مٹی ایک جیسی ہی تو ہے! – زبیر منصوری




سرحد کے اس پار بھی ایسی ہی ہے ،خاکی ، بھربھری ،سوندھی سوندھی خوشبو والی …….. دونوں طر ف کے لوگ ایک جیسی ہی زبان تو بولتے ہیں ۔ ویسا ہی لباس پہنتے ہیں . ملتا جلتا کلچر ، روایات سب کچھ ، پھر آخر اس خونی لکیر کا مقصد کیا تھا ؟ کیوں خون گرا؟ ٹرینیں بھر کر کٹی پٹی لاشیں آئیں …… کوئی بتائے گا آخر کیوں؟
کیوں؟ آو بیٹے میں بتاتا ہوں ……. وہ بزرگ شفقت سے مخاطب ہوئے
دیکھو پیارے بیٹو ! وطن نظریہ سے بنتے ہیں زمین اور مٹی سے نہیں ورنہ مکہ اور ابو لہب او رابو جہل تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے تھے اور سلمان فارسی و بلال حبشی رض دور سے آئے ہوئے . مگر نبی مہربان نے اپنا وطن اور اپنوں کو چھوڑ دیا اور دور مدینہ کو اپنا دیس اور بلال و سلمان رض کو اپنا پیارا بنا لیا . وہ بزرگ اٹھے کیتلی سے چائے انڈیل کر لا کر ان کے سامنے رکھی اور پھر بولے……. یاد رکھنا ہندو ، نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے ہم قوم نہیں ہو سکتے
دیکھو میرے بچو ……! ہندووں کے خدا سینکڑوں اور ہمارا بس ایک ، ان کا کوئی پیغمبر نہیں …… ہمارا ایمان ایک لاکھ چوبیس ہزار پر وہ اپنی ہدایت کےلئے انسانوں کی لکھی کتابوں پر بھروسہ کرتے ہیں ہم خدا کی رہنمائی پر . پھر بھلا ہم ایک قوم کیسے ہو سکتے تھے؟ اب یہی دیکھ لو کہ اسلام کتنا پرامن دین ہے مسلمانوں نے ایک ہزار برس ہندووں پر حکومت کی مگر نہ ان کو جبری مسلمان کرکے اکثریت بنے نہ انہیں نقصان پہنچایا . وہ اٹھ کر کھڑکی سے دور خلا میں دیکھتے ہوئے بولے۔ میرے عزیزو جانتے ہو اس ہزار برس میں ایک بھی ہندو مسلم فساد نہیں ہوا اور۔۔۔اور۔۔۔ تقسیم ہند کے بعد پانچ ہزار فسادات میں لاکھوں مسلمان مارے گئےاور وہ وہاں آج بھی دوسرے درجے کے شہری۔ وہ کچھ دیر سر جھکا کر افسردگی اور خاموشی سے بیٹھے رہے پھر دکھ کے ساتھ بولے۔۔
دیکھو بیٹو میں یہ ہرگز برداشت نہیں کرسکتا کہ کوئی تم میں سے کسی کو گائے کا پیشاب پینے پر مجبور کرے اور تم کچھ نہ کر سکو۔۔اور یہ وہاں بھارت میں روز ہوتا ہے . انہوں نے اٹھ کر شفقت سے اس نوجوان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولے …… پاکستان اللہ کی بڑی نعمت ہے میرے بچو اس کی حفاظت کرنا اور میرے ساتھ وعدہ کرو کہ نظریہ پاکستان سے ہمیشہ وفا دار رہو گے اور کچھ کر کے دکھاؤ گے۔ ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے۔۔
(لاہور کے کچھ نوجوانوں کی خواہش پر لکھا گیا ایک اسکرپٹ)

اپنا تبصرہ بھیجیں