میکہ لاک ڈاؤن – فریحہ مبارک




آج سے دو ماہ قبل کوئی کہتا کہ تمہاری عزیز ترین جائے سکونت میکہ جانا ایسا ہو گا گویا سات سمندر پار بیاہی لڑکیاں حسرت سے میکے جانے کا انتظار دن، مہینےاور گھڑیاں گن گن کر کرتی ہیں،۔۔۔۔۔۔توکون یقین کرتا کہ بھئی 20 منٹ کے فاصلے پر تو میکہ ہے ،بس اپنی آمد کی اطلاع دی اور نکل کھڑےہوئے ،لیکن !
آج جب کرونا لاک ڈاؤن نے شہر تو کیا دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے، دن پر دن بیت رہے تھے،لیکن امی سےملنے کی کوئی سبیل نظر نہ آتی تھی،فون پر تو سب رشتہ داروں کی خیریت معلوم ہو رہی تھی لیکن امی سے ملے بغیر دل بے قرار ہوا جا رہا،امی کے سامنے ملنے کا ارادہ جب ظاہر کرتی ،امی آنے کا اصرار کرنے کی بجائے کہتیں کہ ۔۔دیکھ لو آسکو تو آجاؤ ،ویسے نکلنا تو نہیں چاہیے آج کل ۔۔۔ کیوں کہ انھیں معلوم تھا کہ میرا آنا مشکل ہے۔۔ اس دوران موقع پاکر بھائی یاسر نے بھی ہمارے گھر جھانک لیا تھا ،پھر ایک بہن ثمرین نے خبر دی کہ میں امی کی خیریت معلوم کر آئی ہوں ،اور کل جب علاقے سیل ہونے کی خبر سنی تو دل دھواں دھواں ہونے لگا،۔۔اللہ بھلا کرے…….ہمارے صاحب کا کہ جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات خود بخود ڈال دی,اور ذرا دیر میں بچوں کی شام تک کی ناشتے کھانے کی تیاری کے بعد نکلنے کا قصد کیا، تو پیچھے سے کئی تشویش بھری اور پریشان کن آواز وں نے دامن پکڑنا چاہا !!
کہاں جارہی ہیں ؟ کب تک آئیں گی؟وہاں کون کون آئے گا؟کون کون آپ کے ساتھ جا رہا ہے؟لاک ڈاؤن سے پہلے آ جائیں گی؟اگر راستے سیل ہو گئے تو کیسے واپسی ہو گی؟۔۔ الغرض سب کو جواب دے کر ہم شہر کے چوراہوں اور سڑکوں پر جگہ جگہ کھڑے کنٹینرز،ٹینکرز کی بھول بھلیوں کے بیچ سے راستہ بناتے ،پولیس کو دل ہی دل میں سیلوٹ کرتے خواب نگر میکے پہنچے، تو پہلے دل میں ملنے کے نئے آداب اور نیا دستوردہرایا ،جسے سوچتے سوچتے رات آنکھوں میں ہی کٹ گئی تھی ۔۔ یہ نئے مزاج کا شہر ہے۔۔ یہاں فاصلوں سے ملا کرو ۔۔۔۔امی جو آگے بڑھ کر ملتیں ہیں ،اپنی جگہ کھڑی رہیں ۔سب سے پہلے میں نے اسکارف کوٹ باہرٹیرس میں ہی دھوپ میں رکھا ،اور اندر آکر دور سے امی کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا ،جیسے لاہور جاتے ہوئے ہم ریلوے اسٹیشن پر ٹرین سے ہاتھ ہلا کر چھوڑنے یا لینے والوں کو سلام کیا کرتے تھے,پھر امی تو بیڈ کے سرہانے کی طرف بیٹھ گئیں میں 5 فٹ دور دوسری طرف پائنتی پر بیٹھ گئی،ہاتھوں کو سینیٹائزر سے صاف کیا,ہر چھونے والی چیز پر ڈیٹول اسپرے کیا،اورمذید احتیاطی تدابیر پر عمل کیا،اسی دوران بھتیجی فریال آگئی اچانک دیکھ کر حیران رہ گئی ، اور نمناک آنکھیں لئے کہنے لگی ۔۔۔۔
شکر ہے کوئی تو ملنے آیا ۔یہ بڑا جذباتی لمحہ تھا کہ گلے ہی لگ جاتے،لیکن ابھی تو ہاتھ ملانے کی اجازت بھی ختم تھی۔۔۔یہاں سے ہم چند قدم دور بہن کے گھر اچانک پہنچے وہاں دروازہ بھانجے حسان نے کھولا،اور ایسے دیکھا جیسے ہم ابھی کوئی لطیفہ سنائیں گے اور محفل گرم ہو جائے گی,جب کہ ہم تو دروازے سے سلام دعا کی نیت سے گئے تھے، لیکن چند منٹ کا سوچ کر محتاط انداز میں دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اندر چلے گئے،بھانجیاں شفاء ،اذکی،حفصہ نے ایسے دیکھا جیسے ہم کوئی خلائی مخلوق ہوں جو مریخ سے اڑن طشتری کے ذریعے براہ راست ان کے گھر آن پہنچے ہوں،یہاں سے جلد ہی واپسی کا قصد کیا ،راستے میں خریدار دکان کے آگے لائن لگائے کھڑے تھے کچھ گاہکوں کے ہاتھ میں اسپرے تھے….. جسے وہ سودا اور نوٹ لینے کے بعد ان پر کر رہے تھے،ہمیں کبھی میکے سے واپسی کی اتنی جلدی نہیں ہوتی تھی ،لیکن آج یہاں جیسے آنے کی بے صبری تھی اسی طرح اب واپسی کی بھی جلدی تھی ،کہ لاک ڈاؤن کا وقت قریب آ لگا تھا،اور گھر میں سب بچے انتظار کر رہے تھے۔۔ نکلنے سے پہلے میں نے ان تمام جگہوں اور چیزوں پر اسپرے کیا جو میرے استعمال میں رہی تھیں ،خلاف روایت امی سے گلے ملے بغیر دور سے کئی بار ہاتھ ہلا کر سلام کیا ،اور جلدی سے وہاں سے نکل گئے .
واپسی پر گاڑی میں بیٹھتے ہیں میاں صاحب نے پوچھا ۔۔ دل میں ٹھنڈ پڑ گئی ؟میں نے انھیں ان کے اس کارنامے پر خوب سراہا ۔۔۔یہ واقعی ایک مہم تھی .جسے سر کرنے کا سہرا سید اشرف اللہ حسینی کے سر جاتا تھا

2 تبصرے “میکہ لاک ڈاؤن – فریحہ مبارک

  1. شاندار ماشا اللہ۔۔ ایسا لگا جیسے ہم ساتھ ساتھ جا رہے ہوں ۔۔ خوبصورت تحریر بہت برجستہ

اپنا تبصرہ بھیجیں