میرا محبوب ہے وہ راہبر کون و مکاں – سمیرا غزل




محبت وہ سر ہے جس میں حق چھپا ہوا اور اس حق نے محبت کو ایک ایسی طاقت عطا کی ہے کہ جو جذبے کو نمو بخشتی ہے، اور پھر یہی جذبہ کوہ ہمالیہ سر کرالیتا ہے۔

محبت کا در ان پر وا ہوتا ہے، جن کے دل شفاف ہوتے ہیں جو دنیاوی آلائشوں سے پرے زندگی گزارتے ہیں ،محبت وہ کوہ صفا ہے جو سعی کو کامل کرتا ہے، محبت رات کی خاموشیوں سے نکلنے والی اس روشنی کا نام ہے جو برگزیدہ لوگوں کو عطا ہوتی ہے ،محبت صحرا نشینوں کو کل عالم کا فاتح بنادیتی ہے، محبت کونپلوں کی طرح  پھوٹتے جذبوں کو مہمیز عطا کرتی ہے ،محبت دل کے نہاں خانوں میں چھپے کمالات کا نام ہے۔محبت رب سے ہو تو عطا ہے۔محبت رب کے محبوب سے ہو تو عطا در عطا ہے۔محبت کا اپنا مزاج ہے اپنی کیفیات ہیں اپنے انداز ہیں اور ہر اس شخص میں  یہ ایک خاص انداز میں خود کو نمایاں کرتی ہے جو محبت کے چشمہ صافی کو پالیتا ہے۔

محبت بندگئی رب ہے۔
محبت اطاعت رسول صہ ہے۔

جب محبت اطاعت رسول صہ میں ڈھلتی ہے تو عشق بن جاتی ہے اور ذرا دیکھیے کہ عطائے ربی عطائے عشق مصطفی میں اپنے بندے سے کیا کہلواتی ہے۔

جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
شاید حضور ہم سے خفا ہیں منا کے لا

یعنی سرور کونین صہ سے  عشق کا عالم یہ ہے کہ زندگی میں جب کبھی  گھٹن محسوس ہوتی ہے  یہی لگتا ہے کہ کہیں کوئ ایسا کام یا خطا تو سرزد تو نہیں ہوگئ جو رسول صہ کی نافرمانی کا سبب بنے اور اس سبب اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب بن جائے گویا کہ  اس حدیث کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ ایمان کامل ہونے کی شرط یہی ہے کہ نبی صہ ہر رشتے سے زیادہ محبوب ہوجائیں اور زندگی میں ہر عمل ان کی اطاعت سے منسوب ہوجائے۔

میری خواہش اگر پوچھی انھوں نے
میں استحکام ارض پاک لوں گا

اس شعر کی خوبصورتی ملاحظہ کیجیے اور اس میں چھپے یقین کی شیرینی و حلاوت کو محسوس کیجیے کہ اس پر گہرا یقین رکھیے کہ یہ وطن نظام مصطفی ہی سے قائم رہ سکتا ہے اور جب آقا صہ  آخری خواہش پوچھیں گے تو وہ اس پاک وطن کا استحکام ہی مانگیے۔

میں ان سے آخری دم تک مظفر
بصیرت آگہی ادراک لوں گا

عشق جب زمان و مکان کی سرحد پار اترتا ہے تو پھر بصیرت آگہی اور ادراک کے در وا ہوتے ہیں، سو  اسی یقین کو اپنی آخری سانس تک قائم رکھیے کہ محمد صہ کے عشق میں ڈوب کر ہی بصیرت آگہی اور ادراک حاصل ہوگا۔

مر کے اپنی ہی اداوں پہ امر ہوجاوں
ان کی دہلیز کے قابل میں اگر ہوجاوں

پھر اس شعر کو دیکھیے کہانسان کی معراج ہی اس بات میں ہےکہ اپنی کل زندگی اسوہ حسنہ صہ کا پیرو بننے میں وقف کردی جائے کہ یہی وہ ادا ہے جو انسان کو امر کرنے والی ہے۔

زندگی نے تو سمندر میں مجھے پھینک دیا
اپنی مٹھی میں وہ لے لیں تو گوہر ہوجاوں

زندگی کے پر پیچ رستوں پر چلتے ہوئے ہر دم اس احساس کا ساتھ ہونا کہ اس میں جو بھی مشکلات ہیں وہ صرف ایک نگاہ سے دور ہوسکتی ہیں اور ان کی نگاہ ہی کسی کھوٹے کو کھرا بنا سکتی ہے،زرہ کو گوہر کرسکتی ہے،یقینا اس بات کی دلیل ہے کہ کہنے والا صرف الفاظ نہیں لکھ رہا بلکہ عشق کے گہرے سمندر میں غوطہ زن ہے۔

میرا محبوب ہے وہ راہبر کون و مکاں
جس کی آہٹ بھی میں سن لوں تو خضر ہوجاوں

زندگی کے ہر سفر میں اپنا راہبر آقائے دو جہاں صہ ہی کو مانیے اور یہ یقین رکھیے کہ اس راستے کو اپنا کر ہم  کبھی راہ سے بھٹک نہیں سکتے۔

نبی کے رستے کی خاک لوں گا
میں سب سے قیمتی پوشاک لوں گا

عشق نبی صہ کے اس سفر میں  وہ راستے ہر راستے سے زیادہ محبوب لگتے ہیں جن پر نبی صہ کے قدم مبارک گزرے اور ان  کے راستے کی خاک کو وہ سب سے قیمتی لباس سمجھیے، یعنی آقا صہ کے راستے کی پیروی کرنا  سب سے زیادہ محبوب ہے۔

محل مینار کیا کرنے ہیں مجھ کو
مدینے کے خس و خاشاک لوں گا

یہ عشق مصطفی جب رگ وپے میں پیہم اتر جاتا ہے تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ پھر دنیا ہیچ لگتی ہے اور اس راہ کے خس و خاشاک بھی اچھے لگتے ہیں جو محمد مصطفی صہ کی راہ گزر تھی،محمد مصطفی صہ کا شہر تھا۔اور اس عشق میں ڈوب کر اپنی اول خواہش کا اظہار ہوتا ہے کہ مجھے ان محلوں میناروں سے کیا لینا بس مدینے کے خس و خاشاک مل جائیں تو زندگی کی ہر نعمت مجھے مل گئ۔

شاہ کونین کی فاقہ کشی سے
میں اپنی روح کی خوراک لوں گا

اور بے شک اس خوراک سے بہتر کون سی خوراک ہوگی؟اس جذبے سے بڑھ کر کون سا جذبہ ہوگا ؟مگر اس شعر کو پڑھتے ہوئے دل تڑپ گیا یارب یہ کون ہے جس کی روح میں یوں اترے ہیں محمد صہ۔

میرا پیمبر عظیم تر ہے
جو اپنا دامن لہو میں بھر لے
مصیبتیں اپنی جان پر لے
جو تیغ زن سے لڑے نہتا
جو غالب آکر بھی صلح کر لے
اسیر دشمن کی چاہ میں بھی
مخالفوں کی نگاہ میں بھی
امیں ہے صادق ہے معتبر ہے
میرا پیمبر عظیم  تر ہے

ان چند مصرعوں کو دیکھیے تو آقائے دو جہاں کی حیات کے بہت سے روشن پہلو ،جن کی ہمیں اللہ اور رسول صہ نے خود تاکید کی ہے، نظر آتے ہیں،اور یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ  آپ صہ کی زندگی کے اخلاقی ضابطے کے ساتھ ساتھ اعلائے کلمتہ الحق والی زندگی کے پہلو سے نہ صرف اچھی طرح واقفیت ضروری ہے، بلکہ دل سے مانیے کہ اس راستے پر بحیثیت امتی ہم بھی چلیں۔

تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں
تو سمندر ہے میں بھٹکی ہوئ پیاس ہوں
میرا گھر خاک پراور تری راہ گزر
سدرتہ المنتھی

عشق میں پھر ایک نیا در وا ہوا ہے بے شک ایسے مصرعے کسی ایسے شخص سے ہی ہوسکتے ہیں جو عشق رسول صہ میں ڈوب چکا ہو اور پھر یہ تسلیم کرنے پر آمادہ ہوا ہو کہ شہہ ابرار ہی حقیقت ہیں،وہی بزرگ برتر اور افضل البشر ہیں۔

میں نے جب آپ کی دہلیز کو آقا چوما
یوں لگا آپ نے جیسے میرا ماتھا چوما

اتنی قربت اتنی محبت صرف ایک ہی شعر میں کہ گویا شاعر نے عشق کی وہ منزلیں پار کر لی ہیں کہ دہلیز کو چومنے پر آقا صہ ماتھا چومتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اس شعر میں شدت بھی اورحدت بھی لہو کو گرما دینے والی تپش بھی۔

مری بینائیوں میں آپ کی پرچھائیں رہتی ہے
مری آنکھیں ہیں سکے یادگاری یارسول اللہ صہ

اور پھر محبت،عشق وارفتگی کے پل پار کرتے کرتے ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ جب ہر دم عاشق کی آنکھوں میں سرور کونین صہ کی پرچھائیں رہتی ہے اور وہ یادگاری سکے بن جاتی ہیں ۔جی ہاں ان لطیف،سچے اور کھرے جذبات کے مالک اور ان   نعتیہ اشعار کے خالق  جو میں نے یہاں پیش کیے ہیں محترم جناب مظفر وارثی صاحب ہیں۔یہ تو صرف چند مثالیں ہیں ،آپ کا مکمل کلام تو عیون جاریہ کی مانند ہے ۔

غرض کہ مظفر وارثی صاحب کے نعتیہ کلام کو پڑھتے ہوئے لطیف احساسات کی بارش ہوتی ہے،ان کے اشعار منبع انوار معلوم ہوتے ہیں،نعت سنتے جائیے،آگے بڑھتے جائیے اور سرور کی بارش میں بھیگتے جائیے کہ اچانک اس سفر میں دل سے آواز آتی ہے ہر شعر خوب است۔ میں بالیقین  کہتی  ہوں کہ مظفر وارثی عطا کے شاعر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں