محفلِ آزادی کی اِک جھلک – لائبہ عامر




ماحول انتہائی پررونق ہے ہر طرف خوشیوں کا سماں ہے۔ کہیں ملی نغموں کے گنگنانے کی آوازیں ہیں تو کہیں جوش و خروش سے لبریز تقاریر کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں تو کہیں ڈرامے اور ٹیبلو کی بھرپور تیاریاں جاری و ساری ہیں۔ محلے کے سارے لوگ جشن آزادی کی محفل سجانے میں سرگرم ہیں۔
بچے بھی جھنڈیاں اور غبارے لگانے میں آگے آگے ہیں۔ سب کو بے چینی سے پروگرام شروع ہونے کا انتظار ہے۔ پروگرام اورگنایزر کے نے آکر انتظار کی گھڑیاں ختم کیں اور بلا تاخیر کیے شرکاء نے اپنی نشستیں سنبھال لیں۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن سے کرنے کے بعد دو نفل شکرانے کے سب نے مل کر ادا کیے اور اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا آزادی کی نعمت پر۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے مقابلوں کاسلسلہ شروع ہو گیا اور ججز نے بھی اپنی سیٹ سنبھال لی۔ انتہائی گہما گہمی کا نظارہ تھا کہ اتنے میں انتہائی دلچسپ مقابلہ شروع ہوا۔ مقابلہ کچھ یوں تھا کہ ایک رسی پر سیب لٹکاے گئے اور بغیر ہاتھ لگائے سیب کو کھانا تھا۔ محلے کے تمام نوجوانوں کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا اور مقابلہ شروع کروایا گیا۔ تمام شرکاء،مہمانِ خصوصی اور ججز نہایت لُطف اندوز ہوئے۔ بچوں نے بھی ڈرامے اور ٹیبلو کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ ڈرامے کی پریکٹس کروانے والوں کی محنت بھی رنگ لے آئی۔
ڈرامہ” آزادی ایک عظیم نعمت” اور ٹیبلو “چاند ایک ستارہ ایک” کو ججز اور مہمانِ خصوصی نے خُوب سراہا اور ڈرامے کے شرکاء کو اعزازی سند بھی انعام کے طور پر دی گئی۔ پورا پنڈال بھی تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔ ججز کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا اور انہیں نتائج کے اعلانات کرنے کو کہا گیا۔ ہر مقابلے میں پوزیشن لینے والوں کو مختلف انعامات دیے گئے جس سے بچوں کی خوشی دوبالا ہوگئی۔ آخر میں مہمان ِخصوصی کو دعوت خطاب دیا گیا انہوں نے اپنے خطاب میں جشن آزادی کی محفل سجانے والوں کی کوششوں کو خوب سراہا اور پروگرام کی کامیابی پر مبارکباد کے ساتھ ساتھ محفل سجانے والوں کو ایک یادگار آزادی شیلڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے آزادی کی قدروقیمت کے بارے میں بتایا کہ آزادی کس قدر انمول نعمت ہے۔ پاکستان ایک آزاد ملک کتنی جانیں قربان کرنے ،کتنی گردنیں کٹوانے ،کتنا لہو بہانے اور کتنے گھر تباہ ہونے کے بعد بنا تھا۔
ہم اس آزادی کی جتنی قدر کریں وہ کم ہے اور ہمیں اس نعمت پر رب العزت کا نہایت شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں یہ نعمت بن مانگے عطا کی ہے۔ کتنے ہی مسلمان ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں اور دن رات اس نعمت کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں آخر میں دعا کے لئے محلے کے بزرگ کو بلایا گیا اور انہوں نے پاکستان کی سلامتی کے لئے رو رو کر دعائیں کروایں اور پورا پنڈال آمین کی صداؤں سےگونج رہا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں