کرونا کے بعد کی دنیا




موجودہ دنیا میں نظریات اور سوچ کے ساتھ ساتھ باقی سب کچھ بھی نائن الیون کے بعد تبدیل ہونا شروع ہوا۔ اور اب کرونا وائرس کے بعد والی دنیا موجودہ دنیا سے بالکل مختلف ہو گی۔
کرونا وائرس کے ذریعے ہمیں ایک نئے دور میں دھکیل دیا جائے گا ۔ یہ دنیا کیسی ہو گی ……. آیئے دیکھتے ہیں . سب سے پہلےلوگوں کو کنٹرول میں رکھنے اور باہر نکلنے سے روکنے کیلیے قرنطینہ میں رکھا جانا ، پھر5G ٹیکنالوجی کی آمد ، معاشی تباہی ، انسانوں کی سرویلینس یعنی نظر رکھنا ، جبری ویکسینیشن ، ڈیجیٹل کرنسی کا آغاز ، RFID چپ لازمی شرط۔ اور آخرخوف کے زیر اثر لوگوں کے رویے کو جانچنا ……. ان میں سے کچھ مقاصد حاصل کر لیے جائیں گے باقی آنے والے چند سال میں بہت جلد حاصل کیے جائیں گے۔ لوگوں کو آفات کے وقت گھروں اور کیمپوں میں بند رکھا جائے گا۔
اس وائرس کی وجہ سے کرنسی نوٹ ختم کیے جائیں گے تاکہ وائرس نہ پھیل سکے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی حکومتیں مجبور ہونگی ۔ یہ سب کیسے ممکن ہوگا ؟ اسکو کامیاب کرنے کیلیے 5G ٹیکنالوجی ضروری ہے جو انتہائی تیز رفتار ہے۔ اسکے بغیر یہ ممکن نہیں ۔ اسلیئے اسکو اسکے نقصانات کے باوجود لایا جائے گا۔ اگر یہ وائرس زیادہ دیر چلتا ہے تو دنیا کی معیشت کا بیڑہ غرق ہو جائے گا اور ایک نئے معاشی نظام کی ضرورت ہو گی…… 5G کے ساتھ انسانوں کی سرویلنس کی جائے گی۔ یعنی ہر انسان پہ نظر رکھی جائے گی۔ لوگوں کو زبردستی ویکسین دی جائے گی جو مزید بیماریاں لائے گی اور دوائیوں کا کاروبار مزید پھیلے گا۔
کرنسی نوٹوں سے یہ وائرس پھیلتا ہے تو لازمی طور پہ انکو ختم کرنا پڑے گا ۔ اسکے لیے ڈیجیٹل کرنسی لانچ کی جائے گی۔ یعنی آپ اپنے پیسوں کے مالک تو رہیں گے لیکن اپنی جیب میں نہیں رکھ سکیں گے۔ اس طرح حکومتوں کیلیے آپکو کنٹرول کرنا اور بھی آسان ہوگا جب چاہیں آپکو آپکے پیسوں سے محروم کر دیں۔ سب سے خوفناک بات کہ مائکروچپ لگوانی لازمی قرار دی جائے گی جسکے بغیر آپ کوئی خریداری نہیں کر سکیں گے۔ یاد رہے یہ چپ ہی آپکا سب کچھ ہو گی لیکن یہ صرف چپ ہی نہیں ہے۔ اسکے ذریعے آپکا دماغ کنٹرول کیا جائے گا ۔ خوف کے انڈر لوگ کیسے رویہ اپناتے ہیں اس لحاظ سے قوانین بنائے جائیں گے۔
یہ دور جو بس آیا ہی چاہتا ہے اس قدر بھیانک ہے کہ انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں جاتی ۔ انسان کو انسان کی غلامی میں دینے اور پھر دجال کی غلامی اور دجال کے ذریعے شیطان کی غلامی میں دھکیل دینے کا پورا پورا انتظام ……..یہ وائرس تو ختم ہو ہی جائے گا لیکن اسکے بعد جو قوانین بنیں گے وہ غلامی کا ایک تاریک دور ہو گا۔ شاید اس حدیث کے پورا ہونے کا وقت آیا چاہتا ہے ….جب مسلمان قبر کو دیکھ کر کہے گا کاش میں اسکی جگہ قبر میں ہوتا۔حدیث میں ہے کہ مسلمانوں پہ بھی ضرور پہلی امتوں جیسے حالات پیش آئیں گے
اب جو پچھلی امتوں پہ حالات آئے ان سے ہم سب واقف ہیں۔یہ ہو کر رہے گا۔ حدیث کا پورا ہونا لازم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں