Home » رکھ اک گوشہ نرم توں دل میں اپنے – ایمن فاطمہ – مقابلہ کہانی(1)
نوک قلم

رکھ اک گوشہ نرم توں دل میں اپنے – ایمن فاطمہ – مقابلہ کہانی(1)

صبح کے نو بج رہے تھے نہم جماعت کا اردو کا پیریڈ شروع ہوچکا تھا سر سلیم بورڈ پر ٹیسٹ لکھ رہے تھے اور بچے اسے اپنی کاپیوں پر اتار رہے تھے
“اسلام علیکم سر”سب بچے یک زبان ہوکر بولے . سر سلیم نے مڑکر دروازے کی جانب دیکھا سر شہباز حسبِ معمول تنے نقوش کے ساتھ کھڑے تھے

“جن لوگوں نے فیس کی ادائیگی نہیں کی باہر نکل آئیں” انکی بھاری بھرکم آواز گونج رہی تھی . احمد نے سب کی جانب دیکھا اور مردہ چال چلتا باہر آیا ….. اور سر شہباز کے سامنے سر جھکاکر کھڑا ہوگیا
“کیا مسئلہ ہے آپکا آخر ؟ آپ ہر ماہ اس قدر تاخیر کیوں کرتے ہیں؟” ایک بار پھر غصیلی آواز گونجی
“سر…میرے گھر” خوف کے مارے اس سے بولا نہیں جارہا تھا
“برائے مہربانی اپنے گھر کے مالی حالات کا دکھڑا مجھے مت سنائیے گا اگر آپ نہیں جمع کرواسکتے فیس تو جاسکتے ہیں کوئی آپکو نہیں روکے گا . کل پورے تین ہزار روپے نہ لائے تو سکول بھی نہ آئیے گا “شدید غصے سے کہتے وہ باہر لپکے

مارے خفت کے احمد کی نظریں زمین میں گڑی جارہی تھیں وہ رودینے کے قریب تھا . جائیں بیٹا سیٹ پر.. سر سلیم نے شفقت سے کہا اور بورڈ کی جانب متوجہ ہوگئے کلاس میں ابھی تک سکوت کا عالم تھا . خالی ذہن کے ساتھ بمشکل آنسوؤں کو چھپاتے ہوئے وہ سیٹ پر بیٹھا اپنے آپ کو کام میں مصروف کرنے کی کوشش کررہا تھا

……………………

احمد ایک یتیم لڑکا تھا اسکا باپ ایک حادثے میں جاں بحق ہوگیا تھا اسکو پڑھانے کی شدید خواہش ہونے کے باعث احمد کی والدہ اسکے سکول کی کینٹین میں نوکری کرتی تھیں انہیں سکول کی پچھلی طرف ایک سرونٹ کوارٹر ملا ہوا تھا . طبعیت خرابی کے باعث آجکل وہ کام نہیں کرسکتی تھیں اسی لیئے وقت پر فیس جمع نہ کرواسکیں انکے مالی حالات سے سر شہباز اچھی طرح واقف تھے مگر اپنی سخت گیر طبعیت کے ساتھ ایک سخت دل بھی رکھتے تھے انہیں فیس وقت پر چاہیئے ہوتی تھی کوئی کیسے کرے یہ انکا مسئلہ نہیں تھا
……………………

سر سلیم آج کے واقعے سے بہت پریشان تھے اب بھی اپنے آفس میں بیٹھے وہ احمد کے متعلق سوچ رہے تھے . ذہن میں آئے خیالات کو سوچتے ہوئے انہوں نے یونہی سامنے پڑا رسالہ اٹھاکر ورق گردانی شروع کردی وہ کتابوں کو اپنا بہترین دوست سمجھتے تھے جبھی ہر مسئلے کے حل کے لیئے کتابوں سے رجوع کرتے آج بھی کتاب نے انہیں مایوس نہیں کیا ……. میگزین کے پہلے صفحے پر ہی سر سلیم حل پاچکے تھے
……………………..

اگلے دن گھڑی نے صبح کے آٹھ بجائے سکول کی گھنٹی بجی سب کچھ حسبِ معمول چل رہا تھا مگر آج احمد نہیں آیا تھا اس کے پاس فیس نہیں تھی اور اسکی ماں اسکی تعلیم کی شدید خواہش رکھنے کے باوجود مجبور تھی . سر شہباز فیسوں والا رجسٹر ہاتھ میں تھامے تنے نقوش کے ساتھ آفس میں داخل ہوئے اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے انکی نظر سامنے قلمندان کے ساتھ رکھے چھوٹے سے خوبصورت کارڈ پر پڑی
کھلا رجسٹر دائیں جانب رکھ کر انہوں نے کارڈ اٹھایا ….. اندر سر سلیم کی خوبصورت لکھائی سے لکھا تھا:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے فرمایا:
جس شخص کو نرمی سے حصہ ملا اسے دنیا و آخرت کی بھلائی سے حصہ ملا اور جو شخص نرمی سے محروم رہا وہ دنیا و آخرت کی بھلائی سے محروم رہا
(مسند ابی یٰعلی الموصلی،مسند عائشہ،الحدیث٤٥١٣ ،ج٤،ص ١١٨)

وہ ایک لمحہ لگا سر شہباز کے پتھر دل کو نرم پڑنے میں!وہ جن کی گفتگو سے کفارِ مکہ پگھل جاتے تھے کیسے ممکن تھا
کہ ایک مسلمان کا دل نہ پگھلتا …. سر شہباز کے ذہن میں بچپن کا پڑھا واقعہ تازہ ہوا .
جب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز پڑھنے جارہے تھے راستے میں ایک بچے کو روتا پایا …. پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شفقت سے اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس بچے نے بتایا کہ وہ ایک یتیم ہے اسکا باپ نہیں اس لیئے وہ عید کی خوشیوں سے محروم ہے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دلاسہ دیا کہ آج سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے باپ اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا تمہاری ماں ہیں اور اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا
(بحوالہ کتاب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم, ص ١٦٣)

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجانے کتنے یتیموں کی پرورش کی اور میں اس یتیم بچے سے اس قدر بدسلوکی کرتا رہا
انہوں نے دائیں جانب رکھے رجسٹر کو دیکھا جس پر درج ‘احمد’ کے نام پر سرخ قلم سے غلط کا نشان لگا ہوا تھا
“نوید!!! “انہوں نے چوکیدار کو بلایا
“جی سر”
“احمد آیا ہے کیا؟”
“نہیں سر اسکی امی کہہ کر گئی تھیں کہ وہ اب نہیں آسکے گا وہ لوگ اسکی فیس نہیں بھرسکتے .”نوید نے احمد کی والدہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو دہرائی . آپ کوارٹر سے اس کو بلاکر لائیں سر شہباز کے نرمی سے کہا نوید نے حیران سا ہوکر سر ہلایا اور باہر نکل گیا

سر شہباز نے جیب سے تین ہزار روپے نکال کر رجسٹر پر رکھے اور سرخ پین جیب سے نکالا انہیں غلط کو صحیح کرنا تھا نفی کو ہاں کرنا تھا . انہیں احمد کو پڑھانا تھا ایک یتیم کی پرورش کرکے خود کو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ثابت کرنا تھا
…………………….

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。