پیاری قوم – افشاں نوید




بیٹا دوستوں کے ہمراہ راشن تقسیم کر رہا تھا سہ پہر سے…….. نوجوان اپنے طور پر بھی فنڈنگ کررہے ہیں۔ قومی جذبہ یہ ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔
ابھی واپس آیا بولا…….ہمارے پاس لسٹ بنی ہوئی تھی ۔ ایک آنٹی کا فون آیا جو بیوہ ہیں بولیں …… بیٹا میرے گھر کوئی راشن دے گیا ہے اب تم مت لانا مجھ جیسے اور بھی کئی ضرورت مند ہونگے۔ بیٹا بولا آتی ہوئی چیز کس کو بری لگتی ہے ۔امی میں بہت متاثر ہوا کہ کتنے دیانتدار لوگ ہیں پاکستانی جن کی شہرت کرپشن بنا دی گئی دنیا میں۔۔۔
کل رات ایک ساتھی کا میسج آیا کہ۔…….کچھ لوگوں کو میں نے بتایا کہ میں راشن تقسیم کررہی ہوں …..آپ بھی اس کارخیر میں مدد کردیں۔بولی اتنے راشن اکھٹے ہوگئے ہیں میرے گھر میں…. بن نام بتائے لوگ رکھ کر جارہے ہیں۔ جتنے تقسیم کررہے ہیں اتنے ہی آرہے ہیں۔
ماسی سے میں نے پوچھا کہ تمہاری بیٹی کچی بستی میں رہتی ہے وہاں کیا حال ہے؟ بولی…… کہ رہی تھی یہاں ویسے تو لوگ بھوکے بھی سوتے ہیں مگر آج کل ہر گھر پر اللہ کا کرم ہے۔ دروازہ بجتا ہے کبھی بریانی کا پیکٹ, کبھی دودھ کے ڈبے, لوگ پوچھ پوچھ کر جارہے ہیں راشن تو نہیں چاھئے ہم منع کردیتے ہیں سب کے گھروں میں مہینہ بھر کا راشن آ چکا ہے۔
یہ بہت پیاری قوم ہے آزمائش میں اس کا اصل روپ جوبن پر ہوتا ہے۔ مولا برے,بھلے,کھوٹے سکے جیسے ہیں آپ کے ہیں۔۔بس اپنے عذاب سے ہلاک نہ کیجئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں