آزادی پاکستان – صبا احمد




منٹو پارک اور اقبال پارک یا مینار پاکستان کی تاریخ آزادی پاکستان کی عظیم داستان رقم کرنے کی یاد ہے . یہ یادگار مسلمانوں کی آزادی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی پہچان ہے ۔ کہ اس جگہ تاریخی جلسہ ہو مسلم لیگ کا اور جو قرار داد پیش کی گٸی ، وہ بعد میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوٸی ۔ اس کی تاریخ عوامل کے پس منظر میں آزادی کی تحریک اہم تاریخ رکھتی ہے۔
مسمانوں کی جرات اور قربانی کی مثال نہیں نوجوانوں کی اور ہرعمر کے اور طبقے کے افراد کی …….. ٢٢ مارچ ١٩٤٧ کو ایک دن پہلے خاکسار تحریک کا بندہ شہید ہو گیا ۔ برطانوی فوج نے اس کے جنازے کے ہجوم پر گولیاں چلاٸیں تو لوگ پریشان تھے۔ ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کو کن مشکل حالات میں مسلم لیگ کی کال پر جلسے کی تیاریاں کیں گی ۔ برطانوی حکومت نے سخت پابندیاں لگاٸی ہوٸی تھیں . لاہور میں لوگ گھروں میں محصور تھے . کاروباری مراکز اور دکانںں بند تھیں . شہر میں خوف و حراس کی سی کیفیت تھی ۔ جلسے کی تاری کے لیے میز کرسیاں درکار تھیں کوٸی دکانداری دکان کھولنے اور سامان دینے کے لے تیار نہ تھا ۔ صرف ایک کیٹرنگ کی دکان کا مالک مسلمان تھا ۔اس نے اپنی دکان کی چابی دے دی کے اس میں سے سامان لے لیں ۔ کارکنوں نے دکان سے سامان کرسیاں مالک کے کہنے پر اٹھایا ۔ اور جلسے کی تیاریاں شروع کیں جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوۓ ۔ پندرہ بیس منٹ میں نوجوان ٹولیوں میں آۓ اورجلسے کی تیاریاں مل کر کیں ۔ شام سے لوگوں کی ٹولیاں آنا شروع ھو نگی اور پارک گھچاگھچ لوگوں سے بھر گیا ۔
اتنے میں قاٸد اعظم بھی پہنچ گے جلسے کا آغاز ہوا ۔ تحریک پاکستان کی بنیاد ہی دو قومی قومی نظریہ پر تھی ۔ اور اس دن ھندوٶں کی ”متحدہ قومیت“ کی غلط فہمی دور کرتے ہوۓ قاٸد اعظم نے اپنے صدارتی خطاب کیا ۔آل انذیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قرار داد پیش کرنے سے پہلے اپنے صدارتی خطاب میں متحدہ قومیت کے بارے میں کہا ۔۔۔۔
” یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہمارے ہندو دوست اسلام اور ھندو مت کی حقیقی نوعیت کو کیوں نہیں سمجھتے ؟ مذہب ”ریلیجن “ یعنی ایک نظام عقاٸدو عبادات کے صحیح مفہوم میں مذاہب نہیں ہیں ۔ بلکہ حقیقتاًً دو مختلف اور متنازع معاشرتی نظام ہیں ۔ اور یہ ایک خواب ھے کہ وہ کبھی ایک مشترک قومیت پیدا کر سکتے ہیں ۔اور یہ مغالطہ کہ ایک ہندوستانی قوم موجود ہے ہرقسم کی حدود سے بہت زیادہ تجاوز ھو گیا ہے ۔اور ہمارے اکثر مصاٸب کا سبب ہے ۔اور اگر ہم نے اپنے خیالات پر بر وقت نظر ثانی نہ کی تو ااس مغالطے کی وجہ سے ہندوستان تباہ ہو جاۓ گا۔ (جدوجہد پاکستان ۔صفحہ ٤٦١ )
اور قاٸد اعظم نے کہا؛
”ہندوٶں اور مسلمانوں کا تعلق دو مختلف مزہبی فلسفوں معاشرتی روایات اور ادبوں سے ہے ۔ وہ نہ آپس میں شادیاں کرتے ہیں نہ مل بیٹھہ کر کھاتے ہیں ۔ حقیقت ہے کہ ان کا تعلق دو مختلف تہذیبوں سے ہے ۔جو خاص طور پر متصادم خیالات و تصورات پر مبنی ہیں ۔“ اپنے اس تاریخی خطاب میں قاٸد اعظم نے یہ بھی کہا : ” قوم کی ہر تعریف کے مطابق مسلمان ایک قوم ہے اور ان کے پاس اپنا وطن اپنا علاقہ اور اپنی مملکت ضرور ہونی چاہیے ۔ ہم بحثیت ایک آزاد و خود مختار قوم کے اپنے ہمساٸیوں کے ساتھ امن وامان اور ہم آہنگی کے ساتھہ رہنا چاھتے ہیں ہم چاھتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنی روحانی ٗثقاقتی معاشی معاشرتی اور سیاسی زندگی کو زیادہ سے زیادہ مکمل نشوونما دیں ۔اور اس کیلیے جو طریقہ ہمارے خیال میں بہتر اور خود ہمارے نصب العینوں سہم آہنگ اور ہماری قوم کی ذھان کے مطابق ھو اسے اختیار کریں ۔“(ایضا ۔صفحہ ١٨٠ )
قاٸد اعظم نی آل انڈیا کے ستاٸیسویں سالانہ جلسے میں اعلان کیا کہ ہندوستان کے مسلمان واضح طور پر آزادی ہند کے حامی ہیں ۔ مگر آزادی پورے ہندوستان کے لۓ ہونی چاہیے نہ کہ صرف ایک طبقے کے لۓ ۔ اگر صرف ہندوٶں کو آزاد ہونا ہے ۔اور مسلمان کو ان کا غلام بن کر رہنا ہے ۔ تو یہ ایسے آزادی نہیں ہے ۔جس کے لۓ مسلمانوں سے کہا جا سکے وہ اس کے لۓ لڑیں .
(جدو جہد پاکستان صفحہ ١٧٩ “)
قاٸد اعظم نے سامعین کو تقسیم ہند کے مطالبے کے لۓ ذہنی طور پر تیار کر لیا تو سب سے بڑے صوبے بنگال کے وزیر اعلی فضل حق نے وہ خاص قرار داد پیش کی جس کو ” قرارداد لاھور “ کا نام دیا گیا مگر بعد میں”قرارداد پاکستان “ کے نام سے مشہور ہوٸی ۔ اس قرارداد میں میں مسلم لیگ نے ہندوستان کے مسلمانوں کا سیاسی نصب العین ایک آزاد ازادریاست کا قیام دیا ۔ قرار داد میں کہا گیا ہے ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس تجویز کرتا ہے ۔
جب تک دستوری منصوبے میں درج ذیل بنیادی اصول شامل نہ کۓ جاٸیں اور اس پر ملک میں عمل درآمد نہ کیا جاۓ اس وقت تک وہ مسلمانوں کے لۓقابل قبول نہ ہو گا ۔ یہ کہ جغرافیائی اعتبار سے متصل اورملحق یونٹوں پر مشتمل علاقوں کی بندی کی جاۓ اورضروی علاقاٸ ردو بدل کیا جاۓ ۔ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں کی طرح جن علاقوں میں تعداد کے لحاظہ سے مسلمان اکثریت میں ہیں انہیں ”خود مختار ریاستیں “ قرار دیا جاۓ جس میں ملحق یونٹ خود مختار اور آزاد ہوں گے ۔ ان یونٹوں کی اقلیتوں کے مزہبی سیاسی انتظامی اور دیگر حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لۓ ان کے صلاح مشورے سے دستور میں مناسب موثر اور واضح انتظامات رکھے جاٸیں اور ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان کے اور دیگر افلیتوں کے مشورے سے ان کے مزہبی ثقافتی اقتصادی سیاسی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحغظ کی ضمانت دی جاۓ “ (تاریخ نظریہ پاکستان ۭصفحہ ٢٤٥)
اس قرار داد میں سادہ انداز میں تقسیم ہند کا مطالبہ پیش کیا گیا تھا ۔ اس کے منظور ہونے پر ہندووں کا ردعمل بہت شدید تھا ۔ چونکہ یہ قرارداد ”قومی نظریہ “ کے طویل اسلامی پس منظر کے بعد پیش کی گٸی ۔ یہ نظریہ ھندوستان میں اسوقت سے ہے جب پھلے آدم نے اسلام قبول کیا.
قاٸد اعظم نے بھی فرمایا تھا :
” ہمارا دین ہماری تہذیب اور ہمارے اسلامی تصورات وہ اصل طاقت ہیں ، جو ہمیں آزادی حاصل کرنے کے لۓ متحرک کرتے ہیں .“
(٢١نومبر ١٩٤٥ ۶کو فرنٹیر۶ مسلم لیگ کانفرنس سے خطاب )
چوہدری رحمت علی نے بھی متحدہ قومیت کے بارے میں کہا ۔ ” ہندوستان ایک واحد ملک کا نام نہیں اور نہ کسی واحد قوم کا وطن ہے ۔ وہ حقیقت میں ایک ایسی مملکت کانام ہے جسے تاریخ میں پہلی مرتبہ برطانیہ نے تخلیق کیا تھا .“
اسلامی ریاست کے قیام میں بانی پاکستان قاٸد اعظم رحمتہ اللہ کا نام مسلم لیگ کے سربراہ اور تحریک کے قاٸد کی حیثیث سے سر فہرست ہے ۔ انہوں نے متعدد موقعوں پر قیام پاکستان کا مقصد علیحدٰہ ریاست کا قیام نہیں بلکہ ایسا خطہ ارضی کا حصول ہے ، جہاں اسلامی اصولوں اور قرآنی ہدایات پر مشتمل فلاحی و مثالی ریاست قاٸم کی جاسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں