زمین پر گرگیا۔بہرحال آیت مبارکہ سن کر مجھے یقین ہوگیا کہ واقعی آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے جاچکے ہیں ۔”(صحیح البخاری، کتاب المغازی، مرض النبی و وفاتہ، الحدیث : ۴۴۵۴، ج۳، ص ۱۵۸، عمدۃ القاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی،تحت الحدیث : ۴۴۵۳، ج۲۶، ص۳۶۷)

جب انسان کامل،افضل البشر،ہدایت کا پیکر جیسی ہستی رخصت ہوئیں تو بھی صبر ایمان کا جزو لاینفک قرار پایا۔ کہ دراصل محبت کا تقاضا یہ ہے کہ مشن کو جاری رکھا جائے۔اگر آپ کو اپنے ناظم سے محبت ہے تو آپ کو مشن محمدی ﷺ کو جاری رکھنا ہوگا کہ یہی اللہ سے محبت بھی ہے۔ “کیوں کہ جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اور جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔”میرے بھائیو! ایسا نہیں ہے کہ آپ ناظم کو یاد نہ کریں، بھول جائیں، آپ انھیں یاد بھی رکھیں ان کا ذکر خیر بھی جاری رکھیں مگر ان کے ذکر سے خود کو تقویت بھی دیتے رہیں اور

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳)

“اور دوڑواپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔”

کا نمونہ بن جائیں کہ آپ دوڑتے ہوئے نظر آئیں اور آپ کے ناظم کی تربیت آپ کے ہر چھوٹے بڑے عمل سے نظر آئے۔ان کے غم کو خود میں اس طرح زندہ رکھیں کہ وہ آپ کو کندن بنادے۔اور بہرحال ایسا آپ لوگوں نے کسی حد تک کیا بھی ہے آپ تکلیف کی شدت سے بھرے دنوں میں بھی نہ بیٹھے نہ رکے نہ کام چھوڑا۔ آپ نے اسے جاری رکھا ہے ۔ بس آپ کے دلوں میں کہیں کوئی کسک باقی ہے آپ اس کسک سے خود کو مہمیز دیجیے چشمِ تصور سے ناظم کی تھپکی محسوس کیجیے اور نئے آنے والے ناظم کے لیے دیدہ و دل وا کیجیے۔ اور اس مشن پر چلتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پیغام کو ہمیشہ یاد رکھیے گا۔

موت لکھی نہ ہو تو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے ۔ جب موت مقدر ہو تو زندگی دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے، زندگی سے زیادہ کوئی نہیں جی سکتا اور موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا ۔دنیا کے بزدل کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میدانِ جہاد میں موت لکھی ہوتی تو اس خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو موت بستر پر نہ آتی ۔اس پیغام کو اس دور میں ہر مسلمان کو ضرور یاد رکھنا چاہیے، اور اس قول کو دہراتے رہنا چاہیے۔

انشاء اللہ آپ ابدی قیام گاہ تک،نفس مطمئنہ کے ساتھ خوشی خوشی اور آسانی سے راضی برضا پہنچنے والے ناظم کے لیے صدقہ جاریہ بنیں گے۔اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔اور اللہ ہم اہلِ خانہ کو بھی صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کے راستے کا مسافر بنا کر رکھے آمین۔اور ہمارے بھائی کی کامل مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند تر فرمائے آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں