اے پیکرِ گِل ! کوششِ پیہم کی جزا دیکھ – فرحت طاہر




رمضان سے چند پہلے کزن کا امریکہ سے فون آیا ……. وہ اکثر وہیں اپنی بیٹیوں کے پاس ہوتی ہیں .
خود بهی امریکن نیشنل ہیں … کچه عرصے پہلے وہاں ان کی انجیوپلاسٹی ہوئی تهی .مجهے شرمندگی محسوس ہوئی کہ میں ان کو خیریت کا فون نہ کر سکی تهی .مگر ان کے لہجے میں شکایت نہیں بلکہ معمول کی بشاشت تهی .کرونا کی خبروں کے بعد وہ اپنے مدعا پر آگئیں .
اپنی بہو کی بہن کو رمضان کے آن لائن دورہ قرآن کے پروگرام سے باخبر کروانا چاہ رہی تهیں …. مجهے یاد آیا کچه عرصہ پہلے انہوں نے بتایا تها کہ میری سمدهن کراچی شفٹ ہونے والی ہیں .میں تمہیں ان کا ایڈریس دوں گی کہ انہیں جماعت میں شامل کرنے کے لیے رابطہ کر لینا . مصروفیات کے انبار میں اس کی نوبت ہی نہیں آئی لیکن اب لاک ڈاون میں جب ملاقات ممکن نہیں تو آسان سا ہدف سامنے ہے!
جی ہاں بس کلک ہی تو کرنا ہے ….
ان کا کہنا تها وہ تم سے خود رابطہ کر لے گی اور دوپہر تک اس کا فون آگیا … زندگی سے بهرپور آواز ! “جی آنٹی آپ مجهے روزانہ لنک بهیج دیا کریں ..” اور میں نے اسے آمنہ عثمان کا خلاصہ قرآن واٹس اپ کرنا شروع کردیا پهر رمضان کی آمد پر کوثر مسعود کے یوته پروگرام کا لنک بهی …! وہ ہر وصولی پر بہت محبت بهرا سا جواب بهیجتی ہے .! میں آپا کی دعوتی فکر ، اخلاص اور انداز تبلیغ سے بہت متاثر ہوئی حالانکہ وہ نہ رکن ہیں نہ کارکن! انہوں نے کسی بهی عذر (بیماری، فاصلے،لاتعلقی) کو بہانہ/ وجہ نہ بنایا…. نہ صرف اپنی اولاد کی بلکہ دوسروں کی بهی اصلاح اور تربیت کی فکر! سسرال اور سمدھیانے ایسے تعلقات ہوتے ہیں جو اکثر رشتہ دار ، ہم پلہ ، ہم نظریہ ہوتے ہوئے بھی ناخوشگوار ہوتے ہیں ….. مگر یہاں ان کی خو ش اسلوبی کا اندازہ ہوتا ہے اسلام کی ہمہ گیری کے باوجود اپنے ماحول سے جڑوانا بہتر سمجها
“Think Globally but Act Locally”
جب آن لائن ہی پروگرام اٹینڈ کروانا تها تو وہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا،آسٹریلیا بلکہ خود پاکستان میں بهی ڈهیروں پروگرامز میں سے کسی کو ریفر کر دیتیں .. .مگر ان کا حلقہ خواتین کی طرف متوجہ کروانا ہم پر اعتماد کا مظہر ہے …

اپنا تبصرہ بھیجیں