Home » مولانا مودودیؒ کی رفاقت میں
نوک قلم

مولانا مودودیؒ کی رفاقت میں

مولانا مودودی نے تفہیم پر کام شروع کیا تو ان کی محنت دیکھ کر ان پر ترس آتا تھا۔ غالبا یہ احساس کہ ترجمانی میں ذرا سی بھی غلطی کہیں خسرانِ آخرت کا موجب نہ بن جائے ان کو کھائے جا رہا تھا۔ کلام اللہ کے منشاء و مفہوم کو سمجھنے کا سب سے پہلا ذریعہ مولانا کے نزدیک خود کلام اللہ تھا۔

چنانچہ مولانا مودودی اپنے کمرے میں آتے تو وضو کر کے آتے اور بیٹھنے کے ساتھ ہی متعلقہ حصے کی تلاوت شروع کر دیتے اور بار بار اسی کو پڑھتے اور اس پر غور و فکر کرتے رہتے۔میں نے مولانا مودودی کو چند رکوع کی کئی کئی گھنٹے تک بار بار تلاوت کرتے دیکھا ہے۔ یہ کام جب ہو جاتا تو یہی مضامین قرآن مجید میں جہاں جہاں آئے ہیں ان سب کو مولانا اکٹھا کرلیتے اور ان پر غور و فکر کرتے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تشریح کے لیے حدیث، سیرت، رجال اور تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے۔ پھر متقدمین سے لے کر معاصرین تک تمام تفاسیر کے مطالعے میں لگ جاتے۔ درمیان میں کہیں ضرورت ہوتی تو لغت اور کلام عرب کی طرف مراجعت فرماتے۔ پھر صُحُفِ سماوی کے تمام نسخوں سے قرآن کے تقابلی مطالعے کے بعد آثار قدیمہ کی دریافت اور تاریخ کے پورے ذخیرے سے متعلق عہد کا مطالعہ فرماتے۔ غرض کوئی چیز چھوٹنے نہ پاتی جو متعلقہ عہد کے حصے پر کسی طور سے بھی روشنی ڈالتی ہو۔ یہ مولانا محترم کے مطالعہ قرآن کا پہلا دور تھا۔
پھر بڑے سکون کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دیتے اور ایسے تمام سوالات کو سامنے رکھ کر تفسیر، حدیث اور ائمہ مجتہدین کی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیتے اور ہفتوں تک یہ سلسلہ چلتا رہتا، یہاں تک کہ مطالعہ تفسیر، حدیث اور سیرت کے کئی دور مکمل ہو جاتے۔

قرآن فہمی کے سلسلے میں ان کا سب سے مضبوط سہارا اللہ کی توفیق اور اس کا فضل رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی اپنے فضل سے نواز دے اور اپنی کتاب کے فہم کے مزید باب وا کردے۔۔۔۔۔ مطالعے کے بعد ترجمانی شروع ہوتی تو تمام ترجموں سے تقابل کرتے رہتے۔ کہیں اشتباہ ہوجاتا تو پھر مطالعہ شروع ہو جاتا۔ گویا عبارت میں حک و حذف کا سلسلہ آخر تک جاری رہتا۔(مولانا مودودیؒ کی رفاقت میں،خواجہ اقبال احمد ندوی،صفحہ:201-202)

Add Comment

Click here to post a comment