لیلة القدر اور پوسٹ کووڈ لائحہ عمل – افشاں نوید




نہ وہ ہارنے پر تیار تھی، نہ جیت میرا مقصد تھی …….. شاید سے اپنے سوالوں کا جواب نہ مل سکا ہو نہ میں اسے قائل کر سکی تھی۔ ایک طالبہ بس اتنا پوچھ رہی تھی کہ آخری عشرے میں اور کیا کیا پڑھنا ہے؟اتنی نوافل، اتنے وظائف، اتنی تلاوت تو میں ہر سال کرتی ہوں اور مزید کیا پڑھوں؟جس کا بہت زیادہ ثواب ہو۔اتنے لاکھ تو یہ وظیفہ میں پڑھ چکی ہوں۔
میں نے کہا سبحان اللہ، الحمداللہ کہنے اور کلمہ طیبہ پڑھنے پر اتنی ساری نیکیاں ملتی ہیں۔ درود شریف روزےدار پڑھیں تو کتنا مبارک عمل ہے۔ دنیا کے جو سب سے پیارے لوگ تھے۔ آپﷺ کے اصحابؓ تھے۔انہوں نے روزے اور شب بیداری محض ثواب اور برکت کے دائروں میں نہیں گزارے، ان کے من میں اور سودے سمائے ہوئے تھے۔ ابھی یوم غزوۀ بدر وفتح مکہ گزرا ہے رمضان میں۔ یوم باب الاسلام رمضان میں، اسلامی تاریخ کی کتنی جنگیں رمضان میں لڑی گئیں۔ مدینہ منورہ کے بیشتر رمضان جنگ میں یا جنگ کی تیاریوں میں گزرے۔ کوئی روایت نہیں کہ اصحاب رسولﷺ نے معذرت کی ہو کہ ہمیں رمضان میں جہاد سے دور رکھ کر عبادات کا موقع دیا جائے۔ 17رمضان غزوۀ بدر ہوا تو سارا رمضان بلکہ ماقبل بھی تیاری میں ہی گزرا ہوگا۔ 20 رمضان فتح مکہ ہوئی تو ایسا نہیں تھا کہ ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر گئے اور کعبہ شریف کی چابی لینے کی تقریب منعقد ہوگئی۔
اونٹوں کے طویل ترین گرمی کے سفر اور فتح مکہ کے موقع پر تو روزہ بھی توڑنا پڑا تھا کہ امت کو پیغام پہنچے کہ عبادات مقصد نہیں ہیں، مقصد حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ بھوک، پیاس راتوں کا جاگنا، اعتکاف میں دنیا سے کٹ جانا، لمبی نماز پڑھنا، بے وقت کھانا شدید پیاس برداشت کرنا، گھنٹوں کھڑے ہوکر تراویح سننا۔ دنیا میں فزیکل ٹریننگ کی ضرورت نہ ڈاکٹرز کو پڑتی ہے نا انجینئرز، نہ ججز کو۔ نہ سفارتی حکام کو نہ منی مارکیٹ کی دنیا کے لوگوں کو۔ لوگ بڑے بڑے کام کرتے ہیں مگر کوئی ادارہ جسمانی تربیت نہیں مانگتا۔ فوج جیسے ادارے جسمانی تربیت مانگتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہاں مقابلہ دشمن سے درپیش ہو وہاں چوکس سپاہی چاہیے اور شیطان سے بڑا دشمن بھلا کون ہو سکتا ہے؟؟ یہ 720 گھنٹے کی سخت ترین ٹریننگ اسی لیے ہے کہ بقیہ گیارہ ماہ میں جب دشمنِ اول سے مدبھیڑ ہو تو یہ تربیت کام آئے۔ اب طاق راتوں میں جاگنے کا حکم کیوں ہے؟ عبادت تو دن میں بھی ہوسکتی ہے۔ راتوں کی تنہائی صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ رات معرفت کا ذریعہ ہے۔درک کو بڑھاتی ہے۔
اولیا اللہ راتوں سے باتیں کرتے تھے۔ راتیں خلوت میں محبوب کی جلوت سے سرفراز کرتی ہیں۔ 1440ھ تک کی جیسے بھی گزری ہوں1441ھ کی طاق راتیں پوچھ رہی ہیں کہ سنو! اللہ نے اپنے گھر کے دروازے بند کردئیے، مسجد ویران، حرم اداس۔۔ ایسا کیا کیا ہے تم نے، کیوں اتنا ناراض کردیا اپنے رب کو؟ آئیےخود سے پوچھتے ہیں! ایسا رمضان تو زندگی میں آج تک نہیں دیکھا کہ مسجدوں کے دروازے بند، تراویح کی مجلس ویران، اللہ کے گھروں میں تلاوت کی صدائیں نہیں، معتکفین رات بھر تلاوت میں مصروف رہتے تھے مساجد میں۔ مومن اطراف سے بے خبر نہیں ہوسکتا۔ ہمارے بالکل پڑوس میں کل کابل پر ہسپتال پر حملہ ہوامعصوم عورتیں بچے شہید ہوئے، کشمیر میں لاک ڈاؤن مزید سخت کردیا گیا رمضان میں کتنی شہادتیں ہوئی ہیں یہاں۔ ہم ہی تو تھے جو نماز، تلاوت میں لگے رہے اور رمضان کو فیسٹیول و بازار بنا دیا گیا۔ ہم رمضان میں نیکیوں کی لوٹ سیل سے گیارہ مہینے کے لئےنیکیاں لے جاتے کہ باقی جو چاہیں کریں۔
ایسا نہیں ہے کہ امت کے اجتماعی بگاڑ میں میرا حصہ نہیں ہے؟ صرف ایک سوال خود سے پوچھ لیں کہ قرآن جو شب قدر کا تحفہ ہے، اس کی وجہ سے یہ رات قدر والی قرار پائی۔ کیا ہمارے بچوں کو اتنی عربی آتی ہے کہ وہ قرآن کا ترجمہ اور فہم حاصل کرسکیں؟ ہمارے بچے سال کے 365 دنوں میں کتنے گھنٹے قرآن کو دیتے ہیں؟ طاق راتوں میں اس سوچ کے عمل کا آغاز کرتے ہیں جس کے سینکڑوں عنوان ہیں۔
ہمارے بچے جو بڑی بڑی ڈگری حاصل کر رہے ہیں، موٹی موٹی کتابوں میں گم رہتے ہیں سال کے کتنے گھنٹے علوم شریعہ کے حصول میں گزارتے ہیں؟ معمولی مسائل کے لئے ہم مولوی تلاش کرتے ہیں ہم نے فقہ کا جزوی سا علم بھی نہیں دیا اپنی نسل کو۔۔۔ آئیے طاق راتوں میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ سوچتے بھی ہیں کرونا کی عذاب میں گرفتاری کی وجہ کیا ہے؟ اللہ کو کیسے منائیں؟ اب زندگی کو کیسے پلان کریں پچھلے اعمال کی کیسے تلافی کریں۔ امت کا خون بہتا رہا، دنیا فساد سے بھرتی رہی۔ عیسائی مشنریز کتنا پیسہ اور وقت اپنے مذھب کی تبلیغ پر خرچ کرتے ہیں۔ دنیا کے ٹی وی چینلز ان کے جو جی بھر کے فحاشی پھیلا رہے ہیں۔ رسائل وجرائد ماہانہ کروڑوں کی تعداد میں چھپتے ہیں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے۔ وہ اپنے بہترین اذہان کو مبلغ بنا رہے ہیں۔
ہم۔۔۔۔۔اپنی زندگی کے لیے آسائشوں کے حصول میں کھپے ہوئے ہیں۔ ایک سال میں کتنا پیسہ، لباس اور کھانوں پر خرچ کرتے ہیں اور کتنا پیسہ ہم اپنے دین کی اشاعت وتبلیغ یا اپنے خاندانوں کے انٹلیکچوئل لیول کو بڑھانے پر لگاتے ہیں۔ کہنے والے نے کہا ایک گردن کے نیچے کی دنیا ہے ایک اوپر کی۔ ہم پچانوے فیصد وسائل صرف پیٹ اور لباس پر لگاتے ہیں، دماغ اور روحانی آبیاری کے لئے ہمارے پاس وقت ہے نہ پیسہ۔۔۔ عبادت کی گھڑیاں ہیں اور قربت کے دور۔۔۔رات کی تنہائی میں، کسی طاق رات میں خود سے سچ بولیں۔ مسلمان ہونے کا جو قرض تھا ہم پر کیا عبادت سے آگے بھی اس کے تقاضے تھے؟ ایک ہزار برس دنیا پر مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔ اسلامی فتوحات کا شاندار ماضی پوچھ رہا ہے کہ غلامانہ ذہنیت کے ساتھ کب تک جئیو گے؟؟ طاق راتوں میں کچھ نئے عزم کرتے ہیں۔ پوسٹ کووڈ عزائم ۔۔۔جنکی کرونا کے بعد کی دنیا منتظر ہے۔
پھر راتوں کی یہ تنہائی جانے کب نصیب ہو۔۔۔۔اور راتیں بھی قدر والی۔جن کا ہم ادراک ہی نہ کرسکے!!

اپنا تبصرہ بھیجیں