Site icon نوک قلم

مقابلہ کالم(2) – فوزیہ تنویر

اتباعِ رسول ﷺ

اے محمد ﷺ معلوم ہوتا ہے کہ تم ان کے پیچھے رنج و غم میں اپنی جان کو دو گے اگر وہ ایمان نہ لائے (الکہف)رحمت اللعالمین حضرت محمد ﷺ کی وہ کیفیات کہ جب وہ لوگوں کی ہدایت کی خاطر سوچ کر ہلکان ہوئے جاتے تھے۔ اتنی فکر مندی کی یہ لوگ میری بات سن لیں تاکہ تباہی و ضلالت ان کا مقدر نہ بن جائے۔ اللہ تعالی نے اپنے محبوب بندے کے دکھ اور کرب کا ازالہ اپنے اس فرمان سے کیا اور کتنے خوبصورت انداز میں آپ کو تسلی دی۔

ان حالات میں جو لوگ دعوتِ دین کا فریضہ ادا کر تے ہوئے مسلمانوں کے اندر سے جمود کی کیفیت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلاشبہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور عام لوگوں کے عمومی رویے ان کے لیے بہت اذیت ناک ہوتے ہیں۔ جس سے دل شکستہ ہوتے ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر میں آپ کی حیاتِ طیبہ کے وہ مشکل ترین حالات ضرور ہونے چاہیں۔ آج تو دعوت دین کا کام نہایت محدود پیمانے پر ہو رہا ہے۔ آپ ﷺ نے تو پوری انسانیت کی بھلائی کا ذمہ اٹھایا تھا۔اللہ تعالیٰ تو ہمیں قدم قدم پر نبی ﷺ کی ذات سے رہنمائی کی تلقین فرماتا ہے:
*تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں ایک اچھا نمونہ ہے* (الاحزاب)

اس لئے جس طرح اللہ تعالی نے اپنے پیارے بندے حضرت محمد ﷺ کو مشکلات میں کبھی تنہا نہیں چھوڑا تو اُس نبی کے کام کو آگے بڑھانے والوں کو کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ہے۔عام مسلمانوں کو بھی اب حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے اپنی پرانی روش کو بدلنا پڑے گا۔ مغربی نظریات و اقدار کا مصنوعی لبادہ اتار کر اتباع رسول ﷺ کریں اور دنیا میں بھی سرخروہی حاصل کریں اور آخرت کی بھلائیاں بھی سمیٹیں۔اتباعِ رسول ﷺ تو دور کی بات ہے، آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے پر ہی کتنا اجروثواب رکھا گیا ہے۔ تو اگر ہم سنتِ رسول کی پیروی کریں تو پھر بھلائیاں ہی بھلائیاں اور برکتیں ہی برکتیں ہمارے ہمرکاب ہوں گی۔ عشق رسول ﷺ کے زبانی دعوؤں کے حصار سے نکل کر فریضۂ اقامتِ دین کے لئے اپنی جان و مال سے جہاد کریں، اور نفس پر دنیا کی محبت کو حاوی نہ ہونے دیں، اور عملی مسلمان بن کر دکھائیں تاکہ دین مخالف عناصر کو مسلمانوں کو جانچنے کے لئے تضحیک آمیز خاکوں کا سہارا نہ لینا پڑے۔

آنحضور ﷺ نے تو اللہ تعالی کا پیغام نہایت جانفشانی اور ذمہ داری سے عوام تک پہنچادیا۔ اب آگے امتِ مسلمہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان کی روشن تعلیمات کو لے کر دنیا کی قوموں پر حکمرانی کرتے نہ کہ ذلت و خواری کو مقدر ٹھہراتے۔ لادین انسانوں تک تو کیا قرآنی تعلیمات پہنچاتے اُلٹا انہی کے رنگ میں اپنی نسلوں کو رنگ دیا۔ خود پورے مسلمان نہ بن پائے جس کی وجہ سے آج دنیا میں ذلت و رسوائی کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔

بقول اقبال:
*اس راز کو اب فاش کر اے روحِ محمد ﷺ*
*آیاتِ الٰہی کا نگہبان کدھر جائے*

اسلام تو دینِ فطرت ہے جو انسانی زندگی کے پورے نظام کا، چاہے وہ تعلیم و تربیت، تہذیب و ثقافت، تمدن و معاشرت، معیشت و سیاست، اور قانون و عدالت ہو، احاطہ کیے ہوئے ہے۔انسانیت کی رہنمائی کے لئے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں روشن ہدایت دے دیں۔اگر کہیں کوئی اُبہام دکھائی دیتا ہے تو اس کی کمی سیرت النبی ﷺ سے پوری کر دی گئی ہے لیکن مسلمان اپنے نبی ﷺ کی پیروی کرنے کے بجائے مغربی نظریات کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔ مغرب کی ظاہری چمک دمک سے عام مسلمان مرعوب ہوتے ہیں تو مسلمانوں کی حکومتیں ان کی ترقی و دفاعی قوت سے خوفزدہ دکھائی دیتی ہیں۔ حالانکہ ان کی تمام تر ترقی و خوشحالی ان کی معاشی و سیاسی پالیسیوں کی مرہون منت ہے۔ پیارے رسول ﷺ نے معیشت کے جو زریں اصول امت کو بتائے ہم ان کے بالکل الٹ سمت رواں دواں ہیں۔ حالانکہ انہی سنہری اصولوں کو لے کر مغربی اقوام زمین پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

ہمارا دین جو ہمیں رزقِ حلال کی ترغیب دیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکیزہ تجارت کے اصول بتا کر سودی کاروبار سے منع کرتا ہے . ارشاد باری تعالی ہے:
*پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو*( البقرہ:172)

نبی پاک ﷺ نے تو نوجوانی میں ہی تجارت کے پیشے سے وابستگی اختیار کی اور تجارتی سفر کے دوران صاف شفاف لین دین کے معاملات سے حضرت خدیجہ کا دل جیت لیا۔

یہ کونسی اسلامی تعلیمات ہیں کہ آج مسلمان نہایت ڈھٹائی سے سود پر تجارت کر کے زیادہ سے زیادہ مال بنانے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں؟حالانکہ سود کے بارے میں واضح احکامات ہیں کہ:
*اللہ کے نزدیک سود سے مال نہیں بڑھتا بلکہ زکوۃ سے دوگنا اور تین گنا ہوتا ہے* (العنکبوت:39)
پھر بھی حکومتی سطح پر بھی معاشی پالیسیاں بناتے وقت اللہ کے احکام کو بالائے طاق رکھ کر مغربی طاقتوں سے مرعوب ہوکر عوام پر قرضوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ بینکاری کا سارا نظام سود پر چلتا ہے۔ ایسے حالات میں برکت و خوشحالی کہاں سے آئے گی۔نچلی سطح پر بھی عام مسلمانوں کے معاملات خراب تر ہیں۔ ہر کوئی پیسہ کمانے کے چکر میں حلال و حرام کی پہچان کھو رہا ہے۔ ہماری معاشی و کاروباری سرگرمیاں سنت رسول ﷺ کے مطابق نہیں ہیں۔ ہم مسلمان اس بات کی پرواہ تو کرتے ہیں کہ ہمارا مال بڑھ جائے لیکن دوسرے کے مال کو ناجائز طور پر ہڑپ کرنے کے تمام گُر آزمائے جاتے ہیں۔ کاروباری افراد ہیراپھیری سے مال فروخت کر کے قومِ شعیب علیہ السلام کی برائیاں کھلم کھلا کرتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*ناپ تول میں کرنے والوں کے لئے خرابی ہے۔ لیں تو پورا لی اور دیتے وقت کم دیں۔* (المطففین: 104)

معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے دین پڑھنے والے لوگوں کو کاروباری،بینکاری اور اسی طرح کے دوسرے شعبوں میں اپنی اجارہ داری قائم کرنی ہوگی۔ دوسری طرف زکوۃ کے نظام کو مضبوط اور مربوط بنا کر اسلامی معاشرے کے سفید پوش طبقہ کی ضروریات کو پورا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ تاکہ معاشرے میں غربت کی وجہ سے برائیوں کی افزائش کو روکا جا سکے۔ صدقہ و خیرات کو فروغ دے کر معاشی بے چینی کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ وارث کا مال پیارا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر اس کا مال وہ ہے جو اس نے (موت) سے پہلے (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو وہ چھوڑ کر مرا* (سنن دارمی)

اس حدیثِ قدسی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارا اصل مال کونسا ہے اور ہم ہیں کہ وارثوں کے مال کو جمع کرنے کے چکر میں زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ زکوۃ، صدقہ اور خیرات کا اتنا اچھا نظام نام دے کر غریب طبقے کو بھی جینے کا حق دیا ہے۔مغرب زدہ معاشی پالیسیاں بنانے کے بجائے اگر اللہ کے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی میں بنائی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا ملک بھی خوشحالی کے راستے پر گامزن نہ ہو۔ مدینہ جیسی ریاست نہ سہی کم از کم ایسی ریاست تو قائم ہو سکتی ہے جہاں اسلامی اصولوں کی پاسداری عملاً دکھائی دے۔

Exit mobile version