اوراس کےحُسن کوتشویشِ ماہ وسال نہ ہو – ہمایوں مجاہد تارڑ




ایک مُلک کی سرحدی پٹّی پر اُس کا جھنڈا گڑا ہوتا ہے، جیسے پاکستان کی سرحد پرہمارا سبز، ہلالی پرچم نصب ہے ــــ ایک سائن بورڈ، ایک اعلان کہ اس لکیر سے آگے بسنے والوں میں کچھ دم خم ہے۔ یہی وجہ ہے، یہ پرچم پول کی ٹاپ سے بندھا ابھی تک فضا میں لہرا رہا ہے۔ اگر نہیں، تو یہ زمین پر پڑا ہوتا، ہوائیں اِسے اڑا کر دُور لے جاتیں، اور کٹی پھٹی حالت میں یہ کسی درخت کی ٹہنی سے لٹکا جُھول رہا ہوتا ۔۔۔
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
کہنا یہ ہے، اس پرچم کا حفاظتی گارڈ ایک نہیں، بلکہ دو ہیں۔ پہلا گارڈ وہ جو کیل کانٹے سے لیس ہے، اور چٹان صفت بدن اور عزم کے ساتھ دشمن سے ٹکرا سکتا، اسے پسپا ہونے پر مجبور کرسکتا ہے۔ یہ گارڈ ‘سرِ وقارِ وطن’ کے ظاہری وجود ( دریا، جنگل، پہاڑ، زمین) کو برقرار رکھنے کے فریضہ پر مامور ہے۔ دوسرا گارڈ وہ جو یہاں نگر نگر آباد جیون کی رونقیں اپنے علم و ہنر اور دانائی کے بل بوتے پر استوار رکھنے کا ضامن ہے۔ ایسا وہ تب کر سکے گا جب اپنی محنت سے کشید ہوئی معیشت کا پہیّہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے گھما کر اس میں بڑھوتری کے نئے نئے امکانات تلاش کر سکے۔ سرحد اندر کے معاملات کو آپریٹ کرنے کا اختیار اس کا ہے۔ اس اختیار میں مداخلت کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ جس ایندھن پر سرحدی گارڈ کا وجود پل رہا، اس ایندھن کا سٹاک exhaust کر جائے گا ۔۔۔ خاکم بدہن، ان دعائیہ الفاظ کی دوسری سطر کی حفاظت نہ کی گئی تو پہلی سطر بھی اپنا وجود کھو دے گی:
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اوراس کےحُسن کوتشویشِ ماہ وسال نہ ہو
وطن کا حُسن اس کے سولین شہری کا دستِ ہنر ہے، جو اندرون اور بیرون ملک متحرّک رہ کر اس کے خزانے بھرے رکھ سکتا ہے۔ یہ ہاتھ کاٹ دئیے جائیں، یا باندھ دئیے جائیں تو وطن کا حُسن ماند پڑ جاتا ہے۔ اگست طلوع ہوا ہے۔ ضرورت ہے کہ بانیِ پاکستان اور قیامِ پاکستان والے اُجلے منظر از سرِ نوہماری پلکوں کی چھاؤں میں بسیرا کریں، اور محرومِ تماشا کو دیدہِ بینا میسّر آئے۔ دُعا کرتے ہیں :
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں