Home » اسلامی معیشت
نوک قلم

اسلامی معیشت

آج سے تقریبا 25 سال پہلے اسلام آباد میں تبلیغی اجتماع ہو رھا تھا جس میں تبلیغی جماعت کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد احمد بہاولپوری صاحب رح نے ایک واقعہ سنایا تھا۔

کہ میرا کوئی عزیز میرے پاس آیا کہ حضرت مجھے اسلام آباد میں معیشت کے بارے میں ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا ھے اور مجھے اس کانفرنس میں معیشت کے بارے میں اسلام نے جو ھدایات دی ہیں اس پر روشنی ڈالنے کو کہا گیا ھے
لہذا اس بارے میں آپکی رہنمائی درکار ھے ۔
تو حضرت نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ اسلامی معیشت کا خلاصہ تو میں بتا دوں گا اور انتہائی مختصر انداز صرف 3 ہی جملوں میں ہی ساری اسلامی معیشت سمجھا دوں گا ۔
لیکن خیال کرنا میری یہ باتیں سن کر وہاں پر موجود اشرافیہ کی طرف سے کہیں جوتے نہ پڑ جائیں آپ کو ۔

اس نے کہا کہ حضرت ان کے جوتوں سے خود کو کسی طرح بچا لوں گا لیکن فی الحال آپ میری مدد فرمائیں ۔
تو مولانا نے فرمایا کہ چلو ٹھیک ھے تو پھر لکھ لو۔
اسلامی معیشت کا سب سے پہلا اصول یہ ھے کہ ملک کا سب سے بڑھیا آدمی معاشی اعتبار سے سب سے گھٹیا زندگی گزارے ۔
جیسے کہ خلفائے راشدین عملا ایسا کرتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ منورہ میں مفلسین مساکین کی ایک فہرست تیار کی گئی اور ان کی درجہ بندی کی گئی۔ اور جب فہرست تیار ھو گئی تو سب سے پہلے نمبر پر جو نام آیا جو سب سے زیادہ مفلس تھا وہ خود خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام تھا ۔

اس کا فائدہ یہ ھوتا ھے کہ عوام اپنے بڑوں کو دیکھ کر ان کے طرز زندگی کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے برابری کی کوشش کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اسی کو معیار بناتے ہیں جس سے عوام میں حرص لالچ بڑھتی ھے۔ پیسہ جمع کرنے کی ھوس بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں حلال و حرام جائز ناجائز کی تمیز ختم ھو جاتی ھے اور معاشرے میں جھوٹ، فراڈ، رشوت، سود خوری اور ذخیرہ اندوزی وغیرہ وغیرہ ساری مصیبتیں در آتی ہیں۔
اور جب سب سے بڑھیا لوگ یعنی حکمران وغیرہ سب سے نیچے والا معیار زندگی اپنائیں گے تو پھر کسی بھی شخص غربت افلاس وغیرہ پر کوئی شرمندگی اور احساس محرومی نہیں ھوتا۔

دوسرا اصول اسلامی معیشت کا یہ ھے کہ دولت کو بالکل بھی کسی بھی طرح جمنے نہ دو کہ وہ کسی ایک جگہ پر جم کر رہ جائے ۔بلکہ اس کو توڑتے رھو تاکہ ملکی دولت پر چند اشخاص کا قبضہ نہ رھے لہذا سب سے پہلے موجودہ بینکی نظام کو ختم کرنا ھوگا۔
اس کا فائدہ یہ ھوگا کہ لوگ بینکوں میں پڑا سارا پیسہ باہر نکال کر مارکیٹ میں لائیں گے، کاروبار کریں گے، کارخانے لگائیں گے۔ جس سے ایک تو بیروزگاری ختم ھوگی دوسری طرف مقابلے کی فضا قائم ھوگی۔ جس سے ہر کوئی اپنی چیز بہتر سے بہتر اور سستی سے سستی بنانے کی کوشش کرے گا اور اس سے عالمی سطح پر تمھاری پیداوار سب سے سستی بھی ھوگی اور معیاری بھی۔یہ دو کام حکومت اور حکمران طبقہ کے کرنے کے ہیں ۔

تیسرا اصول اسلامی معیشت کا یہ ھے کہ ضرورت سے زائد چیزیں پیسہ اپنے پاس نہ رکھو۔ بلکہ اسے اللہ تعالٰی کی راہ میں اس کی مخلوق پر خرچ کرتے رھو اپنے رشتہ داروں، ماتحتوں، نوکروں ،پڑوسیوں پر خرچ کرتے رھو ۔
جس کے نتیجے میں وہ بھی پورے اخلاص کے ساتھ آپ کے کام کاروبار میں مدد بھی کریں گے اور اس کے بڑھنے کی تمنا بھی کریں گے اور دعائیں بھی دیں ۔
بجائے اس کے کہ وہ تم سے حسد کرے اور تم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں تم سے چوری کرے ڈاکہ ڈالے اور تم سے مال چھینیں.

(منقول)

Add Comment

Click here to post a comment