Home » مقابلہ کہانی (1) – سید معاز جاوید
نوک قلم

مقابلہ کہانی (1) – سید معاز جاوید

میرے نبی ﷺ کی برکت

اس عورت کے پاس ایک پیالے میں جو کے کچھ دانے تھے جو اس نے پیسے اور آٹا گوندھ کر ان سے کچھ روٹیاں پکانے لگی۔
اس عورت کا شوہر قریب ہی بیٹھا تھا جب روٹیاں پک گئیں تو اس آدمی نے اپنے سوتیلے بیٹے کو بلایا اور اسے کچھ سمجھا کر
کسی کو کھانے کی دعوت بھجوائی ہے۔ انس تیز تیز چلتا مسجد نبوی میں داخل ہوا اور سامنے بیٹھے ایک شخص باہر بھیجا۔ غالبا کو اپنے والد کا پیغام دینے آگے بڑھا۔ اس سے قبل کے انس کچھ کہتا مسجد میں بیٹھے صاحب نے لڑکے سے پوچھا۔
“تمہیں ابو طلحہ نے بھیجا ہے۔؟ ”
لڑکے نے کہا ” جی ہاں۔”پھر ان صاحب نے پوچھا۔ “کیا کھانے کے لیے بلایا ہے۔؟؟”
لڑکے نے کہا ۔ “جی ہاں۔”

“اس پر ان صاحب نے ساتھ بیٹھے اپنے ساتھیوں سے کہا ۔ “چلو۔ اب جو لڑکے نے یہ صورت حال دیکھی تو تیزی سے واپس جاکر سارا ماجرا سنایا۔ والد فکرمند ہوگیا۔ بات ہی ایسی تھی۔ انہوں نے دعوت صرف ایک صاحب کو دی تھی مگر اب بہت سارے افراد ساتھ آرہے تھے اور ان کے پاس کھانا بہت کم مقدار میں تھا۔ ان صاحب نے یہ ماجرا بیوی کو بتایا تو وہ اطمینان سے بولیں۔ “اللہ اور اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ “اتنے میں ان کے مہمان تشریف لاتے ہیں اور دونوں میاں بیوی ان کا استقبال کرتے ہیں۔ مہمان میزبان خاتون سے کہتے ہیں۔ “جو کچھ ہے لے آو۔ “وہ خاتون روٹیاں لے آئیں اور مہمان کے حکم کے مطابق روٹیوں کے ٹکڑے کر کے اس پر گھی الٹ دیا جس سے روٹیاں نرم ہوگئیں۔ اس کے بعد مہمان نے ان روٹیوں پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور اپنے ساتھیوں کو آواز دی کہ دس آئیں اور کھائیں۔ مہمان کی ہدایت کے مطابق دس دس کرکے ساتھی آتے سیع ہوکر کھانا کھاتے اور باہر چلے جاتے۔

پھر آخر میں میزبان میاں بیوی ان کا بیٹا اور بابرکت مہمان نے کھانا کھایا مگر کھانا پھر بھی اتنا بچ گیا کہ ان میاں بیوی نے کھانا پڑوسیوں کو بھیج دیا۔ یہ بابرکت مہمان جنہوں نے اللہ تعالی سے کھانے میں برکت کی دعا کی تھی پیارے نبی تھے.
( اور میزبان حضرت ابو طلحہ انصاری اور ان کی بیوی حضرت ام سلیم تھیں۔ )

( حوالہ جات: تبرکات نبوی سے توسل)

Add Comment

Click here to post a comment