یہ گھوڑے تازیانہ چاہتے ہیں – حمنہ عمر




گھوڑے بچپن ہی سے بڑے فیسی نیٹ کرتے ہیں مجھے۔
نسیم حجازی کے ناول پڑھتے تو ان کے ٹائٹل جیسے روح میں اتر جاتے ہوں۔ طارق بن زیاد کو دیکھو تو جلتی کشتیوں کے آگے گھوڑے پر سوار، صلاح الدین ایوبی کو دیکھو تو گھوڑے کے اگلے پاوؑں ہوا میں بلند اور نیچے رچرڈ سہما ہوا، کہیں کسی پینٹنگ میں نظر آتا کہ محمد بن قاسم سفید گھوڑے پر سوار ہے اور دیبل کی بندر گاہ پر بحری جہازوں سے اترتے عربی النسل گھوڑوں کی فوج ظفر موج۔ کبھی محمود غزنوی، کہیں شیر شاہ سوری، کہیں بابر، کہیں قطب الدین ایبک ۔۔۔
اور تو اور معراج پر روانہ ہوتا ہوا براق اور میدان کربلا میں اداس کھڑا زخمی ذوالجناح ۔۔۔ گھوڑے مجھے ہمیشہ ہمارے شاندار ماضی کی سیر کرواتے آِئے ہیں۔ بچپن میں بڑا شوق تھا کہ گھڑ سواری سیکھوں۔ کبھی کبھار میلوں پر موقع ملتا مختصر سی سیر کا۔ چند لمحوں کی سیر میں جی چاہتا کہ گھوڑے کا مالک اس کی باگ چھوڑ دے اور اور میں ایک جست میں اس کو دوڑا کر فاتح دیبل کے لشکر میں شامل کر دوں۔
پھر جب سورة العادیات پڑھی، ترجمہ کے ساتھ اور پھر تفہیم القرآن سے تفسیر تو یقین جانیئے گھوڑوں سے عشق ہو گیا۔ گزشتہ دنوں کراچی جانا ہوا تو سی ویو پر مجھے بحرِ عرب کے سامنے اس سفید گھوڑے سے نسبت سی لگی، سواری کی، خوب دوڑایا، مجھے لگا جیسے مجھے حجاج بن یوسف نے بھیجا ہے کہ جاوؑ دنیا بھر کے انسانوں کو کرونا وائرس سے چھڑواؤ۔۔۔
شکریہ میرے تصور کی قوت ۔۔۔ تیرا شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں