تاریخ کے جھروکوں سے – رمشہ کنول




پاکستان بننے سے قبل جب بر صغیر میں مغل بادشاہوں کے زوال کے بعد انگریز برصغیر پر حکومت کر رہے تھے تو ہندو انگریزوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے،مسلمانوں کو نوکریوں سے نکالا جاتا ، سرکاری ملازمتوں سے بھی بےدخل کرتے، جب چاہتے ستاتے اور مسلمانوں کو دین سے پھرنے کے لیے کئی چالیں چلا کرتے، نیز انھوں نے مسلمانوں کی مشترکہ زبان اُردو کے مقابلے میں ہندی کو قائم کردیا۔
طویل عرصہ انتظار کے بعد ١٩٠٦ ء میں سر سید کے ایک رفیق نواب محسن الملک نےکل ہند مسلم لیگ کے نام سے مسلمانوں کی ایک الگ تنظیم کی بنیاد ڈالی ۔ اس تنظیم کے بننے سے مسلمانوں میں بڑا جوش پیدا ہوا ۔ اس تنظیم ک مقصد مسلمانوں کو ان کی شناخت دینا اور ان حقوق کے لیے آوز اٹھانا تھا ۔ لیکن پھر بھی ہندو انگریزوں کے ساتھ مل کر ظلم ڈھانے سے بعض نہیں آئے ۔ کچھ مدت کے بعد علامہ اقبال نے ایک ایسے خطہ ارض کا خواب دیکھا کہ جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ دین اسلام کے مطابق زندگی گزار سکیں چنانچہ ۱۹۳۰میں مسلم لیگ کے الہ آباد والے اجلاس میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیےایک علحیدہ وطن بنانے کی تجویز پیش کی۔ مسلمانوں کو متحد کرنے اور ان کے اندر ایک الگ وطن کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے انھوں نے قائداعظم اور دیگر رہنماؤں کو اس جدوجہد میں شامل کیا۔ اور یوں ایک تحریک کا آغاز ہوا۔ جس کا مقصد مسلمانوں کی ہمت باندھنا، بلاتفریق رنگ ونسل ،فرقہ واریت اور تعصبات سے بالا تر ہو کہ ایک منزل، ایک الگ وطن کے حصول کے لیے یکجا کرنا تھا۔
اس مقصد کے حصول لیے ایمان افروز تقاریراور جلسوں کا بھی اہتمام کیا جاتا اور علامہ اقبال بھی اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو بیدار کرتے اور الگ وطن کے حصول کی اہمیت کو اجاگر کرتے۔ چار سال کے بعد جب قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی صدارت کا مستقل عہدہ قبول کیا تو انھوں نے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع کر دی۔ قائداعظم اور دیگر رہنماؤں کی انتھک محنت اور کوشش نے مسلمانوں کو ایک الگ وطن کے حصول کے لیے یکجا کردیا . آخر کار ۲۳ مارچ سن ۱۹۴۰ء کو قائداعظم نے لاہور کے اجلاس میں واضح طور پر ایک قرارداد پیش کی کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکژیت ہے، وہاں ایک آزاد مسلم ریاست قائم کی جائے۔ اللہ کا کرم ایسا ہوا کہ یہ قرارداد منظور کر لی گئی جس کو قررداد پاکستان کہتے ہیں۔ جس کی رُو سے مسلمانوں کی آزاد اور خودمختار حکومت قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔
یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ قومیت کی تشکیل کی دو بنیایں ہیں …….. ایک وہ جو مغریبی مفکرین نے قائم کی اور دوسری وہ جو رسول ﷺ کی قائم کی ہوئی ہے ۔ اہل مغرب نے قومیت کی بنیاد خاندانی ، نسلی اور قبائیلی بنیادوں پر رکھی جس کی وجہ سے انسانوں کے درمیان تباہی کا جو دروازہ کھولا وہ دو عالمی جنگوں کے ہونے سے با خوبی ظاہر ہے ۔ قومیت کی دوسری بنیاد جو رسول مقبول ﷺ نے ملت اسلامیہ کی تشکیل کرتے وقت فرمائی ، وہ مغرب کے تصور قومیت سے بلکل جدا ہے۔ جو ایک نظریے اور ایک عقیدے کی بنییاد پر وجود میں آئی جس میں ہر نسل،ہر رنگ اور ہر جغرافیائی خطہ کے لوگوں کے لیے جگہ ہوتی ہےچنانچہ قائدعظم نے اسلامی قومیت کی بنیاد پر ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا جس میں اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کی جا سکے۔ اللہ کی مہربانی سے ۱۴ گست۱۹۴۷ء کو رمضان مبارک کی ۲۷ ویں شب کو ایک آزاد اور اسلامی مملکت ک قیام عمل آیا جس کا نام پاکستان رکھا گیا۔
لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے اپنی جانوں اور مالوں و اسباب کی پرواہ کیے بغیر آزاد مملکت پاکستان کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت کرنے والوں کے دلوں میں صرف اور صرف آزادی سے اپنے دین کے مطابق جینے کی آرزو تھی۔ یہ کیسی محبت اور جزبات کا بھونچال اللہ نے مسلمانوں کےدلوں کو عطا کر دیا تھا کہ مسلمانوں کی کٹی ہوئ ٹرینیں پوری کی پوری خون میں نہائی ہوئی پاکستان کے اسٹیشنوں پر اُتر رہیں تھیں۔ سکھوں نے کرپانوں میں بچوں کو پرو کر مسلمانوں کو ڈرانا چاہا اور کہیں مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر ان پر ستم ڈھائے غرض کہ وہ کونسی تکالیف تھیں جو ہجرت کے وقت انھوں نے جھیلی نہ ہو۔ پھر بھی مسلمانوں کا جزبہ کم نہ ہوا بلکہ شدید تر ہوتا چلا گیا ایسے میں اپنے وطن جانے کی خوشی و مسرت ڈر اور خوف پرحاوی تھی۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
ملی نہیں ہے ہمیں ارض پاک تحفے میں
ہزاروں دیپ بجھے ہیں تو اک چراغ جلا
اللہ کا بے انتہا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایک آزاد اسلامی اور فلاحی ریاست عطا کی ۔ ہمارے اسلاف کی بے پناہ قربانیون اور اللہ کی رحمت سے یہ ملکِ خداد ملا اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ اسلامی نظریے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی فلاح و بہبود کے لیے کوشش کریں اور اس کو توانا اور مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں