Home » مقابلہ کالم(2) – نادیہ احمد
نوک قلم

مقابلہ کالم(2) – نادیہ احمد

“میرے حکمران “محمد صلی اللہ علیہ وسلم”عظیم ہیں”

کیوں نہ اعجاز محمد کے قائل ہوں اغیار
اک زمانے کو کر لیا مسخر اپنا

یوں تو آنے کو سب ھی آئے ۔ سب جگہ آئے (سلام ہو ان پر) بڑی کٹھن گھڑیوں میں آئے ,لیکن کیا کیجیے کہ ان میں جو بھی آیا جانے کے لیے ہی آیا, پر ایک اور صرف ایک جو آیا اور آ نے کے لئے آیا، وہی جو ابھرنے کے بعد پھر کبھی نہ ڈوبا، چمکا اور پھر چمکتا ہی چلا جارہا ہے بڑھا اور بڑھتا ہی جا رہا ہے، چڑھا اور چڑھتا ہی چلا جارہا ہے (بحوالہ مناظر احسن گیلانی)
سرور کائنات، فخر موجودات، بدرالدوجہاں ،بنی آ خر الزماں سرکار دو عالم۔ رحمت اللعالمین دعائے خلیل ،نوید مسیحا، امام الانبیاء محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کے بارے میں لکھنا بذاتِ خود سعادت ہے مزید برآں موجود دور کے تناظر میں آ پ کی شخصیت کا علمی جائزہ ۔ عمل کی راہیں کھول دیتا ہے ۔بحیثیت قوم کے ایک فرد کے،مجھے بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا وہ رخ بہت متاثر کرتا ہے جب آ پ ایک رہنما، حکمران ، نگران کی حیثیت سے سامنے آئے۔ آ ج کے دور میں اس پہلو پر روشنی ڈالنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ افراد ہی قوم کا رہنما منتخب کرتے ہیں اس لئے ہر فرد کو اس بات سے آگاہی ہونی چاہیے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی “سیرت طیبہ بحیثیت حکمران”کے ہمارے لئے کس طرح آئینہ ہے۔۔

قریش کے سردار “عبدالمطلب” کے دس بیٹے تھے ۔ “عبداللہ” ان میں سب سے زیادہ ممتاز تھے۔ وہی عبداللہ جو “محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم” کے والد محترم تھے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا نے آ پ کا نام “محمد” رکھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء سے ہی نہایت نیک اور شریف تھے۔ عرب میں ان دنوں بت پرستی عروج پر تھی ۔معاشرے میں بدامنی و بے راہ روی بری طرح پھیلی ہوئی تھی مگر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کبھی اس طرف مائل نہ ہوئی ۔ یہ ایک بہترین مثال ہے اس امر کی کہ انسان اگر خود اچھا ہو ہو تو اس کے اردگرد رہنے والی معاشرتی و اخلاقی برائیاں اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
اپکی فہم و فراست کا اندازہ “واقعہ تحکیم “(حجر اسود کی دوبارہ تنصیب )سے لگایا جا سکتا ہے.. یہی فہم و فراست آپ کو “غار حرا “تک لے گئی جہاں آپ ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے عبادت میں مشغول رہتے۔۔یہاں تک کہ 41ویں سال میں رب العالمین نے آپ کو نبوت عطا فرمائ۔کچھ عرصہ بعد آ پ کو سورہ المدثر” کے ذریعے تبلیغ کی دعوت کا حکم دیا گیا .قریش کے لوگ جو کہ آپ کی فہم و فراست اور صداقت کے قائل تھے جب کوہ صفا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو “دعوت تبلیغ” دی تو وہ آ پ کے مخالف ہو گئے .
دراصل قوموں کی زندگی میں سب سے کٹھن اپنے آباؤ اجداد سے رد کر گرانی کرنا ہی ہے بقول اقبال؛

طرز کہن پہ اڑنا ،آئین نو سے ڈرنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

ابوجہل نے بارہا کہا کہ ؛
“محمد جو کہتے ہیں وہ سچ ہی ہو مگر میں اپنے آباؤ اجداد کے دین کو کیسے چھوڑ دوں ؟”
بس یہی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ بن گئی۔ اور قریش کھلم کھلا آپ سے دشمنی پر اتر آئے ۔
یہ بات قدر مشترک ہے کہ جب بھی اللہ نے اپنے دین کی اشاعت کے لیے کسی قوم میں نبی بھیجے انہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا
“اذ ارسلنا علیکم الثنین فکذبوھما فعزذنا بثالث ”
(سورہ یسین)
اور تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ جب شر حد سے بڑھ گیا اور فتنہ پردازوں نے ان کی راہ میں کانٹے بچھائے تو تمام انبیاء کو ہجرت کا حکم ملا ۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا ۔۔۔۔

جب دشمن اپنی چال چلتا ہے تب اللہ اپنی تدبیر اختیار کرتا ہے . ایک طرف مکہ میں شیطانیت عروج پر تھی تو دوسری طرف یثرب کے لوگ مسلمان ہونا شروع ہو چکے تھے ایسے وقت میں ھجرت کا عمل سامنے آیا اور اس ہجرت کے ذریعہ اللہ نے دین اسلام کو قوت عطا کی۔ یہ ہجرت کا ہی فیض تھا کہ مدینہ پہلی” اسلامی ریاست” بنا۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو قریش کی ایذا رسانیوں سےاطمینان ہوا تو آ پ نے انتظامی معاملات کی طرف توجہ دی۔ یہاں سے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بہترین دور رس، مدبر حکمران اور نگہبان کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں

جب آپ مدینہ پہنچے تو وہاں آپ کا شاندار استقبال کیا گیا ۔ آپ نے اللہ کے حکم سے حضرت ایوب انصاری کے گھر کچھ عرصہ قیام کیا اور سب سے پہلے “مسجد نبوی” کی تعمیر کا آغاز کیا۔۔ یہ بات ظاہر کر تی ہے کہ مسلمان حکمران تمام معاملات میں فوقیت دینی معاملات کو دیتے ہیں۔۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیے جو زمین لی گئی اس کی باقاعدہ قیمت ادا کی گئی۔ ۔۔ اقتدار کے نشے میں چور حکمرانوں کے لیے یہ ایک بہترین مثال ہے جو ریاست میں موجود وسائل کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس اس کار خیر میں خود بھی حصہ لیا۔ذرا دیکھیے امام الانبیاء , سرکار دو جہاں ،ریاست کے سربراہ کی طرف، آپ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کے ساتھ مل کر کر مسجد تعمیر کر رہے ہیں ایسی کوئی مثال فی زمانہ تو موجود نہیں ہے ۔۔
مسجد کے ساتھ ہی ایک چبوترہ تھا جہاں وہ صحابہ رہائش پذیر تھے جنہوں نے اپنا آپ دین کی کی ترویج کے لیے وقف کر دیا تھا (انہیں اصحاب صفہ کہتے ہیں) ان کی رہائش،خوراک تربیت کی زمہ داری ریاست کی زمہ داری بن گئی ۔سبحان اللہ ریاست میں موجود ہر فرد کے درد کا احساس ۔۔۔ ایک مدبر حکمران ہی کر سکتا ہے۔۔۔
مسجد کی تعمیر کے بعد آپ نے مہاجرین کی آبادکاری کے لیے لیے ایسا نظام قائم کیا جو رہتی دنیا کے لئے” مواخات” کی مثال بن گیا۔ آپ نے ایک ایک انصار کو بلا کر ایک مہاجر کا بھائی بنا دیا اور ان کے کاروبار گھر یہاں تک کہ وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا ۔مہاجرین و انصار کی محبت کی یہ مثال رہتی دنیا تک مواخات کی اعلی مثال بن گئی۔۔مواخات کا یہ نظام محض ایک آبادکاری یا اقتصادی ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ نہ تھا بلکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی نگرانی میں ایسی جماعت کی تربیت مقصد تھا جو مستقبل میں عظیم انتظامی صلاحیتوں کی اہل بن سکے۔یقینا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بہترین “حکمت عملی” تھی ۔۔
جب ان بنیادی انتظامی امور سے فارغ ہوئے تو آپ نے وہاں کھڑے ہو کر کہا
” آج سے میں تم پر اللہ کی حکومت قائم کرتا ہوں۔ میں اس کا نگراں ہوں اور میری اطاعت تم پر لازم ہے اس کے جواب میں تمہاری جان و مال ،عزت و آبرو کی حفاظت، کھانے پینے کا انتظام میری ذمہ داری ہے۔ آج کے بعد کسی کو کسی چیز کی کی ضرورت ہو تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تقاضہ یا مطالبہ کرسکتا ہے”
۔اللہ اللہ کیا الفاظ ہیں جو ایک نگران کی زبان سے ادا ہوئے ۔ کوئ تقریر نہیں۔ لفظوں کا گٹھ جوڑ نہیں۔۔اور عاجزی کا عالم سبحان اللہ!
بات کرنے والے بھی عش عش کر اٹھے ہیں۔ ہے آج کوئی مثال اپنے آپ کو عوام کے لئے وقف کر دینے کی؟؟؟؟
اپنے دور حکومت میں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ریاست کے معاشی ، معاشرتی، فقہی، دینی امور کی خود نگرانی کیا کرتے تھے اور صحابہ کرام میں سے جسے مناسب سمجھتے زمہ داریاں تفویض کر دیتے۔ مفتوحہ علاقوں میں منتظم کبھی وہیں کا مقرر کرتے ، کبھی مدینے سے بھیج دیتے تھے۔ پیما نہ انتظام یہ تھا کہ کوئی بھی کام اللہ کی رضا کے علاوہ نہ ہو ۔۔
انتظامی امور سے فارغ ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لیا یا یعنی دوسری قوموں سے تعلقات
پر نظر ثانی کی ۔مدینہ میں اس وقت ” اوس اور خزرج ” دو مسلمان قبیلے رہائش پذیر تھے مگر پرانی عداوتوں کے سبب ان میں رنجشیں باقی تھیں ، ان میں دوستی کروائی۔
اس کے علاوہ مدینہ میں تین یہودی قبیلے “بنی نظیر”، “بنی قینقاع” اور “بنی قریظہ ” آ باد تھے ۔آپ صلی اللہُ علیہ وسلم نے ان سے تعلقات بہتر کرنےکے لئے ایک معاہدہ کیا جسے “میثاق مدینہ” کہتے ہیں ۔گو کہ یہودی اپنی فطری عناد کے باعث اس معاہدے کو زیادہ دیر قائم نہ رکھ سکے لیکن بہرحال یہ مسلمانوں کے لئے فائدہ مند ہی ثابت ہوا اور بعد میں آنے والے والے واقعات نے یہ بات ثابت کر دی کہ آپ کی یہ حکمت عملی بہترین حکمت عملی تھی۔۔
یہ تمام انتظامی امور جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست مدینہ میں اپنائے ان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ معاشرتی نظام چلانے کے لئے دین لازمی جز ہے۔ اگر دین کی فوقیت اور اولیت نہ رہے تو سیاست بھی بے رنگ ہے۔
بقول اقبال
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
یہ دین کی سرپرستی ہی تھی کہ جس نے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کر کے تمام قوموں کو امان دی اور ایسا نظام قائم کیا جو بے نظیر ہے
اب مدینہ میں انتظامی امور مکمل کیے جا چکے تھے۔ خارجہ پالیسی بھی متعین کی جا چکی تھی مگر دین کی ترویج و اشاعت کا کام ابھی باقی تھا۔ اب اس کے لیے کام کرنا تھا مگر مشرکین و منافقین کو یہ کہاں گوارہ تھا۔ انہوں نے مدینہ پر حملے کی تیاریاں شروع کردیں۔ لیکن اللہ کی مدد حق کے ساتھ تھی۔ یہاں سے غزوات اور فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور کفار کی تدبیریں ان پر ہی الٹی ہو گئیں۔۔۔
یہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے حکمران کے طور پر سامنے آئے جو دور اندیش، وسیع النظر عسکری نگران بھی تھے۔جو اعلیٰ جنگی حکمتوں کی قوت سے قوی تھے۔ دین اسلام کا پہلا غزوہ “غزوہ بدر” کے نام سے جانا جاتا ہے گو کہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی اور دشمن ہزاروں کی تعداد میں تھا لیکن اس جنگ میں فتح مسلمانوں کا مقدر بنی۔اس جنگ کی سپہ سالاری آپ نے خود کی ۔ بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے پانی کے حوض تیار کیے ۔مجاہدین کو صفوں میں کر دیا خود خدائے ذوالجلال کے حضور گڑگڑا کر دعا کی اور ایک بار پھر ثابت کردیا کہ دین سیاست کے لیے لازمی جز ہے اس دن آپ ایک سپہ سالار کی حیثیت سے سامنے آئے ۔آپ کے بہترین اندازہ حکمت عملی اور خدائے واحد پر بھروسہ سے مسلمان یہ جنگ جیتے ۔۔۔۔۔
اس کے بعد غزوہ احد ہوئی یہاں بھی آپ نے بہترین حکمت عملی اپنائی گو کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مان کر ایک دستے نے جو غلطی کی اس میں کئی صحابہ شہید ہوئے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ دشمنوں کی فتح تھی ۔
اس کے بعد” غزوہ سویق”٫ “غزوہ ذات الرقع ، “غزوہ احزاب یا خندق” ، “غزوہ خیبر” اور دوسرے غزوات میں فتح مسلمانوں کا مقدر بنی۔لیکن ان سب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنفس نفیس اپنے صحابہ کے ساتھ دشمن سے لڑنے کے لیے میدان جنگ میں جہاد کرتے رہے اور سپہ سالاری بھی کرتے رہے۔ موجودہ دور کے تناظر میں دیکھیں تو کوئی بھی نگران یا حکمران میدان جنگ میں موجود ہونا تو دور کی بات ہے۔اپنے 98 فیصد بیرونی اور دو فیصد اندرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے جہاد کی بات بھی نہیں کرتے۔ اور مسلمانوں کی زوال کی طرف بڑھتی ہوئی ریاست چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں

لاالہ کے وارث باقی نہیں تجھ میں
گفتار دلبرانہ ، انداز قاہرانہ

یہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے یہ پیغام دیا کہ جہاں تک ممکن ہو جنگ و جدال سے بچا جائے لیکن جب دوسرا فریق جنگ کے سوا کسی اور بات پر آمادہ ہی نہ ہو اور فوجی ساز و سامان کے لحاظ سے بھی طاقتور ہو تو اللہ کے بھروسے پر ایمان کی طاقت قوت اور جذبہ شہادت سے مغلوب ہو کر راہ خدا میں نکل کھڑے ہو نا ہی بہتر ہے
ان سب معاملات کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لیے بھی اقدامات کیے۔ بنی قینقاع اور بنی النضیر کو جلاوطن کیا۔ بنو قریظہ کے مردوں کو قتل اور بچوں اور عورتوں کو قید کیا گیا اور ثابت کر دیا کہ منافقین کو ڈھونڈ کر انہیں ان کے انجام تک پہنچانا بھی ایک نگران کی زمہ داری ہے نا کہ ذاتی مفادات کے لیے ملکی استحکام کو داؤ پر لگا دیا جائے۔ کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کو اتنا نقصان غیرمسلموں سے نہیں پہنچا جتنا منافقوں نے اسلام کو پہنچایا ۔۔اس کی ایک مثال برصغیر کی تاریخ سے بھی ملتی ہے کہ یہاں مسلمانوں میں میر جعفر اور میر صادق جیسے بے ضمیر ،بےحمیت اور ملک وطن کے دشمن پیدا نہ ہوتے تو مسلمانوں کی حکومت برصغیر میں کبھی ختم نہ ہوتی۔۔ آج عوام ریاست سے مطالبہ کر سکتی ہے کہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے منافقین اور غداروں کو ڈھونڈ کر ان کا قلع قمع کیا جائے۔
یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ فتوحات کا مقصد صرف فتح حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ منافقین و مشرکین کی قوت کو توڑنا اور ان قبیلوں کی طرف سے اطمینان حاصل کرنا تھا جو مسلمانوں کے حلیف تھے کیونکہ ان کی طرف سے اطمینان کئے بغیر مکہ کی طرف پیش قدمی ناممکن تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل منزل تو مکہ ہی تھی ۔غزوات کے بعد مشرکین و منافقین کے حوصلے پست ہوگئے اور مکہ پر حملہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو کسی رکاوٹ کا خطرہ نہ رہا
فتوحات کے بعد ہمسایہ عرب ریاستوں کے سربراہوں اور عرب سرداروں کے نام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغی خطوط ارسال کیے جس کا مقصد انہیں دین کی طرف بلانا تھا یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد صرف جاہ و جلال شان و شوکت اور دنیا پر حکمرانی کرنا نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد خدا کے دین کو رائج کرنا تھا ۔ ان مکتوبات سے دین اسلام کی عظمت افادیت اور تاریخی حیثیت کو بڑا فائدہ پہنچا اور یہ ثابت ہو گیا کہ تعلقات بہتر بنانے کے لئے ایک حکمران پر لازم ہے کہ پہلے جو بھی جائز طریقے ہوں وہ اختیار کیے جائیں
۔۔ان تمام معاملات کے بعد صلح حدیبیہ عمل میں آیا جب ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ مکہ میں طواف فرما رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کی نیت سے کچھ صحابہ کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے آپ کا ارادہ ہرگز جنگ کرنے کا نہ تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ کفار نے جنگ کی تیاری کر لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے مقام پر ٹہرے اور بلآخر کفار سے ایک معاہدہ کیا۔یہ ہی “صلح حدیبیہ” ہے۔ بظاہر یہ مسلمانوں کے خلاف تھا کہ انہیں کفار کے آ گے دبنا پڑا لیکن ایک لیڈر کی دور اندیش نظریں کچھ اور ہی دیکھ رہی تھیں۔یقیننا بعد میں آنے والے دنوں نے ثابت کیا کہ وہ مسلمانوں کی فتح کی طرف ایک قدم تھا۔۔۔ واللہ کیا دور اندیشی تھی۔ اور اعلیٰ ظرفی تھی کے قوم کے مفاد کے لیے اپنی خواہش کو نظر انداز کر دیا۔ معاہدہ طے پا گیا مگر کفار اذلی بے ادبی کے باعث اسے ذیادہ عرصہ برقرار نہ رکھ سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ فرما لیا تھا کہ اب وقت آگیا تھا اللہ کے گھر کو بتوں سے پاک کرنے کا ،چنانچہ آپ نے مکہ کی جانب پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو تیار کیا۔ اور لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ اپنی داعیانہ صفت اعلیٰ کردار اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ عجز و انکساری کا پیکر بنے مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کی چابیاں بنا کسی جنگ کے،اپ کے حوالے کر دی گئیں۔یہاں بھی آپ نے بہترین حاکم ہونے کا ثبوت دیا اور عام معافی کا اعلان کر دیا

مسٹر بی اسمتھ نے لکھا ہے “عیسائیوں نے یروشلم پر حملہ کیا اور اینٹ سے اینٹ بجا دی،70 ہزار مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔شہر تباہ ہو گیا مگر مسلمانوں کی فتح نے ثابت کیا کہ محمد فضل و رحمت بن کر آئے تھے۔”( بحوالہ سیرت النبی کا خصوصی مطالعہ)
واقعی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے بڑے سے بڑا تجزیہ نگار بھی انکار نہیں کر سکتا۔۔
وہ مکہ جہاں سے آپ کو تکلیفیں دے کر نکال دیا گیا تھا جہاں آ پ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے وہاں آ پ کا عام معافی کا اعلان ہزاروں افراد کے دلوں میں گھر کر گیا۔اور ایک بار پھر آپ کے حسن سلوک نے یہ بات ثابت کر دی کہ آ پ ایک” فقیدالمثال حکمران” تھے۔
مکہ بنا کسی جنگ و جدل کے اسلام کا گہوارہ بن گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کعبتہ اللہ بتوں سے پاک ہو گیا۔اسلام عرب سے نکل کر دور دراز علاقوں میں پھیلا،اسی سال آ پ نے “حجتہ الوداع” ادا کیا۔ یہ آ پ کی زندگی کا پہلا اسلامی حج تھا اس دن آپ نے ایک خطبہ دیا جو انسانی حقوق کا عالمی منشور ہے۔ جہاں عورتوں ،بچوں ، غلاموں ،جانوروں کے بھی حقوق مقرر کئے گئے۔دنیا میں کوئی ایسا چارٹر نہیں جو انسانی حقوق کا اسطرح تحفظ کرتا ہو۔دنیا کے بڑے سے بڑے مورخ, تجزیہ نگار ،قانوندان یا حکومت کے اعلی ترین عہدیدار کسی نے ایسا جامع مساوات۔اور انسانی حقوق پر مبنی چارٹر پیش نہیں کیا جس میں انسانیت کو معراج دی گئی ہو۔

اسلام کی سربلندی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال فرمایا لیکن یہ ثابت کیا کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت نگراں، سامنے آتے ہیں تو بے مثال قربانی اور بے نیازی کی ایک ایمان افروز داستان شروع ہوتی ہے۔ آپ نے قربانیوں اور جانثاری کی تلقین اور نصیحت ہی نہیں کی بلکہ کہ آپ نے خود جو مثال قائم کی اس کی نظیر تاریخ انسانی آج تک پیش نہ کر سکی
نبوت سے سرفراز ہوئے تو کامیاب کاروبار اپنے مقصد پر قربان کردیا۔ جب فتح ونصرت سے نوازے گئے اور اللہ تعالی نے آپ کے قدموں میں دولت کے ڈھیر لگا دیے تو اس وقت بھی اپنی دولت دوسروں پر لٹا دی دی۔ دونوں ہاتھوں سے دولت بانٹنے والے جب رخصت ہوئے تو نہ آپ کا کوئی اندوختہ تھا نہ گھر والوں کے لیے کوئی جائداد اور جاگیر ،۔ہر طرح کے موقع پر ہر مشقت اور صعوبت میں دوسرے افراد کے ساتھ بنفس نفیس شریک رہے۔ دشمن سے مقابلے کے لئے بھی کبھی پیچھے نہ ہٹے، ہر جگہ محاذ جنگ پر موجود رہے۔ اور جب توحید کا غلغلہ بلند ہو چکا، کامیابی مل چکی ، تو اس وقت بہت عاجزی و انکساری سے اپنے رب کے حضور سربسجود ہو گئے۔کامیابی اور عظمت کا غرہ ہے نہ فخر اور غرور کا اظہار ہے۔ نہ حکمرانی کی رعونت ہے۔ سبحان اللہ۔۔۔۔تیئس سال کی مختصر مدت میں جو عظیم کارنامہ آ پ نے انجام دیا اور افکار و عقائد، عادات و اخلاق، تہذیب و معاشرت، معیشت و سیاست میں جو مثالی انقلاب برپا کیا ، جہالت میں ڈوبی ہوئی اک قوم کو اپنی کوششوں سے جس طرح امامت عالم کے منصب پر لا بٹھایا اس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔خدا اور بندگان خدا کے حقوق کا مثالی احساس اور مطلوب امتزاج وہ پاکیزہ نمونہ ہے جو ہمیں داعی اعظم کی زندگی میں نظر آتا ہے (بحوالہ داعی اعظم)
۔ آ ج کے حکمرانوں کے لیے یہ ایک سوالیہ نشان ہے جن کےاپنے پورے خاندانوں کے نام پر کارخانے ،فیکٹریاں اور سوئس اکاؤنٹ موجود ہیں۔ عوام کی خدمت تو وہ کیا کریں گے الٹا عافیت کوشی، آرام طلبی اور مفاد پرستی سے کام لیتے ہوئے ،مہنگائی کی چکی میں پستے عوام پر مختلف قسم کے بلز اور ٹیکس لگا کر عوام کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔محاذ جنگ پر بر وقت موجودگی تو دور کی بات ہے بیرونی آ قاو ں کو خوش کرنے کے لئے اپنے ہی وطن کی جڑیں کھوکھلی کیے جا رہے ہیں۔ ملک میں موجود ہی نہیں رہیتے جو عوام کے معاشی و اقتصادی مسائل کا ادراک ہو۔ روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ تو صرف ووٹ کی وصولی کے وقت لگایا جاتا ہے ۔ ملک جائے بھاڑ میں ، دولت انکے ہاتھ میں۔۔ ” *ھل من مزید”۔کی صدائیں لگائی جارہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آ ج دشمن عناصر اسے تر نوالہ سمجھ کر،کبھی وبا کےچکروں میں الجھا رہے ہیں تو کبھی ویکسین کے بکھیڑوں میں پھنسا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے وطن کے حکمرانوں! سنو! خدارا احساس کرو ،آپ کو جو منصب دیا گیا ہے اسے پوری طرح ادا کرو کیونکہ آ پ نگہبان ہیں اور آ پ سے رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔۔بندوں کے حقوق سے غافل رہ کر خدا کے حضور سرخرو نہیں ہوسکتے۔ حاکم دو جہاں کی سیرت کو اپنی زندگی کا حاصل بنا لو۔۔ کہ کوئی بھی عہدہ ہو، محنت، جانفشانی، ایثار و قربانی اور جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔
خداوند ہمیں ایسا رہنما ،حکمراں عطا فرما دیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کاملہ کا مظہر ہو تاکہ میرے وطن کے دشمن کبھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو ں۔۔
آ مین
نام

Add Comment

Click here to post a comment