ہم زندہ قوم ہیں ، پائندہ قوم ہیں – افشاں نوید




آج صبح گاڑی میں اگلی سیٹ پر بیٹھے ڈرائیور سے پوچھا ۔ بھائی کیا حال ہے علاقے کا بارش کےبعد ؟ بولا …….. باجی نہ پوچھیں ، جو کچرا نالے سے نکالا وہ سڑک کنارے لگادیا ، کوئی بندوبست نہیں اٹھانے کا ……. بارش میں بہہ کر سڑک پر آگیا ۔ نکاسی کا بھی نہیں رستہ۔اب کیچڑ ہی کیچڑ ہے پورے علاقے میں اور تعفن …… دن کو مکھیاں …. رات کو مچھر۔
اس کا مضمون مکمل ہوگیا ۔ میں نے چونک کر کہا ارے یہ لمبا راستہ کیوں لے لیا ؟ بولا ، “باجی جس رستے سے آیا ہوں بہت بدبو ہے. آلائشوں کی وجہ سے طبعیت خراب ہونے لگی ۔” دفتر کے قریب پہنچے تو شادی ھال کے عقب میں جو حصہ مطبخ کے لیے مختص ہے , چونکہ ہال بند ہیں اس لیے وہ کوڑے کے عظیم الشان ڈھیر میں بدل چکا ہے ۔ ناگوار بو نے شہر کو حصار میں لیا ہواہے ۔ بارش سے پہلے کا ہفتہ ہم اہلیان کراچی نے جیسے گزرا بیان سے باہر ہے۔ اتنا شدید حبس اور گھٹن کہ اے سی سے باھر آکر لگتا کہ تنور کے قریب کھڑے ہیں۔
کراچی کی بیشتر آبادی,جھوٹے گھروں , تنگ گلیوں اور فلیٹوں میں رہتی ہے ۔ لفٹ نہیں ہوتی چار منزلہ فلیٹوں میں بھی۔ اس شدید موسم میں آپس میں لڑتے مئیر اور صوبائی حکومت …… کوئی سروے کرتا کہ کراچی کے کتنے گھروں میں جینریٹر اور یو پی ایس کی سہولت موجود ہے؟ ائر کنڈیشن کا “تعیش” کتنے فیصد گھروں میں ہے؟
سمندری ہیٹ ویو , سورج سوا نیزے پر , درجہ حرارت چالیس سے اوپر ……. ہوا میں نمی کے تناسب سے دم گھٹتا محسوس ہوتا ۔ شہر ناپرساں میں دس دس گھنٹے بجلی بند ۔ جب بجلی بند تو پانی ندارد ۔ کیا سرکاری نل ہیں جگہ جگہ اور ان میں پانی بھی آتا ہ ے کہ دو کمروں کے چار منزلہ فلیٹ کے مکین بالٹی بھر پانی ہی حاصل کرلیتے !! آبادیوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور بچے بھی ۔ بجلی , پانی کے بن ان پر کیا گزری ہوگی ؟ بارش ہوئی ہم سب بھول بھال کے نئی دنیا میں آگئے ۔ ابھی آلائشوں کے تعفن سے فضا معمور تھی کہ بارش نے مکھیوں مچھروں کا تحفہ عنایت کیا ۔ ایک کراچی ہی کیا ملک کے ہر حصہ کے مکین سخت موسم جھیل گئے ۔ بجلی , پانی کی کمی جھیل گئے ۔ تعفن جھیل گئے۔ کیچڑ , ٹوٹی سڑکیں , کچرے کے ڈھیر کچھ نہ بگاڑ سکے ۔ کئی ڈرائیوروں اور ماسیوں سے پوچھا کہ تمہارے محلوں میں کرونا ہوا کسی کو؟ کسی ایک نے جو مثبت جواب دیا ہو۔
ڈھائی کروڑ آبادی کے شہر میں ہزاروں کی فیگر الحمدللہ لاکھوں میں نہ پہنچ سکی ۔ اگر اقوام متحدہ کے مندوب کہہ رہے ہیں کہ دنیا پاکستان سے سیکھے کہ کرونا سے کیسے بچنا ہے , تو یہ حکومت کو شاباش نہیں ہے ۔ الحمدللہ یہ لوگوں کی قوت مدافعت ہے ۔ ہمارے نومولود اسی فضا کے شاہین ہیں۔ دوسرے ملکوں سے آئے افراد منرل واٹر پی کر بھی بیمار اور پیٹ کے امراض میں مبتلا رہتے ہیں ۔ ہم نلکوں کے پانی سے جیتے ہیں۔ اس سب کے باوجود۔۔۔ ہر چوک چوراھے پر بہار ہے سبز جھنڈوں کی,ملی ترانے بج رہے ہیں,ایک جشن کا سامان ہے۔ زندہ قوم کی آزادی کا جشن۔۔ کوئی برا وقت آتا ھے ہم حکمرانوں سے آس ھی نہیں لگاتے کہ انکی تو ٹائیگر فورس پنجروں سے باھر ہی نہ آسکی این جی اوز نے سنبھال لیا سماج کو۔
نہ کرائے کے مکانوں والے سڑکوں پر آئے, نہ خودکشی کی کسی نے,نہ مغرب کی طرح طلاق کے واقعات میں ریکارڈ اضافے ھوئے ۔ ہم لاک ڈاؤن بھی جھیل گئے,بھوک سے کوئی نہیں مرا۔۔ ہم جینا جانتے ہیں۔باربار دنیا کو دکھاتے ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں۔ لاالہ کی مٹی کا ہر زرہ بہت توانا ہے الحمدللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں