میں مجرم ہوں – سماویہ وحید




معافی مانگنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہو سکتا …….. کٹہرے میں کھڑی ہوں . دل و روح مجرم ہے …….. شرمندگی نام کی بھی نہیں ہے . ہاں یہ الگ بات ہے خود اس مقام پر حاضر ہوئی ہوں . اب یہ بھی بتا دوں کہ شاید میرے دل میں شرمندگی کے جذبات ابھر جائیں ……. امید ہے کہ میری شرمندگی مجھے غداروں اور باغیوں کی صفوں سے نکال دے ……
میں محض نام کی پاکستانی ہوں ………… دل میں وطن سے کوئی محبت نہیں ہے . وطن کو بد نام کرنے میں ماہر ہوں ……. تم سن لو میں خود کہتی ہوں کہ میں بے شرم , ذلیل اور بے غیرت ہوں ……. میں بے وفا بھی ہو اس میں کوئی شک نہیں …….. دیکھو غور سے دیکھو جو وطن عقیدت سے مانگا گیا ہے میں اس کی مجرم ہوں …….. جو وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے . میں اسکی مجرم ہوں……کیونکہ میں اپنے وعدے سے پھر گئی ہوں . میں محض نام کی عاشقِ وطن ہوں . دل کا لگاؤ اس مٹی سے نہیں ہے …..میں وطن کو باسیوں کو بے حیائی پر اکساتی ہوں……میں مجرم ہوں……سنو اگر میں مجرم ہوں تو پورا پاکستان مجرم ہے ……ایک میں ہی نہیں پورا پاکستان بے وفا ہے ہے …… سنو جج! میری بھی سنو میں تو خود مجرم بن کر آ گئی ہوں ابھی پورا ملک پیچھے بیٹھا ہے……. یہ اور بات ہے کہ میں محض نام کی پاکستانی ہوں……… تم جو بھی سزا سناؤ گے مجھے قبول ہے . کیونکہ مجھے سزا دینے والا بھی محض نام کا پاکستانی ہے……..
کیا میری اور آپ کی عقیدت وطن سے نام کی رہ گئی ہے؟؟؟؟ کیا آپ یہ ملک دشمنوں کو کم قیمت پر فروخت کرنا چاہتے ہیں ؟؟؟؟ ہمیں ان کی ذرا پروا نہیں جنہوں نے اپنی نیندیں حرام کر دی صرف ایک ملک حاصل کرنے کے لئے …… اس ملک کی خاطر شہداء نے اپنی جان تک کی پروا نہ کی……..یہ ملک جو ہماری شہداء کی نشانی ہے……کیا میرا اور آپکا نہیں ہے ؟؟؟ میں نے سنا ہے …… ہم آزاد ملک میں رہتے ہیں . یہ کون سا آزاد ملک ہے جو آزاد تو ہے لیکن دشمنوں کی غلامی میں ہے ……. ہم آزاد ہیں لیکن غلامی کی زنجیروں نے ہمارے پیروں کو جکڑا ہوا ہے ……. کیا اسے آزادی کہتے ہے؟؟؟؟ دشمنوں نے ہمارے ملک کو اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے ……. ہم دشمنوں کے پاؤں دھو دھو کر پیتے ہیں …….. ہم ان کے احکامات پر عمل کرتے ہیں . حالانکہ وہ ہمیں برباد کر رہے ہیں ….. اِسے کیا خاک آزادی کہتے ہیں؟؟ در حقیقت پاکستانی خسارے میں پڑچکے ہیں …….
اس ملک کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا …… اس کی نئی بنیادیں کھڑی کرنی پڑیں گئی . اس میں اسلام کو نافذ کرنے والے حکمرانوں کو تخت نشین کرنا ہوگا…… کیونکہ یہ ملک کھنڈر بن چکا ہے…… دشمنوں سے لا تعلق ہونا ہوگا …….. تاکہ ان کی چالوں میں ہم نہ آسکے …… میرے عزیزوں! یہ وقت ہے اپنے آپ کو آزاد کرنے کا ….. ہم میں سے ہر پاکستانی کو لازم ہے کہ وہ اپنے وطن کی آبرو بچائے …. جب دشمن اس ملک پر مکمل طور پر قبضہ کر لیں گئے تو اس وقت ہم صرف ہاتھ ملتے رہ جائیں گئے . اے پاکستانیوں! محض نام کے پاکستانی نہ بنو ….. سنو پاکستانیوں! اپنی آبرو بچانا چاہتے ہو تو وطن کی آبرو بچاؤ ….. کیونکہ وطن ہی کہ سائے میں آج تم جیتے ہو …… اگر تم ہی اس وطن سے منہ موڑو گئے تو یہ ملک اور ہم دشمنوں کی قید میں آجائیں گئے …….
غارت ہو میرے وطنِ عزیز کے دشمن … .مجھے محبت ہے اپنے وطن سے ….. میری جان تک اس وطن پر قربان ہونے کے لیے حاضر ہے ….. اگر اب بھی ہم نے کوئی اقدامات نہ کیے تو میں اور آپ سب سے بڑے مجرم ہے ….. اور محض نام کے پاکستانی ہے …….. اللھم احفظنا

اپنا تبصرہ بھیجیں