سترہ رمضان,میدان بدر,کرونا اور ارطغرل – افشاں نوید




سب دن ایک جیسے …… یہ محسوسات کی دنیا ہے جو بدل جاتی ہے۔ جب دریا علامت بن جاتے ہیں….. درخت سرگوشی کرنے لگتے ہیں , سمندروں کو گویائی مل جاتی ہے , پہاڑ پیغام رسانی کرتے ہیں اور خموشی گفتگو بن جاتی ہے۔ کتنا اچھا لگتا ہے میں ہمیں ارطغرل کی صورت میں اپنے ماضی کی حسین یادوں سے جڑنا۔
خلافت عثمانیہ کی جھلک ہماری رگوں میں تازہ لہو بن کر دوڑنے لگی ہمارے دل عجیب انداز سے دھڑکنے لگے ….. اقبال دہائی دیتے دنیا سے رخصت ہو گۓ کہ مسلمانوں اپنے عظیم ماضی سے جڑ جاؤ تو مستقبل کی روشنی پالو گے۔ مسلمان غلامی کے لیے پیدا ہی نہیں کیا گیا اور جو غلامی کی رت میں ڈھل جاتا ہے اس میں مسلمانیت کی خو باقی نہیں رہتی۔ یوم بدر ہمیں بتاتا ہے کہ ….. رمضان افطار, سحر , شبینہ , تراویح کی مجالس سے آگے بھی کوئی چیز ہے۔ اگر جنت نماز , روزہ , تراویح , وظیفہ , ختم کی محفل کی ٹھنڈی سڑک سے مل جاتی تو دس برس کی مدنی زندگی پوری کی پوری غزوات اور سرایا میں یوں بسر ہوتی؟جنگ کی تیاری یا میدان جنگ! کس لیے تھا یہ سب؟ قیصروکسریٰ کے ٹھاٹھ باٹھ حاصل کرنے کے لیے یا خدا کی زمین پر اس کی کبریائی کیلئے؟ اقراء …… پڑھو اور پڑھ کر قم فانذر۔۔کھڑے ہو جاؤ اور وربک فکبر۔۔ بڑائی بیان کرو۔ بڑائی تسبیح کے دانوں پر بیان کرنے کو کہا جاتا تو اصحاب رسولﷺ اسلام کا پیغام لیکر دوسری سلطنتوں میں کیوں جاتے؟کیوں قرآن گھوڑوں کو تیار رکھنے کا حکم دیتا؟
یہ جہاد کا خوف ہی تو ہے جو نیویارک ٹائمز ارطغرل کو “سافٹ ایٹم بم” سے تشبیہ دیتا ہے!! کچھ تو ہے جو دل سینوں میں نہیں ٹھہر رہے۔امت کے جوانوں کے بازو پھڑپھڑا رہے ہیں .ہم ایک بار پھر مسلمانوں کا روشن ماضی دیکھ رہے, لکھ رہے ہیں,بول رہے اور محسوس کر رہے ہیں۔اسی وقت کرونا نے پیغام دیا کہ اصولوں کو بنانے والا اصولوں کا پابند نہیں ہے۔ سمندر اپنی حدود کا پابند رینے پر مجبور نہیں ہے وہ زمینوں پر سیلاب بن کر چھا بھی سکتا ہے۔ آگ جلاتی ہے مگر ابراہیمؑ کے لئے گل و گزار بن سکتی ہے۔ قوانین کائنات کے سامنے قدرت مجبور نہیں ہے کہ اپنے بنائےاصولوں کے آگے سر جھکائے کھڑی رہے۔ پالنے میں پڑا بچہ خطابت کے جوہر دکھا کر دنیا کو بتا سکتا ہے کہ میں نبیؑ ہوں۔ کرونا کا سبق ہے کہ ہر انہونی “ہونی” میں بدل سکتی ہے۔
ابھی تو غم کی ماری,سہمی ہوئی دنیا اس نقصان کا تخمینہ بھی نہیں لگا سکی ہے جو اس غیرمرئی مائکروسکوپی جراثیم کے ہاتھوں اٹھایا ہے۔ اب اس دنیا میں سب کچھ ہو سکتا ہے۔ائیر پورٹ بند ہو سکتے ہیں,ملوں کے چولھے ٹھنڈے ہوسکتے ہیں,صنعتوں کے پہیے جام ہوسکتے ہیں, مہینوں جہاز پانی میں کھڑے رہ سکتے ہیں ……. بیت اللہ تک آپ کے لئے بند ہو سکتا ہے, انسان قیدی پرندوں کی طرح گھروں میں پھڑپھڑا سکتے ہیں۔ کرونا نے انسان کو نئے انداز سے سوچنا سکھایا ہے۔ ایک نئی دنیا کی تخلیق کی جانب مائل کیا ہے۔جو پچھلی دنیا سے مختلف ہوگی۔ جس طرح ارطغرل نے دنیا کو بتایا کہ مضبوط بازو تاریخ کے دھاروں کو بدل سکتے ہیں اور کوئی صلاح الدین , کوئی سید احمد شہید, کوئی محمد بن قاسم کسی بھی وقت دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوسکتا ہے۔ 600 برس کی خلافت عثمانیہ کی تاریخ ہمیں بتا رہی ہے کہ 17رمضان 1441 پوچھ رہا ہے کہ ہم سے کیا چوک ہوئی ہے ؟ ہم نے اپنی اولادوں کو درہم اور دینار کا بندہ بنا دیا ,ان کو ماں کی گود سے عیش پسند بنایا۔باپ نے ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کر کے انھیں خواہشات کا غلام بنا دیا۔
اب وہ انہی خواہشوں کی ٹوکری اٹھائے نگر نگر تلاش معاش میں پھررہے ہیں۔ تلاش معاش مقصد زندگی ٹہرا اس بار جو جذبہ ارطغرل نے اسلامی دنیا میں پیدا کیا ہے اس سے اپنی ذاتی زندگی کے لیے کچھ کشید کرتے ہیں۔ روزے کا مقصد نفس پر غلبہ پانا تھا کہ نفس کسی بڑے مقصد زندگی کے لئے کچھ بھی قربان کرنے پر آمادہ ہو جائے۔اتنی تربیت اس ماہ مبارک میں مقصود تھی امت کی تاریخ میں رمضان تو امت مسلمہ کے لیے امکانات اور جہاد کی روشنی سے منور مہینہ تھا۔ جب ایک عیسائی ماں اپنے بچے سے کہتی ہے,ماں کی گود سے کہتی ہے کہ وہ “مشنری” ہے۔ تو مسلمان ماں کیوں اسے اسٹیٹس کو کی راہ کا راہی بناتی ہے۔ ڈاکٹر انجینئر اور بزنس کی دنیا کے ماسوا بھی اس کو کچھ خواب دے سکتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اپنے بچوں کو دولت کے ترازو میں ہم نے تولا۔ ارطغرل نے مسلم دنیا کے جوانوں کو پیغام دیا کہ یہ مضبوط پٹھے تو دنیا پر غلبے کے لیے تھے, یہ تو غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے ہیں۔ یہی یوم بدر کا پیغام ہے کہ فرشتے ضرور آسمانوں سے اترتے ہیں مگر مسلمانوں کی سپاہ کی مدد کے لیے۔ امت مسلمہ کب بدلے گی؟ریاست کو کب ہوش آئے گا؟میڈیا کب اپنی خو بدلے گا؟
ان فکروں سے اوپر اٹھ کر اپنے گھر سے آغاز کرتے ہیں۔ قرآن کیا روشنی دیتا ہے ان حالات میں سیرتﷺ کا کیا پیغام ہے؟اپنے گھر کو قرآن فہمی کا مرکز بنالیا تو بڑا کام ہوگیا۔ 17رمضان صرف 313 پاکیزہ نفوس کو خراج تحسین پیش کرنے کا نام نہیں ہے……. ارطغرل دیکھ کر فنی مہارتوں کو خراج تحسین پیش کر کے کیا ہم نے اپنے حصے کا کام کر دیا؟ کرونا کے بعد کی دنیا کسی کے انتظار میں ہے۔۔۔تیاری کا آغاز ہمیں ابھی کرناہے ایک نئی دنیا ہمیں بلا رہی ہے۔ ارطغرل کے جذبے میدان بدر کا تسلسل ہیں۔ ہمیں نیویارک ٹائمز کے خطرات پر پیشقدمی کرنا چاھئے۔
تیار گھوڑے ہی ہماری شناخت ہیں۔وہ میدان جہاد ہو یا فنی مہارتوں کے میدان یا جدید ٹیکنالوجی سے اسلام کے غلبہ کی تیاری۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں