اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے – افشاں نوید




پچھلے برس واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب دیکھنے گئے اور پھر ……… 14 اگست کی صبح شائد پہلی بار نانی اور نانا کے احسانات کو یاد کرتے ہوئے دل بھر آیا۔ پاکستانی ترانوں کا مطلب جو واہگہ بارڈر پر سمجھ آتا ہے وہ گھر کے ڈرائنگ روم اور محلہ کے چوک پر نہیں۔۔
وہاں ایک لائن ہی تو تھی درمیان میں ……. دونوں جانب وہی مٹی ، وہی مٹی سے بنے انسان, وہی فوجی وردیاں , وہی حب الوطنی , کپڑے کے پرچم ……… ایک ترنگا ایک سبز ہلالی !ایسا بھی نہیں کہ اس طرف سب ھندو تھے اس طرف بھی مسلمان تھے۔ صوم وصلوة کے پابند تو بارڈر کے اس طرف بھی ہونگے ۔ حج اور عمرے سے انھیں کوئی نہیں روک سکتا ۔ تسبیح درود بھی ہماری طرح پڑھتے ہونگے۔ تعلیم یافتہ بھی وہ ہم سے زیادہ ہیں ۔ برصغیر میں مسلمانوں کو عبادت کرنے اور مدارس و دارلعلوم بنانے سے کوئی نہیں روکتا تھا۔ پھر خاک وخون کے دریا کیوں پار کیے؟؟ واہگہ بارڈر پر پیشانی پر تلک لگی عورتوں کے پہلو میں عبایا اور اسکارف والی خواتین کو دیکھ کر میں سوچنے لگی میں بھی اس طرف ہی ہوتی اگر ہمارے آباء نے ہجرت نہ کی ہوتی۔
نانی بتاتی تھیں کہ نانا زمیندار تھے۔ محلہ کے ھندو ان کے آنے نہ دیتے تھے کہ آپ کی حفاظت ہم کریں گے آپ نہ جائیں۔ گلی محلّوں میں ہندو مسلمان بھائیوں کی طرح رہتے تھے , ایک دوسرے سے جان ومال کو کوئی خطرہ نہ تھا . مگر تحریک پاکستان نے زور پکڑا تو مسلمانوں کے جان ومال محفوظ نہ رہے۔ ہندو بلوائی ٹوٹ پڑے ۔ نہ عزت محفوظ تھی نہ جان۔ نانی بتاتی تھیں کہ وقت ہجرت ریلوے اسٹیشن پر ہندو اور سکھ بلوائی بچے گود سے چھین رہے تھے۔ مائیں بچوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے آنسو پونچھ کر ٹرین میں آکر بیٹھ جاتی تھیں ۔ نوجوان لڑکیاں جو اٹھا لی جاتیں والدین فاتحہ پڑھ کر پوٹلی اٹھا کر گھر چھوڑ دیتے کہ تلاش بے کار تھی۔
ایک سودا سمایا ہوا تھا کہ ہجرت کرنا ہے۔ یہ ہجرت کیا تھی محض عقیدہ!!!
دنیا نے پہلی بار جانا کہ قومیں رنگ,نسل,جغرافیہ کے ماسوا بھی ایک چیز سے بنتی ہیں اور وہ ہے عقیدہ ……. گاؤ متر اور آب زم زم کے بیچ ایک عقیدہ ہی تو ہے۔
وہ عقیدہ لاالہ الا اللہ ہے۔
جس کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ لی, جائدادیں چھوڑ دیں, اپنے آباء کی قبریں چھوڑ دیں۔ سب کچھ چھوڑ نکل کھڑے ھوئے کہ پہنچ گئے تو نصیب …… نہ بھی پہنچے تو اس راہ کی شہادت بھی سعادت ہے۔ افسوس اس بات کا کہ ہم نے تحریک پاکستان کے شھداء کی یادگاریں نہیں بنائیں۔ ہم اپنے بچوں کے ساتھ یوم آزادی پر ان گمنام شہداء کی یادگاروں پر پھول چڑھاتے۔آنسوؤں کے نذرانے پیش کرتے . ان سے معافی مانگتے کہ ایسے پاکستان کے لیے تو قربانی نہ دی تھی آپ نے۔ مزار قائد کے سامنے سے گزرتے ہوۓ عجیب ندامت ہوتی ہے دل کہتا ھے کہ باباۓ قوم ہم آپ کے پاکستان کی حفاظت نہ کرسکے . مگر اس مٹی میں بہت زرخیزی ہے۔ 73برس کی میچور قوم اب ان شاءاللہ سمت سفر درست کرے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ
یہ وطن ہمارا ہے ، ہم ہیں پاسباں اس کے !
اس وطن کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارض پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا …..!

اپنا تبصرہ بھیجیں