اے قوم کی ماں! ہم شرمندہ ہیں – فاروق بھٹی




سلام ماں جی ….! ہم شرمندہ ہیں …… ہمیں معاف کر دیں !
آپ اپنے عظیم بھائی کو بتا دیجئے گا کہ صدارتی الیکشن میں اس قوم نے روشنی کا منبع آپ کا انتخابی نشان “لالٹین” گدھے کے گلے میں ڈال کر گلی گلی گھمایا تھا اور آپ کی بہن کو “عورت کی سربراہی …….. حرام !” کہہ رد کر دیا تھا ۔ آپ کلکتہ یونیورسٹی سے 1923ء میں ڈینٹل سرجن بنی تھیں…… تو آپ کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک وقت آئے گا جب آپ نوزائیدہ مسلم ریاست کے ملازمین کے دکھانے اور کھانے کے دانتوں میں فرق نہ کر پائیں گی ۔
بھائی جان کو بتائیے گا کہ آپ کی وفات کے بعد مجھے قوم سے خطاب کرنے سے روک دیا گیا۔ یہ بھی بتائیے گا کہ 1951ء میں جب ریڈیو کے لئے آپ کا انٹرویو ریکارڈ کیا گیا ……. تو لیاقت انتظامیہ نے بیہودہ سنسرشپ سے اس کا حلیہ بگاڑ کر نشر کیا ۔ محمد علی بھائی کو یہ بھی بتائیے گا کہ 1955ء میں آپ نے جو کتاب “مائی برادر” لکھی تھی ، وہ آپ زندگی میں نہ چھپ سکی اور 32 سال بعد 1983ء میں چھپی بھی تو کئی صفحات شامل نہیں کئے جا سکے ۔ ہم معذرت خواہ ہیں ماں جی …..! آپ اپنے بھائی کو بتائیے گا کہ پس منظر میں خاموشی سے وقت گزارتی یہ بوڑھی فاطمہ 71 سال کی عمر میں صدارتی الیکشن کے میدان میں کیوں اتری ، یہ بھی بتائیے گا کہ 1962ء کے دستور کے بعد فیلڈ مارشل کو فیصل آباد کا گھنٹہ گھر کیوں کہا گیا ۔ ان کو یہ بھی بتائیے گا کہ “وہ” جس کو آپ نے سامنے آنے سے منع کیا تھا…… اب وہ کھل کر “سامنے” آ گیا ہے۔
بتائیے گا کہ جب آپ 1954ء میں مشرقی پاکستان گئی تھیں تو بنگالی مسلمانوں نے کیسے پھولوں اور آنسووؑں، آہوں کے ساتھ استقبال کیا تھا ۔اور یہ بھی بتائیے گا کہ پھر دسمبر 1964ء میں جب آپ صدارتی الیکشن کے جلسے کے سلسلے میں دوبارہ مشرقی پاکستان پہنچی تھی تو ڈھائی لاکھ بنگالی مسلمان ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں قائد کی بہن کی ایک جھلک دیکھنے کو امڈ آئے تھے …….! اور چٹاگانگ تک کا صرف 293 میل کا راستہ آزادی ٹرین کے ذریعے 22 گھنٹے میں مکمل ہوا تھا . کیونکہ ہر اسٹیشن کے باہر بنگالیوں کا ہجوم تھا اور بنگالی عوام ایمرجنسی زنجیر کھینچ کر زبردستی ٹرین رکواتے اور مجھے خطاب پر مجبور کرتے۔ ان کو بتائیے گا کی وہ لوگ میری زبان تو نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کی چمک تھی، شاید وہ آپ کی کرشماتی شخصیت کو مجھ میں دیکھ رہے تھے، ان کو دو قومی نظریہ کی بھی خوب سمجھ تھی۔
آپ قائد کو بتائیے گا کہ ایک وردی والے صاحب نے ان کے پاکستان پر قبضہ کر لیا تھا تو مجھے نو نکاتی ایجنڈا لیکر * پانچ سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے ساتھ صدارتی الیکشن میں اترنا پڑا ۔ ان 9 نکات میں ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ BD ممبرز کی بجائے براہِ راست الیکشن کروایا جائے اور مردم شماری کروائی جائے اور آئین کو جمہوری بنایا جائے۔ ان سے گزارش کیجئے گا کہ 2 جنوری 1965ء کو الیکشن ایسے ہوئے کہ مختصر مدت کی مہم میں بھی مجھے عوام تک پہنچنے سے روکا گیا اور محض بی ڈی ممبرز پر مشتمل شرکاء کے جلسے کرنے کی احازت ملی۔ الیکشن کمشن مکمل جانبدار تھا ۔ مادرِ ملت…….. ! ان کو بتائیے گا کہ صدارتی آئین کی دفعہ 2 کے تحت صدر جنرل ایوب کو کامیاب امیدوار کے حلف تک بطور صدر اور بطور آرمی چیف کام کرنے کی مکمل آزادی تھی اور وہ تمام حکومتی مشینری پر قابض تھا۔
ماں جی! آپ بابائے قوم کو بتائیے گا کہ آپ نے عوام کو بتا دیا تھا کہ سندھ طاس میں پاکستان کے دریا بیچ دیئے گئے ہیں، لیکن میڈیا لالچ میں آ گیا تھا، سٹوڈنٹس کو یونیورسٹی آرڈینینس میں لالچ دیا گیا، علما کو خرید لیا گیا کہ وہ “عورت کی سربراہی حرام” کا فتویٰ دیں، صرف سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی جماعت اسلامی نے کھل کر میری حمایت کی۔ پٹواری اور تھانے سب صدر جنرل ایوب کی کمپین پر تھے ۔
ماں جی ! آپ 9 جولائی 1967ء کو خاموشی سے پراسرار طور پر یہ دنیا چھوڑ گئیں ۔ دل کا دورہ تھا یا کچھ اور ہوا تھا ، آپ بھائی کو ضرور بتا دیجئے گا ۔ ہم کو معاف کر دیجئے گا اے قوم کی ماں…..! آپ کی وفات کے وقت میں محض 5 سال کا تھا لیکن ہمارے گھر والے ایسے رو رہے تھے جیسے ہمارے گھر کا کوئی بڑا فوت ہو گیا ہو ۔ ہاں نا ……! پورے پاکستان کی ماں بےبسی میں چل بسی تھی ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
نوٹ:
متحدہ اپوزیشن پارٹیز COP مندرجہ ذیل پانچ قومی جماعتوں پر مشتمل تھی۔
1- پاکستان مسلم لیگ (کونسل) سربراہ خواجہ ناظم الدین اور میاں ممتاز دولتانہ
2- عوامی لیگ ۔۔۔ سربراہ شیخ مجیب الرحمٰن
3- نیشنل عوامی پارٹی ۔۔۔ مولانا بھاشانی
نیشنل عوامی پارٹی سرحدی ۔۔۔ ولی خان
4- نظامِ اسلام پارٹی ۔۔۔ چوہدری محمد علی اور فرید احمد
5- جماعت اسلامی ۔۔۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی

اپنا تبصرہ بھیجیں