دوست ممالک کو آموں کا تحفہ – عالیہ زاہد بھٹی




13جولائی کے اخبار کے صفحہ اول کی سرخیاں پڑھتے ہوئے نظر ایک سرخی پر رک گئی خبر یہ تھی کہ

“صدر عارف علوی کا دوست ممالک کو آموں کا تحفہ بھیجنے کا فیصلہ”

خبر تو شاید عام سی تھی مگر اس عام کے اندر آم کے ذکر نے اسے خاص بنا دیا تھا . کیونکہ ہم بڑے خوش تھے کہ سارا اچھا اچھا آم جو باہر فروخت کر دیا جاتا ہے . اس مرتبہ کورونا کی وجہ سے درآمد وبرآمد نہ ہونے کی وجہ سے سب کچھ پاکستانی عوام کو ملے گا . بھلے سے مہنگے داموں مگر اس مرتبہ ہمیں اچھے آم بھی نظر آئیں گے . مگر یہ عارف علوی صاحب کے بیان نے ہمارے آم زدہ ارمانوں پر پانی پھیر دیا …….! ہم اپنا سامنہ لے کر رہ گئے سوچا ذرا پوچھوں علوی صاحب سے کہ آپ کو دوست ممالک کو آم بھیجتے ہوئے کاش کہ اپنے ملک کے”دوست عوام”جنہوں نے آپ کو ووٹ دینے کی غلطی کردی وہ بھی آپ کو یاد آجائیں . عارف علوی صاحب آپ تو “دوست ممالک” کو آم بھجوا کر گھٹلیوں کے دام تک عوام سے لے لیں گے مگر خدارا ہمیں تو بتائیں کہ اس “دوست عوام”کو کیا جواب دیں جو آپ کی دی ہوئی مہنگائی کے تحفے سے پریشان ہے ؟ ہمارے گھر میں کام کرنے جو بہن آتی ہیں بڑی دردمندی سے بولیں

“کراچی میں بجلی جاتی ہے تو آپ کی جماعت بولتی ہے ، پانی نہیں ملتا تو حافظ نعیم الرحمن بھائی سڑک پر آجاتے ہیں کراچی کے مسئلے صرف آپ کی جماعت کے ہیں تو پھر حکومت آپ کی کیوں نہیں ؟؟؟” میں اس عالمانہ گفتگو پر اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی وہ مزید بولیں
“باجی آٹا مہنگا ہوا تو آپ کی الخدمت نے 5کی روٹی کا تنور لگا دیا،لاک ڈاؤن ہوا عوام بھوک سے مرنے لگی تو الخدمت راشن لے لے گھومنے لگی “ہے کوئی جسے کھانا چاہیے” یہاں تک حال ہوگیا کہ لوگ جب خود مستفید ہو گئے اور ان افراد کے پتے بتانے لگے جن تک سامان نہیں پہنچ سکتا تھا مگر اللہ کے فضل سے الخدمت وہاں بھی گئ باجی میں نے آپ کو بتایا تھا ناں ہمارے گاؤں کا؟،،”
وہ مجھے پتہ نہیں کیا کیا یاد کرا رہی تھی مگر میرے کان سائیں سائیں کر رہے تھے میرا دل سوال کر رہا ہے عارف علوی صاحب سے کہ

“صدر صاحب! آپ اپنے ملک ہی کے”دوست عوام”کے بھوکے پیٹوں میں روٹی کا ایک لقمہ بھی تقسیم نہیں کر سکے آپکے وزیراعظم نے “ٹائیگرز” کی فورس بنا کر ان کے ذریعے راشن تقسیم کرنے والوں کو مروانا ۔شروع کر دیا (کراچی والے عینی شاہد ہیں) اب آپ کو اس نام نہاد لاک ڈاؤن میں ہری ہری سوجھ رہی ہے کہ پیٹ بھروں میں آم تقسیم کر رہے ہیں . چلیں کرلیتے تقسیم اگر جو آپ کے آباؤ اجداد کے اپنے باغوں سے اترے ہوتے جہاں میرے ملک کےعوام کا بچہ بچہ بھوک سے نڈھال ہے ……. ایسے میں اپنے ملک کی نعمتیں دوسروں کو بطور تحفہ دینے کا اختیار آپ کو نہیں آپ تو منصب والے ہیں اور منصب والے کا منصب اس کا انعام نہیں ہوا کرتا بلکہ آزمائش ہوا کرتا ہے جس سے صدق و امانت سے عہدہ برآ ہو کر اسے جو خالق سے ستائش ملے گی وہ اس کا انعام ہوگا اس کے ذریعے وہ رب کی جنت میں جاکر اپنے ارمان پورے کرے گا آپ تو یہیں اپنی شہنشاہیت دکھانے لگ گئے.

سنا ہے کہ آپ کبھی جماعت سے منسلک رہ چکے ہیں مگر شاید ساری جماعت کی تربیت آپ”نئے دوستوں” کی دوستی میں بھلا بیٹھے ہیں اسی لئے تو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے ناں کہ “آدمی کا دین اس کے دوست کے دین پر ہوتا ہے” . چلیں ذرا اپنے اچھے دوستوں کا ذکر سن لیں . ابھی حال ہی میں مرشد سید منور حسن صاحب کے بارے میں ایک کالم پڑھ رہی تھی کہ جس میں بتایا گیا کہ
مرشد سید منور حسن صاحب نے اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر دیۓ جانے تحائف تک جس میں سونے کے زیورات بھی تھے سب بیت المال میں یہ کہہ کر جمع کرا دیۓ کہ یہ

“مجھے امیر جماعت کے عہدے پر ہونے کی وجہ سے ملے ان پر میرا نہیں جماعت کے بیت المال کا حق ہے”

ایک امیر جماعت اتنی جرات اور اظہار کا سلیقہ رکھتا ہو. اسے حق اور باطل کا فرق معلوم ہو تو ایک ملک کے سربراہ کو تو اس سے کہیں زیادہ محتاط رہنا چاہیے کہ کل کو حق داروں نے حشر کے میدان میں گریبان پکڑ لیا تو کیا جواب دیں گے؟ وہاں آپ یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ”میں پی ٹی آئی کے ساتھ تھا سو انہی کے اندازِ شہنشاہیت سے حکومت کی . آپ سے آپ کا رب ضرور پوچھے گا ، ” کیا میں نے تمہاری تربیت اپنے بندوں کی جماعت سے نہیں کرائ تھی؟پھر تم کیوں ہدایت پاکر گمراہ ہوئے؟” آپ اپنے رب کو بھی جواب دہ ہیں اورآپ پاکستانی عوام کو جواب دہ ہیں کہ آپ کی حکومت بجلی چور،چینی چور،آٹا چور،سکون چور،چین چور تو سب کچھ تھے اب عوام کے آموں پر ڈکیتی کی واردات؟؟؟ کراچی کو کے الیکٹرک نے پریشان کر رکھا ہے پورے ملک کو عمران خان نے ہلکان کر رکھا ہے اور آپ کو دوستوں کی دوستی نے اپنے مسائل سے انجان کر رکھا ہے . مگر حال یہ ہے کہ بقول شاعر

یارب نہ وہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات
دے ان کو دل اور ، جو نہ دے مجھ کو زباں اور ،

اپنا تبصرہ بھیجیں