حیات بلوچ: تربت میں طالب علم کے مبینہ قتل کے الزام میں ایف سی اہلکار پولیس کی حراست میں




صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت کی پولیس کے مطابق طالب علم حیات بلوچ کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے الزام میں پیراملٹری فورس فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ایس ایس پی تربت نجیب پندرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو حیات بلوچ کے مبینہ قتل کا واقعہ فرنٹیئر کور کی گاڑی کے سامنے دھماکے کے بعد پیش آیا۔
ایس ایس پی تربت نجیب پندرانی کے مطابق ایف سی کی جانب سے کی جانے والی انکوائری میں پایا گیا ہے کہ ’اہلکار نے زیادہ شدت کے ساتھ، اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اور جلد بازی میں ردِ عمل دیا جو کہ اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق جس جگہ دھماکہ ہوا اس کے قریب ہی باغیچے میں حیات بلوچ کام کر رہے تھے اور شاید اس وجہ سے اہلکار نے یہ سمجھا کہ حیات بلوچ اس دھماکے کا ذمہ دار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘واقعے کی اطلاع جب پولیس کو موصول ہوئی تو اس کی تفصیلات سے ایف سی کے حکام کو آگاہ کیا گیا اور انھوں نے اپنی انکوائری کے بعد واقعے میں ملوث اہلکار کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ ایس ایس پی تربت نجیب پندرانی کا کہنا تھا کہ حیات بلوچ کے والد کے بیان پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق حیات بلوچ کے والد واقعے کے عینی شاہد ہیں اور ان سے جمعرات کی دوپہر کو بیان لینے کی کوشش کی گئی تھی مگر وہ اس وقت اس حالت میں نہیں تھے کہ بیان دے سکیں۔
“جس پر ہم نے حیات بلوچ کے لواحقیقن سے گزارش کی ہے کہ اس کے والد جس وقت بھی مناسب سمجھیں واقعے کے متعلق پولیس کو بیان دے دیں۔ “یہ بھی پڑھیے ……… بلوچ والدین اپنے بچے سکول بھیجنا بند کر دیں! ’اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان کو صرف ایک کالونی سمجھا ہے‘ ، ’بھائی لاپتہ ہوا تو نقاب اتارا اور احتجاج شروع کر دیا‘ انھوں نے کہا کہ ’حیات بلوچ کے والد کے بیان پر من و عن مقدمہ درج کر کے ہر صورت انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ جس میں فرنٹیئر کور کا تعاون ہمیں حاصل ہے۔‘
اہلِ خانہ کا مؤقف
حیات بلوچ کے بھائی مراد محمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کھجور کے ٹھیکیدار ہیں اور حیات بلوچ کو چونکہ یونیورسٹی سے چھٹیاں تھیں اس لیے وہ اپنے والد کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ ‘جمعرات کو تقریباً 11، ساڑھے 11 بجے کے قریب جس باغیچے میں حیات کام کر رہا تھا اس کے قریب سڑک پر سے فرنٹیئر کور کی گاڑی گزر رہی تھی جب اچانک دھماکہ ہوا۔’ انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد فرنٹیئر کور کے اہلکار باغیچے میں گھس آئے اور انھوں نے حیات بلوچ کے والد کے بقول ’حیات بلوچ کو تھپڑ مارے‘۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ‘اس کے ہاتھ، پاؤں باندھے گئے اور روڈ پر لا کر آٹھ گولیاں ماری گئیں جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔’ مراد محمد کے مطابق والد نے بتایا کہ اس موقع پر انھوں نے فرنٹیئر کور کے اہلکار سے منتیں کیں کہ ان کے بیٹے کو چھوڑ دیں کہ ‘وہ صرف باغیچے میں کام کر رہا ہے مگر انھوں نے ایک نہ سنی اور انتہائی بے دردی کے ساتھ پہلے تشدد کیا گیا اور پھر گولیاں ماری گئیں۔’
مراد محمد کے مطابق ان کے والد اس وقت انتہائی برے حالات سے گزر رہے ہیں۔ ‘ہمارے والد ایک مزدور پیشہ شخص ہیں اور انھوں نے اپنی زندگی میں بہت محنت کی ہے۔ ‘حیات بلوچ ہمارا سب سے لائق بھائی تھا۔ والد اور ہمیں توقع تھی کہ اس کی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد ہماری مشکلات کا دور ختم ہو جائے گا مگر وہ تو اب دنیا ہی میں نہیں رہا۔’
عامر احسن: ’وہ اپنی پوری برداری میں پہلا نوجوان تھا جس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا‘
حیات بلوچ کون تھے؟
حیات بلوچ ضلع تربت کے رہائشی تھے۔ وہ چار بہن بھائی تھے جن میں حیات بلوچ کا نمبر دوسرا تھا۔ وہ کراچی میں شعبہ فزیالوجی میں بی ایس کے فائنل ایئر کے طالب علم تھے۔ کورونا کی وجہ سے یونیورسٹی بند تھی جس وجہ سے وہ آبائی علاقے تربت میں مقیم تھے۔ حیات بلوچ کے والد معزر محمد علاقے کی جانی پہچانی سماجی شخصیت ہیں اور کھجور کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ‘حیات بلوچ غریب مگر خود دار تھا’ . عامر احسن کراچی یونیورسٹی میں حیات بلوچ کے چار سال سے ہم جماعت تھے اور ان کے بہترین دوست تھے۔ عامر احسن بتاتے ہیں کہ حیات بلوچ کا تعلق بہت ہی غریب خاندان سے تھا۔ ان کے مطابق وہ اپنی پوری برداری میں پہلا نوجوان تھا جس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا اور ان ہی کی ہمت افزائی کے بعد ان کے چھوٹے بھائی اور دیگر نے بعد میں تعلیم حاصل کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ‘میں کیا بتاؤں وہ کتنا قابل اور درد دل رکھنے والا تھا۔ وہ مجھ سے اپنے دل کی بات کرتا تھا۔‘
عامر احسن: ‘وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ میں وہ وقت دیکھنا چاہتا ہوں جب میں کسی قابل بن کر اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور پھر اپنی برداری کے لوگوں کی خدمت کرسکوں، اپنوں کی تقدیر کو بدل سکوں‘ . عامر احسن بتاتے ہیں کہ ‘کہتا تھا کہ ماسٹرز کے بعد میرے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ ہے سی ایس ایس کا جس کے لیے وہ ابھی سے دن رات تیاری کر رہا تھا۔ اس کے تمام سمیسٹرز میں گریڈ بھی اچھے تھے۔’ عامر احسن بتاتے ہیں کہ حیات بلوچ انتہائی مشکل حالات میں تعلیم کو جاری رکھے ہوئے تھے۔
’اب جب کورونا کے باعث یونیورسٹی بند ہوئی تھی تو اپنے علاقے میں جا کر ہم لوگوں کی طرح ریلیکس اور آن لائن پڑھائی نہیں کررہا تھا بلکہ اس نے والد کے ساتھ مل کر کھجور کے باغ کا ٹھیکہ لے لیا تھا۔ جہاں پر وہ دن رات کام کرتا تھا۔ ‘اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اس سے مجھے اتنے پیسے مل جائیں گے جس سے میرا آنے والے دنوں میں یونیورسٹی کا خرچہ چل جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ جب بھی اپنے علاقے جاتا تھا وہاں پر محنت مزدوری کرتا تھا۔’
عامر احسن کے مطابق اکثر اوقات کچھ دوست اور یونیورسٹی کے ایک دو استاد ان کی مدد کرتے تھے اور حیات بلوچ کو نوٹس، کتابیں وغیرہ دلاتے تھے۔ ’اس بات پر وہ بہت شرم محسوس کرتا تھا، اتنی زیادہ کہ میں بتا نہیں سکتا۔ ‘وہ مجھ سے اکثر کہتا تھا کہ میں وہ وقت دیکھنا چاہتا ہوں جب میں کسی قابل بن کر اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور پھر اپنی برداری کے لوگوں کی خدمت کرسکوں، اپنوں کی تقدیر کو بدل سکوں۔ ‘افسوس کہ جب کچھ تھوڑا وقت باقی رہ گیا تو وہ گولی کا نشانہ بن گیا۔’ مہوش اشفاق حیات بلوچ کی کلاس فیلو تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’وہ میرے ساتھ سوشل ورک کرتا تھا۔ کلاس میں ہر وقت وہ سب سے پہلے بات کرتا تھا۔‘
محسن علی: ’وہ زندگی سے بھرپور طالب علم تھے جو نہ صرف اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیتے تھے بلکہ وہ رفاعی اور فلاحی کاموں میں بھی بھرپور حصہ لیتے تھے۔‘
‘اس سے میں اکثر کہا کرتی تھی کہ تھوڑا بولو ہمیں بھی بات کرنے کا موقع دو مگر وہ چپ ہی نہیں ہوتا تھا۔ ‘افسوس کہ اب ہم جب کلاس میں جائیں گے تو وہ نہیں ہوگا کہ میں اس سے کہہ سکوں کہ چپ کرو مجھے بھی بولنے کا موقع دو۔’ انھوں نے کہا کہ یہ ایک نا قابل تلافی نقصان ہے۔ نہ صرف حیات بلوچ کے خاندان اور ان کے علاقے کے لیے بلکہ ’ہم سب دوستوں کے لیے بھی۔‘’ہمہ وقت اپنے علاقے کے لوگوں کی مدد کو تیار رہتے تھے‘ بلوچ سٹوڈنٹس ایجوکیشن آرگنائزیشن کراچی یونیورسٹی کے چیئرمین محسن علی کے مطابق حیات بلوچ بلوچ طلبا کی رفاعی تنظیم کی کابینہ میں شامل تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ زندگی سے بھرپور طالب علم تھے جو نہ صرف اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیتے تھے بلکہ وہ رفاعی اور فلاحی کاموں میں بھی بھرپور حصہ لیتے تھے۔
محسن علی کے مطابق خود کشی کے کچھ واقعات پر وہ بہت پریشان ہو گئے تھے۔ ‘وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ڈپیارٹمنٹ میں طالب علم بہت پریشان رہتے ہیں کیوں نہ ان طالب علموں کے ساتھ خودکشی پر ایک سیشن رکھا جائے۔ جس پر ہم نے ان کے ڈیپارٹمنٹ کے طالب علموں سے بات کی۔ ‘اس موقع پر ایک بھرپور سیشن ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حیات بلوچ کے کئی ساتھی طالب علموں نے بعد میں ہم سے کہا کہ اگر یہ سیشن نہ ہوتا تو نہ جانے ہم کیا کر بیٹھتے۔’ محسن علی کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے داخلے وغیرہ کے لیے کراچی آنے والے طالب علموں کو مدد کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور حیات بلوچ آگے بڑھ کر ان کی مدد کرتے تھے .
ڈاکٹر یٰسین دستی: ’اب بلوچستان سے غریب مریض آئیں گے تو ان کی مدد کرنے والے تو بہت ہوں گے مگر ان کے لیے حیات بلوچ جیسی بھاگ دوڑ کرنے والا کوئی نہیں ہو گا‘. ’نومبر میں داخلہ سیشن اور امتحانات ہوتے ہیں۔ اب جب سب طالب علم اپنے پرچوں کی تیاری میں مصروف ہوتے تو یہ اس وقت بھی نئے آنے والے طالب علموں کی مدد کر رہے ہوتے، کسی کو فارم بھرنے میں مدد دیتے تو کسی کے رات ٹھرنے کا انتٖظام کرتے تھے۔‘ محسن علی کا کہنا تھا کہ حیات بلوچ کے پاس ہمہ وقت طالب علموں اور بلوچستان سے آنے والے لوگوں کا میلہ لگا رہتا تھا۔ ’وہ سب کی مدد کرتے اور خوشی محسوس کرتے تھے۔‘ڈاکٹر یٰسین دستی شعبہ عمرانیات میں استاد کے فرائض ادا کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ بلوچستان سے تعلق کی وجہ سے ان کا حیات بلوچ سے بہت قریبی رابطہ رہا ہے۔ ‘بلوچستان سے اکثر اوقات غریب مریض کراچی کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کے لیے آتے رہتے تھے۔ ‘اس کو جب بھی کسی مریض کی اطلاع ملتی تو یہ اس کی مدد کو دوڑ پڑتے تھے۔ ان کو بلڈ وغیرہ کی ضرورت ہوتی تو یونیورسٹی میں مہم چلاتے تھے۔
‘ہسپتال جاتے، عیادت کرتے، ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔’ ان کا کہنا تھا کہ اب بلوچستان سے غریب مریض آئیں گے تو ان کی مدد کرنے والے تو بہت ہوں گے مگر ان کے لیے حیات بلوچ جیسی بھاگ دوڑ کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں