میری پیاری جمعیت




یہ سب غلط اور پروپیگنڈا ہے کہ جمعیت کے جوان غنڈہ گردی کرتے ہیں-
میرے نزدیک جب تک آپ کسی بھی چیز یا عمل کا عملی مشاہدہ نہیں کریں گے اسوقت آپ کا اس چیز یا عمل کے بارے میں رائے قائم کرنا بے بنیاد ہے-
میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہا- میں نے دیکھا جو تربیت جمعیت کرتی ہے- ایسا طریقہ تربیت کسی دوسری طلبہ تنظیم میں موجود نہیں-
مجھے میری جمعیت نے یہ سیکھایا کہ حق اور سچ کا ساتھ دو، حق بات پر ڈٹ جاؤ چاہے تمہاری گردن ہی کی کیوں نہ کٹ جائے-
الحمدالله! اسلامی جمعیت طلبہ ہی پاکستان کے مستقبل کے معماروں کو امید کا پیغام دے رہی ہے-
جو “امید بنو، تعمیر کرؤ، سب مل کر پاکستان کی” کے نعرے کے ذریعے مایوسیوں کے طوفان میں ڈوبے طلبہ کو ایک نیا جذبہ، جوش، ولولہ اور عزم دے رہی ہے-
جمعیت ہی وه واحد تنظیم ہے جو لسانیت، رنگ و نسل، قومیت و صوبائیت اور فرقوں کی زنجیروں سے آزاد ہے-
الحمدالله! یہی وه تنظیم ہے جو نوجوانوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا راستہ دیکھا رہی ہے-
جس کا نصب العین ہی یہی ہے کہ “اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الہی کا حصول”-
جہاں تک جمعیت پر لگنے والے الزامات کا تعلق ہے تو ہر دور کے فرقوں سے لڑنا ہی تو جمعیت کا کام ہے-
اسلامی جمعیت طلبہ کو غنڈہ گردی کرنے والی تنظیم کہنے والے ذرا یہ بتائیں کہ پاکستان سے محبت کرتا غنڈہ گردی ہے؟ کیا اسلام اور دین حق کی سربلندی کی جدوجہد کرنا غنڈہ گردی ہے؟ کیا وقت کے فرعونوں سے لڑنا غنڈہ گردی ہے؟
اگر اسے کوئی غنڈہ گردی کہتا ہے تو اسلامی جمعیت طلبہ کے جوان ایسی غنڈہ گردی کرتے تھے اور انشااللہ کرتے رہے گے-
تاریخ پر نظر دوڑائیں سقوط ڈھاکہ کے وقت کس نے جوان پاکستان سے محبت کا ثبوت دے رہے تھے؟
کون اپنے خون کے دیئے جلا کر اور شہادتوں کی لازوال تاریخ رقم کرکے اس ملک کو دولخت ہونے سے بچانے کی کوشش کررہا تھا؟
کس کو اس “غنڈہ گردی” کی پاداش میں غدار وطن کے القابات سے نوازا گیا؟
اور آج بھی کس کے کارکنوں سے بنگلہ دیش کی جیلیں بھری پڑی ہیں؟
اسلامی جمعیت طلبہ پر الزامات لگاتے ہیں کہ جمعیت غنڈہ گردی اور دہشت گردی کرتی ہے تو میرا ان تمام الزامات لگانے والے بھائیوں کو کھلا چیلنج ہے برائے مہربانی ایسے غنڈوں بدمعاشوں کے نام ذرا ہمیں بھی تو بتا دیں جس پر الطاف حسین، فاروق ستار یا عشرت العباد کی طرح سو سو قتل کے الزمات ہوں-
مخالفین جمعیت اس پر بھی غور کریں کہ اسی اسلامی جمعیت طلبہ نے قاضی حسین احمد رح، سید منور حسن، جاوید ہاشمی جیسے نڈر، بہادر لیڈر دیے اور اسی جمعیت نے احسن اقبال و ڈاکٹر قدیر خان جیسے لوگ بھی تیار کیے- ذرا ہمیں بھی تو بتادیں کتنے کتنے قتل کے الزمات ہیں ان شخصیات پر؟؟؟
وحشی درندے پالنے والی تنظیم ایم کیو ایم کو اور ان کے ہمدردوں کو بتاتا چلو جمعیت میں کوئی غیر اخلاقی عمل کرنے والے کو خارج کیا جاتا ہے-
ذرا یہ تو بتا دیں ایم کیو ایم نے آج تک کتنے بھتہ خوروں اور قاتلوں کا اخراج کیا؟
اس سول کا جواب بھی اگر کسی کے پاس ہے تو مجھے بتادے کہ جمعیت کے کتنے لوگوں نے ایم کیو ایم کے اجمل پہاڑی کی طرح دشمن ملک انڈیا سے ٹرینگ لے کر کراچی میں دہشت گردی کی؟؟؟
جمعیت اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی بقاء کےلئے روز اول سے کام کررہی ہے-
اگر اسکی سرگرمیوں کی بات کی جائے تو کبھی جمعیت مستحق طلبہ کی مدد کررہی ہوتی ہے، کبھی اسٹڈی سرکل، کبھی بک فیئرز، کبھی ٹیلنٹ ایوارڈ-
یہ جمعیت ہی ہے جو تعلیمی اداروں میں درس قرآن کے ذریعے تعلیمی اداروں میں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام عام کررہی ہے-
یہ جمعیت کے جوانوں ہی تو ہیں کہ جب پورا پاکستانی میڈیا اس اسلامی مملکت میں فحاشی ور بے حیایی کو پھیلانے کےلیے ویلنٹائن ڈے منانا چاہتا ہے تو جمعیت ان اسلام دشمنوں سے مقابلہ کرنے میدان عمل میں اگر “یوم حیاء” کا اہتمام کرتی ہے-
یہ ہے حقیقت——–
اور یاد رکھیں جمعیت کردار و عمل کی ایک فیکٹری ہے جو لاکھوں طلبہ کی کردار سازی کرچکی اور لاکھوں کی کررہی ہے-
اللہ کے شیروں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں، اقبال رح کے شاہینوں کو روز نت نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے-
اقبال رح نے کیا خوب کہا تھا:
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے،
آساں نہیں مٹانا نام و نشان ہمارا،
باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم،
سو بار کرچکا تو امتحاں ہمارا،
جمعیت پر روز نت نئے الزامات لگائے جاتے ہیں مگر الحمدالله ثم الحمدالله ہمیشہ اسلامی جمعیت طلبہ سرخ رو ہوئی اور اسکے مخالفین کو منہ کی کھانی پڑی-
اللہ اکبر کا نعرہ ہم صدا لگانے والے ہیں،
تاریخ ہماری شاید ہے، ہم سر کٹوانے والے ہیں،
اٹل سے بھی یہ حقیقت ہے، سورج مغرب سے نکلتا نہیں،
قسمت کا لکھا ٹل سکتا نہیں، مشرق مغرب مل سکتا نہیں،
پھر باطل یہ کیوں بھول گیا، یہ بھی تو اٹل حقیقت ہے،
جو خدا کے آگے جھک جائے، کسی اور کے در پہ جھکتا نہیں،
سر کٹ جائے تو کٹ جائے، ہم سر کٹوانے والے ہیں،
تاریخ ہماری شاید ہے، ہم سر کٹوانے والے ہیں-
 

6 تبصرے “میری پیاری جمعیت

  1. Haqeeqat per mabni tehreer….Jami’at is mulk ki pasban tanzeem hey aur waqiatan is jesi doosari koi tanzeem hamarey mulk mein nahein jo nojwanoan ki dunYA AUR DEEN dono ko sanwarnen ki `fikr dety hey…

اپنا تبصرہ بھیجیں