ذراسوچیئے




جب کبھی میں olaf کو اور اس کے بادل کو دیکھتی ہوں جو کہ اسے گرمی میں پگھلنے سے بچاتا ہے تو مجھے خدا اور بندے کا رشتہ سمجھ آتا ہے۔۔۔کہ خدا بھی بندے پر ایک ایسا ہی ابر مقرر کردیتا ہے جسے ہم ابرِ رحمت کہتے ہیں جو انسان کو زمانے کی گرمی سے بچا لیتا ہے کیونکہ وہ بہت محبت کرنے والا ہے۔۔۔۔
اللہ،جس کے قبضے میں کائنات کا سارا نظام ہے، ساری بادشاہی اور طاقت اسی کی ہے اور ساری تعریفیں بھی اسی کیلئے ہیں …..وہ اپنے بندوں سے بے حد پیار کرتا ہے،جیسے ماں کا پیار اپنے بچوں سے ہوتا ہے، خواہ وہ بچے سے ناراض ہی کیوں نہ ہو وہ اس کی بھلائی کا ہی سوچتی ہے اور اس کے منانے سے مان بھی لیتی ہے۔۔۔۔اللہ کی محبت بھی ایسی ہی ہے بلکہ اس سے ستر گناہ زیادہ،شاید آجکل وہ ہم سے ناراض ہے مگر وہ منتظر ہے کہ پکارنے والا کب اُسے پکارے گا اور وہ اس کے گناہوں کو معاف کر کے اس عذاب کو ٹال دے۔۔۔۔۔ یہاں ظالم تو انسان ہوا نہ جو اب بھی اپنے کناہ نہ بخشوا سکا۔۔۔
جو اب بھی اس محبت کرنے والے خدا کو منا نہ سکا۔۔۔خدا کی یہی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں وقت دیا کہ ہم سوچیں کہ ہم کیا کر رہیں ہیں اور گناہوں کی تلافی کرلیں، ورنہ وہ بغیر کسی دقت کے ایک ہی ہلے میں سب ختم کر کے ایسے لوگوں کو دنیا میں لے آئے جو اس کے فرنبردار ہوں۔۔۔۔ توبہ کا در کھلا ہے اور جس نے اس سے فائدہ نہ اُٹھایا اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا۔۔
ذراسوچئیے

اپنا تبصرہ بھیجیں