کراچی میں عمارت گرنے کا واقعہ، مزید تین افراد کی لاشیں نکالی گئی




کراچِی: کراچی کےعلاقے کھڈا مارکیٹ میں اتوار کوگرنے والی عمارت کے ملبے سے مزید تیں افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں

پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی کئی افراد بشمول خواتین اور بچے تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور انہیں نکالنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اس سے قبل چھیپا ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا تھا کہ عمارت کے ملبے سے صبح کے وقت تین لاشیں نکال لی گئی تھیں۔ لاشوں میں سے دو کی شناخت 20 سالہ شہزاد عمر اور 23 سالہ میمونہ کے نام سے ہوئی تھِی۔

قبل ازیں عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے شاہد نامی شخص کو زندہ نکال لیا گیا تھا جس کے بعد اسے فوری طور پر علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا اور جان کی بازی ہار گیا۔

امدادی سرگرمیوں میں مصروف ریسکیو اداروں کے مطابق ملبے سے ایک دو سالہ بچی کی نعش بھی برآمد ہوئی جسے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ مخدوش عمارت کے زمیں بوس ہونے کا حادثہ دو روز قبل وقوع پذیرہوا تھا۔

کراچی: گلبہار میں عمارت کے ملبے سے ایک اور لاش برآمد، ہلاکتوں کی تعداد 27 ہوگئی

ہم نیوز کے مطابق پاک فوج، رینجرز اورامدادی اداروں نے ریسکیوآپریشن میں حصہ لیا جب کہ پولیس نے اطراف کی عمارات کو بھی حفظ ماتقدم کے طور پر خالی کرایا۔ 

پاک فوج کی انجینئرنگ کور کے جوانوں نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ سراغ رساں کتے بھی موجود رہے جو ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کی تلاش میں مدد دے رہے تھے۔

کراچی:کم رقبے پر تعمیر بلند عمارتوں کیخلاف آپریشن جاری

حادثے کی ابتدا میں امدادی اداروں کے رضاکار اہل محلہ کی مدد سے امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ علاقہ مکینوں کو خدشہ ہے کہ عمارت کے ملبے میں ابھی کئی افراد دبے ہوئے ہو سکتے ہیں۔

کھڈا مارکیٹ میں زمیں بوس ہونے والی مخدوش عمارت سے متصل عمارت بھی خطرناک قرار دی جا چکی ہے۔ 

علاقے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گرنے والی عمارت کے ساتھ ہی قریبی عمارت کی چھت کا بھی ایک ٹکڑا گرا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کھڈا مارکیٹ لیاری میں چھ منزلہ عمارت زمیں بوس ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں  متعدد افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوئے تھے۔

کراچی: گلبہار میں زمیں بوس ہونے والی عمارت کے متاثرین کا احتجاج

ہم نیوز کے مطابق نیا آباد گلی نمبر چار میں عمارت گرنے کا حادثہ پیش آیا تھا۔ حادثہ کے روز ریسکیو حکام، جدید آلات سے لیس پاک فوج کے انجینئرز اور جوانوں نے امدادی کاموں میں حصہ لیا تھا۔ پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ سراغ رساں کتے بھی موجود تھے جو ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کی تلاش میں مدد دے رہے تھے۔

ہم نیوز کو موصول دستاویزات کے مطابق ایس بی سی اے کی مخدوش عمارتوں کی ٹیکنکل کمیٹی نے16 مارچ کو اس رہائشی عمارت کا معائنہ کیا تھا۔

ایس بی سی اے کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پلاٹ نمبر 635 پر بنی ہوئی پانچ منزلہ عمارت انسانی زندگیوں کےلیےخطرناک ترین ہے۔

دستاویزات کے مطابق  18 مارچ کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عمارت کے یوٹیلٹی کنکشن منقطع کرنےکے لیے ایس ایس جی اورکے الیکٹرک کو مراسلہ لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شیریں بائی عمارت انسانی زندگیوں کےلیےخطرہ ہے اس لیے اس کے کنکشن منقطع کیے جائیں۔

دستاویزات کے مطابق 18 مارچ کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 15 روزمیں شریں بائی کے مکینوں کوعمارت خالی کرنےکے لیے نوٹس چسپاں کیا تھا۔

The post کراچی میں عمارت گرنے کا واقعہ، مزید تین افراد کی لاشیں نکالی گئی appeared first on ہم نیوز.

اپنا تبصرہ بھیجیں