ہم وطن کیوں لوٹے – ناہید کوثر




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
14 اگست پر الحمد لله بہت ساری بہنوں نے لکھا اور ماشاء اللہ اپنی محبت اور وطن میں ظلم و ستم پر اپنے اپنے دکھ کا اظہار بھی کیا . میں نے ساری بہنوں کو پڑھا بہت اچھا لگا . میں سوچ رہی تھی کہ میں اپنے دیس کے بارے میں کیا لکھوں ؟ مجھے اپنے دیس سے بہت پیار ہے .اس کا اندازا آپ اس طرح کر سکتے ہیں کہ میں شادی کے کچھ عرصہ بعد اپنے شوہر کے ساتھ پردیس چلی گٸی .
میرے شوہر کے پاس وہاں کی شہریت تھی ، جس کی وجہ سے انہیں ہر سہولت میسر تھی . میں نے بھی جب پہلی دفعہ یہ ساری آرام دہ نعمتیں دیکھیں تو اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کیا . اور اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا . جاتے ہی مجھے مسجد سے منسلک لوگوں سے ملا دیا گیا . جس سے دین کو سیکھنے کا بھی موقع مل گیا ……. تھوڑی ہی دیر بعد ہمیں ایک کمرے سے پانچ کمرے کا گھر مل گیا ، جو بالکل نیا بنا تھا اور ہر سہولت میسر تھی . ہمارے بچے بھی بہت خوش تھے . الحمد لله ! نماز کی پابند پاکستان سے ہی تھی . وہاں کی عیاش قوم سے تو میں ذرا بھی مرعوب نہیں ہوٸی تھی . پھر دین دار لوگوں کا ساتھ بھی نصیب ہو گیا لیکن جب دو سال بعد بچوں کے اسکول شروع ہونے تھے تو میں نے اس پر بہت سوچا کہ میں کیا کروں ؟
آخر ادنتیجہ پر پہنچی کہ بچوں کو پاکستان میں تعلیم دلواٶں ……! یہاں کا ماحول بچیوں کے لیے اچھا نہیں ہے . میرا دیس ہی تربیت کے موضوع ہے . اس سوچ کو میں نے پختہ کیا اور بچوں کو پاکستان چھوڑنے کا ارادہ کر لیا . پہلی بار جب میں پاکستان آٸی تو دو بیٹیوں کو میں نے اسکول میں داخل کروا دیا اور خود دل پر پتھر رکھ کر واپس پردیس چلی گٸی . پھر دو سال میں واپس نہیں آٸی . اس دوران ایک بار گرمیوں کی چھٹیوں میں بچیوں کو اپنے پاس بلا لیا تھا . واپسی پر بھی وہ اکیلی ہی پاکستان آگٸی تھیں . دو سال بعد ، جب دوبارہ میں پاکستان آٸی تو بیٹے کو بھی اسکول داخل کروا دیا اور خود ان کے پاس چار ماہ رہ کر چھٹیوں میں سارے بچوں کو ساتھ لے گٸی اور ہاں ! پاکستان میں بچے اپنے تایا کے گھر میں رہتے تھے . اس طرح میں میں آٹھ سال آتی رہی اور اس دوران میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہمیں اپنے دیس میں ہی رہنا چاہیے.
ہمیں اللہ تعالی نے ایک آزاد وطن دیا ہے اور ہر قسم کی نعمت سےنوازا ہے . یہاں میرے پیارے رشتے ہیں . پردیس کوٸی مر جاتا تو اسے پاکستان لایا جاتا . مجھے یہ سب اچھا نہ لگتا تھا مجھے اپنے گوجرہ کا کبوتروں والا قرستان یاد آتا . میں سوچتی کہ ایک دن تو موت ہے پھر پردیس میں کیوں ؟ الحمد لله میرے شوہر بھی دین کی سمجھ رکھتے تھے انھنوں نے بھی میرا ساتھ دیا میں آٹھ سال بعد ہر عیش کو ٹھکرا کر اپنے دیس واپس آگٸ جبکہ مجھے بہت لوگوں نے روکنے کی کوشش کی کہ لوگ جرمنی میں آنے کے لیے دعاٸیں کرتے ہیں اور پاکستان سے باہر نکلنا چاہتے ہیں . نہ وہاں روزگار ہے نہ مال وجان کا تحفظ ہے ……. لیکن میرا بھروسہ صرف اللہ تعالی پر تھا . جس نے پیدا کیا روزی کا ذمہ دار بھی وہی ہے . اپنے وطن کی محبت اور اپنے رشتوں سے پیار مجھے اپنے دیس میں واپس لے آیا اور کچھ ہی عرصہ میں میرے شوہر بھی واپس آ گٸے اور یہاں اپنا کاروبار شروع کر لیا .
الحمد لله ! اللہ تعالی نے برکت دی . آج مجھے واپس آۓ اکیس سال گذر چکے ہیں . اس دوران میں کبھی نہیں پچھتاٸی کہ میرا فیصلہ غلط تھا . وطن میں ہونے والے ظلم وستم سے دل کڑھتا ہے لیکن اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے وطن کو ہمیشہ سلامت رکھے …….. تا قیامت رکھے . آمین
دیس ہمارا ہم کو پیارا
ہم سب کی انکھوں کا تارا
پاکستان زندہ باد !!!

ہم وطن کیوں لوٹے – ناہید کوثر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں