ستم ظریف سہی ضمیر فروش نہیں ہوں میں – صدف عنبرین




اگر شہر کراچی کی موجودہ صورتحال کا نقشہ کھینچا جاۓ تو وبا کا خوف ، طویل لاک ڈاٶن نتیجہ بےروزگاری کا طوفان سڑکوں پہ بھوک کا رقص ، کچی آبادیوں سے نکل کر فاقہ اب سفید پوش محلوں میں بھی دندنا رہا ہے……
اگر یہ کہا جاۓ کہ اہلِ کراچی کے سخی ہاتھوں کا کڑا امتحان آکھڑا ہوا ہے تو غلط نہ ہوگا ……کیونکہ اب کے دینے والے ہاتھ نہ صرف اپنی معاش سے بھی فکرمند ہیں بلکہ اسکے ساتھ تذبذب کا بھی شکار ہیں۔ تذبذب اس بات کا کہ کیا واقعی انکا دیا گیا راشن ضرورت مند تک پہنچ رہے ہیں؟ کیااپنا دسترخوان مختصر کرکے دینے والا افطار کسی مفلس کے حلق کو تر کرسکا ؟ یا اپنی ماسیوں،اور مانگنے والوں کے دکھڑوں نے ہمیں اپنے سفید پوش پڑوسی سے بے خبر کردیا ہے؟ میں اس میدان کارخیر میں اترنے کےبعد جو کچھ سمھجی ہوں وہ تمام تر سیاسی اختلاف اور بد گمانیوں سے صرف ِنظر کرتے ہوئے یہ ہے کہ اپنے خیرات صدقہ اور زکوة کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمھجتے ہوۓ اسے بوجھ کی طرح نہ اتاریں بلکہ سفید پوش لوگوں کو ڈھونڈیں ……. اگر آپ مدد کرنے کے ابھی اہل نہیں بھی ہیں تو الخدمت جیسے اداروں کو ان لوگوں کی نشاہندہی کریں جو لائن میں لگا کر ایک ایک گھر کے کئ لوگوں کو راشن دینے کے بجاۓ ہر راشن مستحق کے گھرتک پہنچاتےہیں۔
آپ یہ سوچ لیں کہ سفید پوش اور مجبور ڈھونڈنا کوئی مشکل نہیں ……. اگر مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں کے گھروں تک جایا جاۓ زیادہ ثواب کے لیے محنت بھی زیادہ درکار ہوتی ہے . جب ہم یہ سنتے ہیں کہ لوگ لالچی ہیں راشن بیچ رہے ہیں،مزدوروں کے حلیے میں ہر ایک سے لوٹ رہے ہیں، گداگر گروپ آگۓ ہیں ہر وقت ہی دروازہ بجاتے رہتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر ایک ہی ضمیر فروش ہے مگر جب آپ خود فیلڈ میں اتریں گے اپنہ گلی کے ہر گھرانے کاآپکو معلوم ہونا چاہیے کہ کہیں راشن کی پریشانی تو نہیں اپنے جاننے والوں سےفون پرپوچھ لیا جاۓ ایسے اچھا معلوم نہ ہوبہانے سے دریافت کرلیں کہ آٹا نہیں مل رہا اتنی لمبی لائن ہے ہمارے گھر آگیا ہے آٹا زیادہ آپ کو نہیں ملا تو لے لیں .
اس طرح کس کی عزت نفس بھی مجروع نہیں ہوگی اور جب مستحق کے گھر تک جائیں گے تو یقین جانیے وقت کے ہاتھوں مجبور ہوجانے والے ستم ظریف ہی نظر آئیں گے ضمیر فروش نہیں!!

اپنا تبصرہ بھیجیں