دورِ وبا اور غریب طلباء کے مسائل – عمیمہ ساجد




پڑھنے کیلئے کتاب کھولی تو ذہن پہ ایک فکر نے دستک دی …….. اس فکر کا تعلق پاکستان کے اس مستقبل سے ہے . جسے سنوارنے کے لیے اس ملک کے معمار دن، رات مستقل محنت میں لگے رہتے ہیں ۔ یہاں محنت سے مراد علم کا حصول اور اسی علم کی بدولت وطن عزیز کی خاطر کچھ کر دیکھانے کا جذبہ ہے…
پاکستان میں ایک طرف جہاں وباء کے پھیلاؤ نے ملک کی معیشت کے پہیے کی رفتار کو نہایت سست کردیا ہے تو وہیں دوسری طرف طالب علموں کو بھی تعلیمی مسائل کا سامنا ہے. تعلیمی اداروں میں حکومت کی طرف سے لگائی گئی تدریسی عمل پر بندش برقرار ہے۔ تاہم حالات کے پیشِ نظر تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کی جانب سے آن لائین کلاسز کا آغاز کردیا گیا ہے . لہذا روزانہ کی بنیاد پر آن لائین سیکشنز اور تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء کی اکثریت کا تعلق غریب اور سفید پوش طبقے سے ہے۔ جن کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا بھی نہایت مشکل ہے لکین اس کے باوجود بھی والدین تعلیمی اداروں کی بھاری فیس کا بوجھ برداشت کرتے ہیں اور ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہے ہیں…
اب بات یہاں غور کرنے کی ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث ان تمام غریب اور سفید پوش گھرانوں کے معاشی حالات نہایت حساس رہے ایسے میں انکے لیئے تعلیمی اداروں کی فیس کے ساتھ آن لائین کلاسز کے لیے اسمارٹ فونز اور نیٹ کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں…
اسکے علاوہ ہم اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرسکتے کہ ہمارے ملک میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق امیر طبقے کی نسبت غریب طبقے میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ جنکے پاس کتابیں خریدنے کی استطاعت بھی نہیں ہوتی لہذا وہ اکثر و بیشتر کتابیں ادھار لے کر بھی پڑھتے ہیں تو ذرا سوچئے! ان طلباء کے پاس اسمارٹ فونز کا ہونا یا انھیں خریدنا کس طرح ممکن ہے؟
اگرچہ یہ مسائل اسی طرح ہی رہے تو ہوسکتا ہے کہ ان حالات سے مجبور ہو کر ایسے طالب علم جو اپنے اور پاکستان کے مستقبل کو بدلنے کی قابلیت رکھتے ہیں تعلیم سے محروم ہو جائیں اور ہمارے ملک کا آنے والا روشن مستقبل تاریخی میں ڈوب جائے…
رب العالمین سے دعا ہےکہ وہ پاکستان کو جلد از جلد ان مشکل حالات سے نکلنے میں رہنمائی عطا فرمائے۔ آمین…

اپنا تبصرہ بھیجیں