خواجہ سراوں کے ساتھ ۔۔۔!!! – طارق رحمان




پانچ ضرب سات فٹ کے اس نیم تاریک کمرے میں وہ 7 وجود بمشکل ٹھسے ٹھسائے بیٹھے تھے …….. ایک ٹیوب لائٹ اندھیرے سے نبرد آزما ہونے کی ناکام کوشش کررہی تھی ۔ تعفن سے دماغ پھٹ رہا تھا….. سیلن بدبو اور حبس کی وجہ سے میں نےابکائی بمشکل روکی ہمیں دیکھ کر وہ سب گڑتےپڑتے کھڑے ہوگئے ان میں سے ایک کے ہاتھ میں چائے کا ایک غلیظ سا کپ تھا ۔
میں نے گفتگو شروع کرنے کیلیے ایسے ہی۔۔۔ خواہ مخواہ ہنستے ہوئے کہدیا …….اکیلے اکیلے چائے؟ اس کے ہونٹوں پر ایک کھسیائی ہوئی سی ہنسی آئی اور بس۔۔۔ !!!سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بات کیا کی جائے ایک مخمصہ یہ بھی تھا کہ انہیں کیا کہ کر مخاطب کیا جائے…….. سب کنفیوز تھے وہ سب بھی اور ہم بھی، بلآخر میں نے کھنکھار کر گفتگو شروع کی اور یہاں میری ہر ایک کو “بیٹا” کہ کر بات کرنے کی دیرینہ عادت کام آئی……… گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو بات دراز ہوتی گئی بگھا ان خواجہ سراوں کا گرو تھا اور بات کرنے کی ذمہ داری بھی اس کی تھی. اسے سراج الحق صاحب کے اس بیان کا معلوم تھا جس میں انہوں نے کارکنوں کو خواجہ سراوں کی مدد کی ہدایت کی ہے . بات کرتے ہوئے اس کی آواز بھراگئی…….”بھیا چائے کا یہ کپ دیکھ رہے ہو یہ ایک کپ ہے اور ہم ساتوں مل کر اسی ایک کپ میں سے باری باری پی رہے ہیں”
یہ سب بڑا دلخراش تھا…….. دل چاہ رہا تھا سب چھوڑ چھا ڑ کر یہاں سے بھاگ جایا جائے ۔”ناچ گا کر یا سگنلوں پر مانگ تانگ کر کچھ مل جاتا تھا اب تو فاقوں کی نوبت ہے” ان حالات میں ہمیں کون پوچھے گا…؟ بات کرتے کرتے بگھا بار بار کانوں کو ہاتھ لگاتا ۔ بگھا نے پچھلے الیکشن میں عارف علوی صاحب کو ووٹ دیا تھا ۔۔۔ اب عارف علوی ان سب سے دور ۔۔۔ بہت دور چلے گئے ہیں ۔۔۔ ہم نے جماعت اسلامی کی طرف سے راشن ان کے حوالے کیا اور اجازت مانگی…….. چلتے چلتے بگھا نے عجیب سی فرمائش کی کہ تم ہم غریبوں کے ہاں آئے ہو ہمارے پاس مہمانداری کیلیے کچھ نہیں….. تم بس دعا کرادو لیکن یہ دعا ہماری طرف سے ہوگی ۔ پتہ نہیں اس بات کا کیا مطلب تھا ……..میں نے کہا تم دعا کراو ۔۔ ہم آمین کہیں گے ( کچھ لوگوں کو شاید اعتراض ہو لیکن اللہ معاف کرنے والا ہے) اس نے کہا نہیں دعا تمہی کراو ………ہم بس آمین کہیں گے .میں نے دعا کیلیے ہاتھ اٹھائے سب نے بہت سلیقے سے دوپٹہ اوڑھ لئیے ………میں نے دعا شروع کی وہ سب آمین کہتے رہے ……..سب سے آخر میں براجمان صباء کی آواز بھرا گئی اور اس نے اپنے پھٹے ہوئےدوپٹہ سے آنسو پونچھے ۔
ہم خدا حافظ کر کے روانہ ہوگئے ۔۔۔
واپسی میں کیچڑ سے بھری سڑاند زدہ نیم تاریک گلیوں سے گذرتے ہوئے۔۔۔ پتہ نہیں کیوں طبعیت بے تحاشا اداس ہوگئئ ………دل چاہ رہا تھا زمین پھٹ جائے اور ہم سب اس میں سماجائیں ۔۔۔ کانوں میں صباء کی بھرائی ہوئی آواز میں آمین کی صدا گونج رہی تھی. زندگی باہر اسی طرح رواں دواں تھی قریب کی مسجد سے عصر کی اذان کیلیے موذن کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر ……اللہ اکبر ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں