خاص و" آم" – عالیہ زاہد بھٹی




صبح اٹھتے ہی گھر میں وہ اٹھا پٹخ ، ہا ہا کار مچی کہ الامان الحفیظ ….! ہر کوئی افتادگی سے دو چار کہ آج گھر کے ہم چار افراد کی بیک وقت آن لائن کلاسز تھیں اور ایک موبائل اور ایک ہی لیپ ٹاپ ! وہ بھی رات بھر ارطغرل غازی دیکھ دیکھ کر اس کی جہادی تلوار سے لرزہ براندام …….. ! مختصر یہ نقشہ تھا کہ

وحشت میں ہراک نقشہ الٹا نظرآتا ہے
مجنوں  نظر آتی ہے  لیلیٰ نظر آتا ہے

لیکن اس شعر کے خالق سے معذرت کہ آج تو ہم بقائمی ہوش و حواس بھی کچھ ایسے ہی مناظر سے مستفید ہوتے ہیں . آپ کے زمانے میں تو وحشت یہ کرشمے دکھاتی تھی ہمارے زمانے میں تو یہ کام “فیشن” کہلاتا ہے. اوہ یہ حکمرانوں کے فیض کے اثرات ہیں کہ ہم بات شمال سے شروع کرتے ہیں تو وہ سفر سے پہلے ہی جنوب کی حدیں چھونے لگتی ہے …… جیسے ہمارے بے چارے حکمران شریفوں سے شروع کرتے ہیں اور زیادہ “شریفوں” پر ختم کردیتے ہیں ، یہ ہماری موجودہ سیاسی فلم کا نام ہے، “شریفوں کی چوریاں” اور ان کو پکڑنے والے “ڈاکوؤں”کی ریہرسل کا نام ہے ……. ” چوروں کو پکڑنے والوں کی چوریاں”

اف سب کچھ خلط ملط ہو گیا …..! یہ آن لائن کلاسز کے دور میں مزاج اس قدر منتشر ہے کہ آم اور عام کا فرق ختم ہو گیا ہے . نہ معلوم ہمارے ملک کے”ابّاجان”! بھئی اپنے بڑے ابّا، نہیں سمجھے؟؟؟؟ اوہو بھئی صدر مملکت عارف صاحب …….! اب تو اتنے خاص ہو گئے ہیں کہ ملک کے”آم” …… اٹھا اٹھا کر دوستوں کو بھجوا رہے ہیں . جلدی جلدی عوام اپنے اپنے “آم” چھپا لیں . بڑے ابا سب اٹھا کر دوستوں کو دے آئیں گے . ابھی کل ہی میاں جی پریشان بیٹھے تھے ہم پوچھ بیٹھے تو ہمیں بھی پریشان ہونا پڑا جو سنا وہ یہ تھا کہ بڑے ابا تو

بڑے ابا چھوٹے ابا سبحان اللہ!

اس ملک کے بظاہر “چھوٹے ابا” اور حقیقت میں اس ملک کے خاص الخاص فرد جسے قوم وزیراعظم کہتی ہے . ان کا فرمان شاہی تیار کیا جارہا ہے کہ جس میں ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سے کم کر کے پچپن کی جا رہی ہے اور مرے پہ سو درے پینشن ختم کرنے کی سمری بھی تیار ہو رہی ہے اور ہم جیسے بیچارے جو اپنی عمریں گنتے ہیں کہ اتنے سال بعد ریٹائرمنٹ اور چلو خیر ہے پینشن تو ملے گی ناں!!! اب ہمارے لیے یہ ایک اور پریشان کن بات …..! ہم نے سب سے چھوٹی بیٹی کو دیکھ کر ٹھنڈا سانس بھرا . “ہم تو سوچ رہے تھے کہ ابھی 15سال کی مدت باقی ہے یہ بھی آپ کی جاب کے دوران ہی اپنے گھر کی ہو جائے گی مگر اس طرح ہو گیا تو ہمارے پاس صرف دس سال ہیں . مگر پھر ہم دونوں نے ہی سر جھٹکا خیر ہے اللہ پاک عمر دراز کرے یہ سب زندگی کے ساتھ ہی ہے اللہ پاک سب کے والدین کو لمبی
عمر عطا فرمائے

جان ہے تو جہان ہے……!

مگر یہ تو ہم جیسے عام لوگوں نے سر جھٹکا کچھ نہیں بلکہ بہت سارے اس ملک میں “خاص” لوگ ہیں جو صبح “آم” (بمعنی نعمت ، روٹی ، روزی ) لینے نکلتے ہیں اور شام کو عام بن کر گھر آجاتے وہ عام عوام کہ جن کے پاس نہ روٹی ہے اور نہ ہی حکمرانوں کو مارنے والی “سوٹی” ہے کہ جس “سوٹی” سے شریف بدمعاشوں کو نکالا تھا…… اب اسی سوٹی سے” بدمعاش شریفوں” کو نکالنا ہوگا . کہ

اسی وحشت میں نقشہ الٹاہوگیاہےترتیب الٹی ہےترکیب پرانی ہے
بات  سمجھ   آجائے  تو  اپنی  نہ  سمجھ   آئے  تو   بیگانی   ہے

کی تو ہم نے عام کی ترجمانی ہے مگر موسم ہے آموں کا تو” آم” سی بات بھی خاص لگتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں