Home » اپنی ڈھالیں ڈھونڈو – ایمن طارق
نوک قلم

اپنی ڈھالیں ڈھونڈو – ایمن طارق

بیٹیاں سرِ بازار جو عزت کا تماشہ کرکے
مسکراتی لجاتی ادائیں دکھاتی
ماں باپ کو چڑاتی جلاتی
فخر سے وکٹری کا نشان بناتی
گھروں سے بھاگ کر
اپنی پسند کے آشیانوں میں
محبت کے کانچ محل بناتی
اگر جو دیکھو

تو سمجھو بغاوت کی آندھی میں
سب کچھ ایک تھپیڑے کی زد میں ہے
سب سے قیمتی سرمایہ
لُٹ رہا ہے
تو سمجھو کوئی چھپا ہوا دشمن
سارے ہی تیر
گھروں کی پناہ گاہوں کی جانب کیے
زور زور سے شیطانی قہقہے لگاتا ہے

اپنی ڈھالیں ڈھونڈو
پیار سے محبت سے
دعا سے
بیٹیوں کو کھونے سے بچالو۔۔
کوئی ستارہ آنکھوں والی شہزادیوں کو بتاۓ
گھر کے آنگن کو پار کرکے
تپتی ہوئی دھوپ
جھلسا دیتی ہے
جلتی ہوئی زمین
پاوں زخمی کردیتی ہے ۔۔

بیٹیاں جن کی ہلکی سی چوٹ لگ جانے پر
باپ کا سب کام چھوڑ کر
گود میں بٹھا کر کتنی ہی دیر سینے سے لگانا دیکھو
ہلکے ہلکے ہاتھوں سے آنسو پونچھنا دیکھو
ماوں کی نظر اور فکر
ہر لمحے بیٹی کے گرد ہالہ بناتی
اُسے سکھاتی سمجھاتی
پہلے چھوٹی چھوٹی پونیاں جو کھو جاتی تھیں
اب اپنی جیولری یہاں رکھی وہاں رکھی کہیں کھودیتی
اُسے سمیٹتی ماں ۔۔

کبھی نہ لاۓ وہ دن خدا
کہ بیٹی ماں سے ہو جدا
کسی کی محبت کا نشہ
ماں کی محبت سے بڑھ کر ہو
کبھی نہ لائے وہ دن خدا
کہ باپ کی نم آنکھوں میں دھول جھونک کر
کوئی بیٹی بھاگ کر بے وفا ہوجائے ۔۔

(یاد رہے کہ اس آزاد نظم کا مقصد محض دعا زہرہ کیس پر تبصرہ نہیں کیونکہ ہم اُس کی حقیقت نہیں جانتے بلکہ مجموعی طور پر اس وقت نوجوانوں کے بگاڑ پر ہے جسے میڈیا گلیمرایز کر رہا ہے اس کیس کا سہارا لے کر ۔ دعا ہے کہ مظلوم جو بھی ہیں اُن کا حق ملے اور ظالم کیفر کردار تک پہنچے )

Add Comment

Click here to post a comment