عیدی – بنت شیروانی




لفظ “عیدی”سنتے ہی جہاں بچے خوش ہوتے ہیں….. وہیں چالیس اور پچاس سالہ خاتون کا دل بھی خوشی سے اچھلنے لگتا ہے جبکہ مرد حضرات اپنے خون پسینہ سے کمائی کے خرچ ہونے کے باوجود فرحت کا اظہار کرنے میں تساہل نہیں برتتے …… منگنی شدہ لڑکی کو عیدی آنے کا انتظار ہوتا ہے.
جبکہ وہی لڑکا جس کی اُس لڑکی سے منگنی ہوتی ہے …… سسرال سے عیدی آنے کے باوجود زیادہ خوشی کا اظہار کرنے سے قاصر رہتا ہے کہ شاید لڑکے ان چیزوں کو اتنی اہمیت نہیں دیتے۰لڑکی کے ہونے والے سسرال سے آنے والی عیدی میں چوڑیاں ، مہندی کی کون اور ایک جوڑا سر فہرست ہیں۰جبکہ لڑکے کے لۓ عطر یا پرفیوم اور ایک عدد سلا یا بغیر سلا سوٹ لایا جاتا ہے۰اور یہ عیدی کا سامان عید سے پہلے پہنچا دیا جاتا ہے۰اس وقت یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا لڑکی کے گھر والے یا لڑکے کے گھر والے اُس لڑکی کو اپنی ” بیٹی ” اور اُس لڑکے کو اپنا ” بیٹا “ماننے سے کیا انکار کر دیتے ہیں جو کہ “منگنی “کے بعد اپنی اولاد کے لۓ ایک جوڑا کپڑے نہیں بنا سکتے..؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا ہر گز نہئں کہ والدین نے منگنی شدہ اولاد کو اپنا “لخت جگر “ماننے سے انکار کیا ہولیکن یہ بچی یا بچے کے ہونے والے سسرال والوں کا ایک انداز ہوتا ہے کہ وہ اُس لڑکے یا لڑکی کو اپنے گھر کا فرد بنانے کے لۓ تیار ہیں . اسی لۓ وہ عید سے پہلے جہاں اپنے گھر کے افراد کے لۓ عید کا جوڑا بناتے ہیں .
وہیں اُس لڑکی یا لڑکے کے لۓ بناتے ہیں۰اور اولاد کے لۓ کپڑے والدین بناتے ہی ہیں۰اسی لۓ عموماً لڑکیاں انتظار میں ہوتی ہیں کہ اُن کی منگنی ہو اور اس منگنی سے شادی کے وقفہ کے درمیان ایک “عید ” یا “بقرا عید “ضرور آۓ تاکہ اس کی “عیدی”آسکے . کیا اسلام عیدی دینے دلانے کی اجازت دیتا ہے؟؟ تواسلام میں تحفہ دینے پر پابندی نہیں۰بلکہ “تحفہ”دینے کو پسند کیا گیا ہے۰ہاں “اسراف“نہ ہو۰اس بات کا خیال رکھا جاۓ۰عیدی صرف چیزوں کی صورت میں یا خالی منگنی شدہ افراد کی نہیں آتی بلکہ شادی شدہ بیٹیوں کے ہاں “چیز وں “کی شکل میں عیدی دینے کا رواج ہے۰جبکہ عید کے دن روپے ، پیسوں کی صورت میں عیدی دی جاتی ہے۰تحفوں کی صورت میں بھی عیدی تقریباً ہر بڑا اپنے چھوٹوں کو عیدی دیتا ہے. منی کارڈ کے استعمال کے بے انتہا بڑھنے کے باوجود عید کے موقع پر عیدی “منی پیپر “کی صورت میں ہی دی جاتی ہے۰اپنا” اے ٹی ایم “یا ” ڈیبٹ کارڈ ” آج تک کسی فرد کا دوسرے فرد کو “عیدی” نکالنے کے لۓ نہیں دیکھا گیا۰اور اسی طرح چیک بھی دیتے کوئی عید کے دن نظر نہ آیا۰
یہ عیدی فرد اپنی حیثیت ،صلاحیت اور رتبہ کے حساب سے بھی دیتا ہے۰ملک کا وزیراعظم اپنے ملک کی عوام کے لۓ ایک اچھے پیغام کے ساتھ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا وعدہ دے کر عیدی دیتا ہے،کالم نویس ایک اچھا کالم لکھ ڈالتا ہے اور یہ اس کی طرف سے دی جانے والی”عیدی “ ہوتی ہے۰تھانے دار بے گناہ قیدیوں کو رہا کر کے عیدی دیتا ہے.عیدی کی باتیں ….. ابھی تو ” خریداری “جیسے مشکل کام سے بھی نہیں گزرے ہیں۰ابھی تو کپڑوں کی سلائی ،”میز پوش پکڑھائی ، بٹنوں کی لگائی ، دوپٹوں کی ترپائی اور بیلوں کی لگائی “ باقی ہے۰
تو پھر ان مصروفیات میں مگن ہونے سے پہلے پہل کیوں نہ ہم اپنے رب سے عید کا تحفہ یا “عیدی ” پورے خشوع وخضوع کے ساتھ مانگ لیں..ہم اس کورونا وبا سے مکمل نجات مانگ لیں.. اللہ سے مساجد کی رونقیں مانگ لیں..حرم پاک کی زیارتیں مانگ لیں ..حج و عمرہ کی سعادتیں مانگ لیں اور جمعۃ المبارک کے اجتماعات اور برکتیں مانگ لیں..بےشک اس سے مانگ کر کبھی نامراد نہ رہیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں