آپ کی ماسیاں سڑکوں پر ہیں۔۔۔۔! – افشاں نوید




بار بار بیل بچنے کے باوجود جب بیٹے نے فون کال نہیں ریسیو کی تو میں نے کہا کال کیوں نہیں اٹھا رہے ؟بولا “آنٹیاں تنگ کر رہی ہیں کہ ہماری ماسیوں کے لیے راشن کا بندوبست کر دو۔
ایک آنٹی کا ڈیفنس سے بار بار فون آرہا ہے کہ میری چھ ماسیوں کے لیے راشن کا بندوبست کر دو…….. جو آنٹی چھ ماسیاں رکھ سکتی ہیں وہ ان کو راشن کیوں نہیں دے سکتیں؟؟ یہ راشن ماسیوں کے لیے نہیں ہیں…… ان روز اجرت والے مزدوروں کے لیے ہیں جو ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے ۔” واقعی ماسی تو ہر گھر کی اپنی ذمہ داری ہے۔ جس ماسی نے آپ کی خدمت کی ہے ……اسکو کڑے وقت میں تنہا چھوڑنا کہاں کا انصاف ہے۔ ابھی ایک ٹی وی چینل پر میزبان نے دکھایا کہ ماسیاں روڈ پر بھیک مانگ رہی ہیں ۔ ایک ماسی نے کہا وہ ڈیفنس لاھور کے ایک گھر میں کام کرتی ہے اسے فارغ کردیا ہے۔ جب میزبان نے پوچھا کہ تنخواہ دی ہے؟ تو بولی”بیگم صاحبہ نے کہا پہلی کے بعد لینا۔ہمیں گھروں سے جو بچا کھانا ملتا تھا…….. وہ بچوں کا پیٹ پالتا تھا ۔ اب کہاں سے کھلاؤں بچوں کو”۔
میزبان نے کہا میں روز اس راستے سے جاتا ہوں مگر اب مانگنے والوں کا غیر معمولی رش ہے۔ یہ وہ عورتیں ہیں جو روز نہیں ہوتی تھیں ، یہ گھروں کی ماسیاں ہیں۔ کوئی بھی آزمائش کسی فرد کی تنہا آزمائش نہیں ہوتی اگر آپ کی ماسی بیمار ہے تو آپ کے بھی ایمان کی آزمائش ہے کہ اس کا کام کتنا ہلکا کیا۔اس کے ساتھ خیر خواہی کی یا ترش رویہ رکھا؟ بات بہت سادہ ہے اگر میری ماسی بھیک مانگ رہی ہے میں مصلے پر استغفار میں مصروف ہوں تو میں نے استغفار کی پہلی شرط بھی پوری نہیں کی۔ میرے پاس بھی کئی لوگوں کے فون اور میسیج آرہے ہیں کہ ماسیوں کے لیے راشن کہاں سے ملے گا ؟؟ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں…….. ان آزمائش کے دنوں میں بھی کیا ہمارے دسترخوان کی رونقیں کم ہوئی ہیں؟ کیا ہم ایک ڈش کی قربانی دیتے ہیں؟ کیا چار روٹیاں زیادہ پکانے سے ہمارے رزق میں کمی ھوجائیگی؟؟
یہاں معاملات بہت حساس ہیں ۔ پڑوسی بھوکا سویا ہے تو آپ کی نماز معتبر نہیں رہتی۔ پڑوسی آپ کے شر سے محفوظ نہیں تو عبادت منہ پر مار دی جائیگی۔ اگر قرآن نے محبوب بندوں کی صفت بتائی کہ ان کی پیٹھیں رات کے پچھلے پہر بستر سے الگ رہتی ہیں تو اگلی ہی آیت میں یہ کہا کہ ان کے مال میں حق ہے سائل اور محروم کے لیے…….. ایک مرتبہ قحط سالی کے دنوں میں حضرت عمر فاروق ؓ نے بچے کے ہاتھ میں خربوزه دیکھا تو غیض وغضب میں گھر میں داخل ہوئے کہ قوم کو روٹی نصیب نہیں ہمارے بچے عیش کریں۔ خلیفہ وقت کے گھر میں خربوزه عیش تصور کیا جاتا ہے…… قحط سالی کے دنوں میں۔ ہمارے دسترخوان یونہی بھرے ہوئے ہیں۔ ماسیوں کو ہم نے کرونا کے خوف سے نکال دیا …….وہ بھیک مانگیں یا بھوکی مریں۔۔ کرونا تو چند ہفتوں میں گزر ہی جائے گا ان شاءاللہ ۔
اگر میرا نامہ اعمال سیاہ کر گیا کہ میری روٹی میں ایک غریب ماسی کا حق نہ تھا۔ میں نے بغیر تنخواہ اس کو نکال باہر کیا۔ کوئی غریب دروازے پر آیا تو یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ ہمیں تو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں………ہمارے پاس کوئی خزانے تھوڑی رکھے ہیں۔
یہ آسمانی آفت ہے…… اللہ ناراض ہے ہم سے….! اپنے گھر سے محتاج کو خالی ہاتھ نہ لوٹائیں۔ ہمارا پیارا دین تو کھجور کے ایک ٹکڑے کے صدقہ کو بھی قبول کرتا ہے اسکی ترغیب دیتا ہے۔ خاص طور پر عورتوں کے لیے حکم ہے …….معراج والی حدیث میں کہ جہنم کی آگ کو صدقہ سے ٹھنڈا کرو کیونکہ شب معراج میں نے عورتوں کو کثرت سے جہنم میں دیکھا انکی ناشکری کی صفت کے سبب۔ رجوع کا وقت ہے اس رجوع کو مصلے تک محدود نہ رکھیں۔ جو آپ سے رجوع کررہے ہیں انکے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں ۔ کچھ کم کھا کر بھی ہم زندہ رہ لیں گے۔ وہ جان کس کام کی جس کے لیے ایمان قربان کرنا پڑے۔ ایمان کی گواہی قربانی مانگتی ہے۔ اس سے کڑا وقت بھی کوئی ہوسکتا ہے کہ ہم گھروں میں قید……بیت اللہ کے دروازے بند,مسجدوں کے دروازے بند۔ہمارے دسترخوان جوں کے توں سجے ہوئے ……. سڑک کنارے بھکاریوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے کیونکہ روزگار چھن چکے ہیں۔
ھمیں زندہ قوم بن کر اس آزمائش سے نکلنا ہے۔ الحمدللہ کار خیر کرنے والے بھی بے شمار لوگ ہیں .آفت اجتماعی ہےمگر…….
نامۀ اعمال سب کا تنہا ہی رقم ہو رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں