احساس – فرح مصباح




“مما آپ نے صرف پکوڑے بنائے ہیں.آپ جانتی ہیں مجھے پکوڑے بالکل نہیں پسند” ….
سارا اپنی ماما کومل کو افطار پر کہنے لگی. کومل جہاں رمضان کی آمد پر بے پناہ خوش تھی، وہیں ذمہ داری بڑھ جانے کے احساس سے فکر مند بھی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ رات میں خوب عبادت کرسکے مگر پورے دن کے کام کاج کے بعد اتنی تھک جاتی کہ بس تہجد پڑھ پاتی اور پھر دو پراٹھے،انڈے،لسی،چائے سالن کی آوازوں میں کھو جاتی۔ پھر فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی تلاوت کر کے آرام کر لیتی۔ پھر اٹھ کر تلاوتِ کلامِ پاک کرتی اور تلاوت کرتے کرتے ہی اس کا دھیان پھر سے کباب، فروٹ چاٹ کی جانب چلا جاتا اور پھر سے وہ کچن میں الجھ جاتی اور ایسا الجھتی کہ افطار سے کچھ دیر قبل ہی فارغ ہوتی۔
آج سب ساتھ مل کر افطار کرنے بیٹھے تو اللہ اکبر کی صدا پر سب افطاری کرنے میں مشغول ہوگئے۔ آج اتفاق سے سارا کی نانی بھی افطار پر آئی ہوئی تھیں۔ جب انہوں نے اپنی بیٹی کومل کو کچن میں ٹائم صرف کرتے دیکھا تو سوچا کہ آج میں ضرور بچوں سے بات کروں گی۔ جب تراویح کے بعد سب فارغ ہوئے تو نانی سب کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگیں……. “اسلام ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے اور نبی پاک صلی اللّہ علیہ وسلم کے گھرانے میں فاقہ کے باوجود روزے رکھے جاتے تھے اور روزے میں کم چیزیں ہونے کے باوجود اگر کوئی فقیر صدا دیتا تو وہ چیزیں بھی اس فقیر کو دے دی جاتی تھی اور اس پر بھی وہ رب کے شکر گزار ہوتے۔ ہمیں چاہیے کہ ناصرف سحری افطاری سادگی سے کریں، بلکہ اللّہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سب گھر والے کچن میں ہاتھ بھی بٹھائیں اور نبی پاک کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے ساتھ بھوکوں اور غریبوں کا بھی خیال رکھیں اور جھوٹی اور بری بات سے بچیں تاکہ ہم رمضان کا پورا احترام کرکے اس ماہِ مبارک سے فیض اٹھا سکیں۔
بیٹا ہمیں چاہیے کہ اپنے گھر میں کام کرنے والی ماسیوں سے بھی کم کام لیں کیونکہ وہ بھی روزے میں ہوتی ہیں”….. یہ سب باتیں سنتے ہی سب گھر والوں نے عزم کیا کہ اب سے ہم سب بھی ان باتوں پر عمل کریں گے تاکہ اللّہ اور اس کے نبی پاک کو راضی کرکے دونوں جہانوں کی کامیابی حاصل کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں