ایسے حالات میں ہی جینا ہوگا – عالیہ عثمان




عبداللہ بیٹا آپ کیوں پریشان ہیں ؟ ماما اسکول بند ہوئے چار مہینےہو رہے ہیں …….. سارے پارک بند اور میری پسندیده جگہ زوہے وہ بھی بند، اب بتائیں میں کیا کروں گھر میں ؟ مہمان بھی کم کم آتے ہیں …… ہم بھی کہیں نہیں جاتے . یہاں تک کہ کسی سے ہاتھ بھی نہیں ملا سکتے۔
ماما یہ کیسی زندگی ہوگئی ایسا کیوں ہو گیا بیٹایہ وبا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے …… اس میں ہم جتنی احتیاط کر سکتے ہیں کررہے ہیں . یہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئی ہے . آپ دعا کریں یہ وبا اللہ میاں جلد اٹھا لیں ۔ یہ بات تو طے ہے اور طبی ماہرین کی آراء بھی سامنے آچکی ہیں کہ آئندہ ہمیں ایسے حالات میں ہی زندہ رہنا سیکھنا ہوگا ، جو اس وقت ہیں یعنی و باوں کے حملہ آور ہونے کا خطرہ بھی موجود رہے گا ۔ وزیراعظم کا موقف ہے کہ ہمیں انفیکشن بڑھنے کے خطرات کے باوجود کرونا وائرس کے ساتھ رہنا سیکھنا اور معمولات زندگی کو بحال کرنا ہوگااب انتہائی باوسائل ممالک بھی وائرس کی موجودگی کے باوجود زندگی کی سرگرمیاں اس سروس شروع کرنے کی راہ پر گامزن ہیں پاکستان میں بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ کاروبار زندگی بحال کیا جائےاور یہ امر اطمینان بخش ہے کہ اس عمل کاآغاز ہوگیا ہے ….. تاکہ لاک ڈاؤن کے باعث بے روزگار ہو جانے والے اپنی روزی آپ کما سکیں.
اس وائرس کا خوف محضبالغ افراد تک محدود نہیں یہ بچوں میں بھی منتقل ہو رہا ہے . جس کے نتیجے میں انہیں پڑھا جارحانہ انداز اور جسمانی مسائل بڑھ رہے ہیں…… جب کہ بعض بچے نیند کی کمی کا شکار ہیں . یہ بات بھی ذہن نشین کرلی جائے کہ اس مرض کا پھیلاؤ عارضی اور وقتی ہے سدا ایسے حالات نہیں رہیں گے. اس وقت بھر فرد کو خاص طور پر اپنے بچوں کے لیے ایک مثالی نمونہ بننا چاہیے …. تاکہ انہیں بہتر انداز میں معاونت فراہم کی جا سکے. ہمیں اپنا فارغ ٹائم بچوں کو دینا چاہیے اور ایسی دلچسپ سرگرمیوں میں مصروف رکھیں جو تعمیری نوعیت کی ہو مثلا ، کتب بینی دعائیں یاد کرو ……. اناانڈور گینس باغبانی یا کھانا پکانا وغیرہدنیا اس وقت ایک ایسے بحران سے گزر رہی ہے جس میں خوف اور بے یقینی کا دور دورہ ہے لیکن انتشار اور انسان امید کا دامن تھامے رکھ سکتا ہے اور وہی وہ منفردخاصیت ہے جو ہر مشکل کو آسان بنا دیتی ہے.
خوشی بھی ہوتی ہے اور کچھ حسرت بھی کہ بہت سے ممالک نے تو کرونا پر قابو پاکر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں. اسکولوں میں بچے بچیاں مسکراتے چہروں کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں …. بازار کی رونقیں بحال ہورہی ہیں ، جبکہ پاکستان میں لاک ڈاؤن دوبارہ کرنا پڑ رہا ہے. شہروں میں بعض علاقے پر بند ہو رہے ہیں اور ان کی طرح کرونا کی خوفناک وبا کے دوران بھی ہم پاکستانیقومی یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کر سکے یہ وقت ایک دوسرے کی خبر گیری کا ہے یہ وہ وقت ہے ……
جب سب پاکستانیوں نے اسدشمن وبا کے خلاف مل کر لڑنا ہے پاکستان میں چونکہ بڑی تعداد میں لوگ غریب ہیں اور ضروریات زندگی ان کو پوری طرح میسر نہیں ہے غریب طبقہ کی ضروریات زندگی کو پورا کرنامخیر حضراتکی ذمہ داری یہ ہے وقت آگےبڑھ کر ایسے لوگوں کا سہارا بن جائیں جوسہارے کے محتاج ہیں اسی جزبے کے ساتھ یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں