Home » مقابلہ کہانی (1) – وردہ جاوید
نوک قلم

مقابلہ کہانی (1) – وردہ جاوید

رحمت العالمین ﷺ صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ جانوروں اور اللہ کی ہر مخلوق کے لیے سراپا شفقت تھے۔ نیلی آنکھوں والی ہرنی بےچینی اور اضطراب سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جب اس کی نگاہ آپﷺ پر پڑی اور اس نے نبیﷺ مہرباں کو پکارا ۔ آپﷺ کو کسی کے پکارنے کی آواز سنائی دی تو آپ نے دیکھا۔ وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ تب ہرنی نے دوبارہ آپ کو پکارا

” یا رسول اللہﷺ۔’ آپ ﷺ نے دیکھا تو ایک ہرنی نظر آئی جو رسی میں بندھی ہوئی تھی۔ آپ نے اس سے پوچھا
” کیا ہوا۔؟؟” ہرنی بولی
” آپﷺ کے صحابی مجھے پکڑ لائے ہیں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو بھوک سے رو رہے ہوں گے۔ آپﷺ مجھے کچھ وقت کی آزادی دیں تاکہ میں اپنے بچوں کو دودھ پلا کر واپس آجاؤں۔ اور اپنے اللہ کی تقدیر پر راضی ہو جاؤں۔”
آپﷺ نے پوچھا۔ ” اگر تم واپس نہ آئی تو پھر۔؟؟” ہرنی بولی۔ ” خدا مجھے جہنم میں ڈال دے۔” یہ سن کر آپﷺ نے اس کی رسی کھولی اور خود وہیں بیٹھ گئے۔ ہرنی نے دوڑ لگائی اور پہاڑوں میں گم ہوگئی۔ اور تھوڑی دیر بعد اس کی واپسی ہوئی۔ آپﷺ نے اس کو دوبارہ رسی سے باندھ دیا اور وہیں تشریف فرمائی۔ کافی دیر بعد وہ صحابی واپس آئے جنہوں نے ہرنی کا شکار کیا تھا۔ جب ان کی نگاہ نبی مہرباںﷺ پر پڑی تو بولے

” یا رسول اللہ ﷺ آپ یہاں کیسے۔؟؟؟”
آپﷺ نے فرمایا۔ “میں ایک درخواست لے کر آیا ہوں۔”
صحابی بولیں۔ ” جی فرمائیں۔؟”
آپﷺ نے فرمایا۔ ” یہ ہرنی مجھے یدیہ کردو۔”
صحابی بولے۔ “آپﷺ پر سب کچھ قربان۔” پھر انہوں نے وہ ہرنی نبی مہرباںﷺ کے حوالے کردی اور آپﷺ نے اس کی گردن سے رسی نکال کر فرمایا۔
” جاو اور اپنے بچوں کے پاس جاکر خوشی مناو۔”

( یہ واقعہ مولانا طارق جمیل صاحب کے بیان “سچ نجات دیتا ہے” سے اخذ کیا گیا ہے)

Add Comment

Click here to post a comment