زبان کے بول – آمنہ صدیقی




میں شام کی چائے پینے کیلئے چائے کے کھوکھے میں بیٹھا اردگرد کے مناظر کا مشاہدہ کررہا تھا کہ اچانک میری ساری توجہ اس تھپڑ نے کھینچ لی جو معصوم ”چھوٹے” کے منہ پر پڑا تھا۔۔
“الو کے …….. ! کتنہ دفعہ کہا ہے کہ گاہک کے آنے سے پہلے میز صاف کر لیا کر، کتنی شرمندگی اُٹھانی پڑی تیری وجہ سے”کھوکھے کا مالک شدید غصے میں لگتا تھا اور نہایت بُری طرح جھاڑ پلا رہا تھا۔ ” ………. ، آئندہ اگر ذرہ برابر بھی کام سے لاپروائی برتی تو نوکری سے نکال دوں گا، کام وام کچھ ہوتا نہیں ہے، بس بیٹھا کر کھلاتے رہو سالوں کو۔”پہلے اس نے چھوٹے کو کہا اور منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ مالک کے ہتک آمیز اور غصے سے بھرپور انداز نے اس ننھی جان کی آنکھوں سے دریا رواں کردیا تھا، اور وہ معصوم جان آنسو بہاتے ہوئے خاموشی سے اپنا کام کررہی تھی۔ میری چائے تو ختم ہوگئی تھی مگر سوچیں اسی واقعے کے اردگرد گردش کر رہیں تھیں، کہ کیا ہوجاتا کہ گر مالک نرمی سے سمجھا دیتا یا نرمی سے ہی ڈانٹ دیتا۔ مالک کے لہجے نے پتہ نہیں چھوٹے کے ننھے دل میں کیا اثر کیا ہوگا۔۔
زبان کا بول واقعی انسانی زندگی میں حیرت انگیز طور پر اثر انداز ہوتا ہے کہ اگر لہجہ نرم و میٹھا ہو تو بات نہ صرف دل میں اترتی ہے بلکہ منفی اثر بھی نہیں ہوتا۔۔۔اور سخت و درشت لہجہ باغیانہ سوچوں کو جنم دیتی ہیں۔ موقع و مناسبت کے حساب سے لہجے اور زبان کا درست استعمال عقلمند لوگوں کا شیوہ ہے ……. پتہ نہین کب میری سوچوں نے اس کھوکھے سے نکل کر دورِ مصطفیٰﷺ کے مدینہ کی گلیوں کا رخ کیا، کہ جہاں ایک گھر کے اندر سے اک نسوانی آواز آرہی تھی۔ “اگر کوئی ہمیں کوئی چیز ادھار دے اور پھر کچھ عرصے بعد اسے مانگ لے تو کیا ہمارے پاس انکار کا حق رہ جاتا ہے؟؟؟”کوئی سوال پوچھ رہا تھا۔ آواز سننے والے بتاتے ہیں کہ یہ تو صحابیۃ رسولﷺ حضرت رمیسہ بنت ملحان رضہ اللہ عنہا ہیں جو کسی سے مخاطب ہیں۔ جواب انکار میں آتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب ان کے شوہر ابو طلحہ رضہ اللہ عنہ ہیں، جو ابھی کل ہی سفر سے واپس آئیں ہیں۔ ویسے تو آپ رضہ اللہ عنہ سفر پہ جانے پہ مانع تھے کیونکہ بیٹے کی طبیعت خراب تھی مگر ان کی زوجہ رمیسہ رضہ اللہ عنہا نے انہیں تسلی دی کہ آپ جائیں باقی اللہ معملہ بہتر کرے گا۔۔۔
ابو طلحہ رضہ اللہ عنہ چلے جاتے ہیں اور ان کی واپسی سے پہلے ہی ان کا بیٹا انتقال فرما جاتا ہے۔ جب ان کی واپسی کا وقت آیا تو حضرت رمیسہ رضہ اللہ عنہا نے سب کو منع کردیا کہ کوئی ابو طلحہ رضہ اللہ عنہ کو انتقال کی خبر نہیں دے گا، یہ خبر میں خود ہی ان تک پہنچاؤں گی ۔ ابو طلحہ رضہ اللہ عنہ گھر واپس آجاتے ہیں، ان کی بڑی آؤ بھگت کی جاتی ہے، وہ جب بیٹے کی خیریت کے متعلق پوچھتے ہیں تو رمیسہ رضہ اللہ عنہا بڑی حکمت سے جواب دیتی ہیں کہ وہ بہت آرام اور سکون سے ہے۔ رات کی بھرپور نیند کے بعد حضرت رمیسہ رضہ اللہ عنہا نے ابو طلحہ کو مخاطب کرنے کے مندرجہ بالا سوال پوچھا جس پر ابو طلحہ نے نفی میں جواب دیا……. حضرت رمیسہ رضہ اللہ عنہا پھر گویا ہوئیں ،”اللہ نے ہمیں بیٹے کی شکل میں ایک امانت دی تھی، اور اس نے اپنی امانت واپس مانگ لی ہے” اولاد کی موت کی خبر والدیں کیلئے قیامت سے کم نہیں ہوتی مگر رمیسہ رضہ اللہ عنہا نے ذہانت کا مطاہرہ کرتے ہوئے نہایت بہترین انداز سے یہ خبر ابو طلحہ تک پہنچائی کہ ان کو اس سے بہت حوصلہ اور صبر ملا۔۔۔
سنا ہے کہ غم میں انسان کفر کی حدیں بھی پھلانگ لیتا ہے مگر رمیسہ رضہ اللہ عنہا نے یہ خبر ااس طرح پہنچائی کہ ابو طلحہ رب سے اور قریب ہوگئے۔۔۔ بعد میں ابو طلحہ اس واقعے کا ذکر نبیﷺ سے کرتے ہیں، آپ ﷺ رمیسہ رضہ اللہ عنہا کی دوراندیشی کو پسند فرماتے ہیں اور برکی دعا دیتے ہیں۔۔۔ میں واپس حال میں آگیا، دونوں واقعات بے شک بہت مختلف تھے مگر دونوں مین زبان کے بول کا اثر نظر آتا ہے۔۔۔
یہ زبان دیکھنے میں تو نہایت حقیرسا گوشت کا لوتھڑا ہے مگر اس میں دنیا کو بدل دینے کی طاقت ہے لہذا کوشیش کریں کہ اس کا مثبت استعمال کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں