فضائے بدر پیدا کر …! – آمنہ صدیقی




جس طرح روشنی کی کرن جب اندھیرے کے پُل کو پھلانگ کر آتی ہے اور امید کو نئی تازگی ملتی ہے اور جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔ اس ایک کرن کے پیچھے پیچھے کرنوں کا قافلہ چلتا ہوا آتا ہے اور ساتھ صبح کی آمد کی نوید بھی لاتا ہے۔۔۔
اسی طرح جہالت کے اندھیروں کو دریا برد کرتے ہوئے روشنی کے یہ مسافر دنیا والوں کو یہ خبر سنارہے ہیں کہ جلد ہی دنیا کے افق پر آفتابِ رحمت طلوع ہونے کو ہے۔ شبِ ظلمت شکست خوردہ ہوکر منہ چھپانے والا ہے، اور امن کا عَلَم لہراتے ہوئے اجالے جلد ہی آجائیں گے…… اور پھر خدا کی اس زمین پر قانون بھی صرف خدا کا ہوگا! کون ہیں یہ پیامبر جو اجالوں کو بکھیر کر کالی رات کا پردہ چاک کرنے کیلئے آ کھڑے ہیں؟ جو جہالت کو نیست و نابود کر کے کفر کی دیوار ڈھا کر پرچمِ اسلام کو بلند کرنے کیلئے نکل گئے ہیں؟ ارے یہ تو اتنا مختصر سا لشکر ہے یہ کیا اندھیروں کو ناکوں چنے چبوائے گا، یہ تو خود ان کے گھوڑوں کی چاپوں تلے روندھ دیا جائے گا!!!
دیکھنے والوں کا یہی تاثر تھا۔مگر زمانہ دیکھتا ہے کہ 313 کا یہ قلیل لشکر،
خود کو فراموش کرکے، خدا کے فرمان پہ سر تسلیمِ خم کرتا ہوا، نبیﷺ کی سالاری میں نکلا ہے! لوگ اس لشکر کو دیکھ کر مختلف سوالات کرتے ہیں۔ اتنی مختصر تعداد کے بعدمحدود وسائل ان کے قدم کیوں نہیں ڈگمگا رہا، یہ اتنے پُرعزم کیسے دیکھائے دے رہے ہیں؟؟؟ان کا دشمن اتنا طاقتور ہے، یہ پھر کیوں اتنے بے خوف ہیں؟ اس لئے کہ یہ جانتے ہیں کہ حق کا ساتھ دینے والوں کیساتھ اللہ ہوتا ہے، جو سب سے زیادہ طاقتور ہے اور فتح و شکست وہی دیتا ہے۔۔۔یقین باللہ نے انہیں یہ حوصلہ دیا ہے۔ رہی بات دشمنوں کی تو ان کا سامانِ زیست ان کے کچھ کام کا نہیں، یہ تو بس انہیں دھوکے میں ڈال رہا ہے۔ ان کو بہلا رہا ہے کہ اس سامان اور نفری کے سہارے وہ فتحیاب ہوجائیں گے۔۔۔ یہ کفار اسی دھوکے کا شکار ہوکر شکست سے دوچار ہوگے۔ مگر!! مگر کیا یہ لوگ اپنے ہی رشتہ داروں کے خلاف تلوار اُٹائیں گے؟اگر یہ سوال تمہیں ابو عبیدہ رضہ کو دیکھ کر آیا ہے تو آؤ انہیں سے پوچھ لیتے ہیں۔۔۔
مقامِ بدر پہ لڑی جانے والی یہ جنگ 2 ھجری کو کفارِ مکہ کے خلاف مجاہدینِ اسلام نے حق کے پرچار کیلئے لڑی تھی۔ معرکہ بدر، کفر و اسلام کے درمیان پہلا معرکہ ایک نظریاتی معرکہ۔۔ یوں تو قوم ایک ہی تھی دونوں اطراف لیکن اسلام جہاں آجائے وہاں پر جغرافیائی اعتبار سے بننے والی قومیں اپنی وقعت کھو دیتی ہیں۔۔۔ اسلام کے جھنڈے کے نیچے ہر فرد خواہ کسی بھی قوم کا ہو ایک ہوتے ہیں۔۔ اس معرکہ میں بیٹا باپ کے روبرو تھا، بھانجا موموں کی گردن پر تلوار رکھا ہوا تھا۔ کیوں؟ ابو عبیدہ بن الجراح رضہ اپنے والد کی گردن کاٹ ڈالتے ہیں،
اپنے باپ سے کس کو محبت نہیں ہوتی۔۔ مگر پھر کیوں آج خدا کے ایک ہی حکم پر اسی باپ کو قتل کردیا؟؟ ابو عبیدہ سے یہ سوال کیا گیا تو کہتے ہیں، “بھلا ایسے لوگوں سے میرا کیا رشتہ جو اللہ اور رسول محمدﷺ سے اعلانِ کفر کرتے ہیں اور ان کے خلاف تلواریں اُٹھاتے ہیں۔۔” سبحان اللہ!!
اس مردِ مومن سے ایسے ہی جواب کی توقع تھی، اللہ پر جھوٹی افتراء باندھنے والے، اس کی خدائی میں شریک کربے والے، رسولِ خدا کو ایذاء دینے والے، جان بوجھ کر حق کا انکار کرنے والوں کا خون تو بہایا جا سکتا ہے، مگر ان سے خونی رشتہ نہیں جوڑا جاسکتا۔۔ اندھیروں کا پرچار کر کے اجالوں کے خلاف کھڑے ہونے والوں سے ہمدردی رکھنا خود پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومنین کی ترجیحات میں اللہ اور رسولِ خدا ﷺ سب سے پہلے ہوتے ہیں۔ اور ان کو یہ گوارہ نہیں ہوتا کہ کوئی بھی ان کی گستاخی کرے، ایسے لوگ مومنین کے دشمن ہی ہوتے ہیں۔ خواہ وہ ان کا باپ ہی کیوں نہ ہو……. سننے میں آتا ہے کہ غزوہ بدر میں اللہ نے فرشتوں سے مدد کی تھی مسلمانوں کی؟؟پر اب کیوں آسمان سے فرشتے ہم مسلمانوں کی مدد کو نہیں اترتے؟ غور کرکے بتاؤ کیا ہمارے ایمان اور تقویٰ کا مقابلہ گر اس دور کہ مسلمانوں سے کیا جائے تو بازی کون لے جائے گا؟ شاعر اسی لیے تو کہتے ہیں،
فضائے بدر پیدا کر، فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں