سُنّی مائنڈ سیٹ کیا ہے؟ – ہمایوں مجاہد تارڑ




آصف علوی 500 ڈگری والے لگتے ہیں ……. اور سُنّی مائنڈ سیٹ کیا ہے؟ آصف علوی کے بیان پرکافی احتجاج ریکارڈ کرایا جا چکا حتٰی کہ خود اہلِ تشیع بھائیوں کی طرف سے چارمقامات پر اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی گئی ہے۔ تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ حکومت کی طرف سے اس احمق شخص کو سزا دینے سے متعلق کتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ یا پھر ایک اور غازی ؟؟ اس معاملہ کے دو تین پہلو سنجیدگی سے نوٹ فرما لیں:
1۔ میری معلومات اور مشاہدہ کے مطابق ایسے شیعہ حضرات بہت کم ہیں جو صحابہ کرام (رض) کے حوالے سے ایسا بغض رکھتے یا اس کا اظہار کر دیا کرتے ہیں۔ اکثریت احترام اور تقیہ والا رویہ اختیار کیا کرتی ہے۔
2۔اہلِ تشیع میں جو عالم / ذاکر ایسا ذہنی رویہ رکھتے ہیں وہ یہ بات نوٹ فرمائیں کہ پچھلے زمانوں میں ایسے بیانات گھر اور امام بارگاہ وغیرہ کی چار دیواری تک محدود رہ جاتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہے۔ ویڈیو ایسے ناقابلِ تردید ثبوت کے ساتھ ایسی بات تیزی سے وائرل ہو جاتی ہے، فساد فی الارض کا باعث بنتی ہے۔ یوٹیوب پر ایسی ویڈیوز خاصی تعداد میں ہیں جن اندر ایسے ذہنی رویے کا اظہار ملتا ہے۔
3۔ یاد رہے، سپاہِ صحابہ ایسی عدمِ برداشت کا اعلان کرتی شوریدہ سر تنظیم کا وجود بہرحال ایسے ہی تحریری اور تقریری بیانات کا ایک ردّ عمل تھا جس پر بمشکل قابو پایا گیا۔ اس تنظیم کے ‘سرفروش جاں باز’ اب بھی یہاں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ احتیاط !
4۔ اہلِ بیت سے متعلق احترام و تقدیس لیے شیعہ مائنڈ سیٹ کا عکس واشگاف طور سامنے آ چکا ہے، اورماہِ محرّم کے موقع پر گاہے بگاہے سامنے آتا ہی رہتا ہے، میڈیا پر اس کی پروجیکشن وافر مقدار میں ہو جاتی ہے، تاہم سُنّی مائنڈ سیٹ کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ کیا ہے؟ اس کا ایک جامع اظہار ایک فیس بُک پوسٹ پر آئے ایک بہن کے تبصرہ میں ملتا ہے۔ اسے نوٹ کرنا از حد ضروری ہے۔
اس بہن نے لکھا ہے:
“حضورؐ گرامی مرتبت کی آل ہونا خاص ہونا ہے، اور آپ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کا حبیب ہونا بھی خاص ہونا ہے۔ ہجرتِ مدینہ کے ہنگام بستر ِحبیبؐ پر محو استراحت ہونا جتنا اہم ہے اتنا ہی اہم یار غار ہونا ہے۔ داماد ہونا اہم ہے تو سُسر ہونا بھی اہم ہے۔ ایک کو بیٹی دی جاتی ہے، ایک کی بیٹی لی جاتی ہے۔ اہمیت یکساں ہے۔ ہم جیسے عامیوں کے گھر میں کوئی اجنبی داخل نہیں ہو سکتا ـــ تو رسالتمآبؐ کا اہل بیت ہونا کیسا ہے؟ اسی طرح، آپ ؐ کے روضہ مبارک میں دو احباب کا موجود ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا وہ غیر ہیں؟ کیا وہ ہستیاں کم اہم ہیں؟ کیا اُن کی شان کسی تعارف کی محتاج ہے؟ سبھی اہم ہیں۔ سبھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے ہیں۔ سبھی چنیدہ ہیں۔ سبھی خاص ہیں ۔”
یہ ہے وہ مائنڈ سیٹ جسے پلّو سے باندھ کر رکھنا ہو گا ۔ کیوں؟؟
آپ یوں سمجھ لیں کہ سنّی کمیونٹی کے ہاں اہلِ بیت کا احترام اگر 100 ڈگری پر رہتا ہے تو باقی اصحاب کرام کا احترام 99 ڈگری پر رہتا ہے۔ اور یہ اِس قدر فِکس اور اَٹل ہے کہ لمحہ بھر کو بھی 98 ڈگری پر نہیں آ سکتا۔ کُجا یہ کہ اس سماج میں رہتے ہوئے کوئی شخص اس درجہِ تکریم کو صفر بلکہ منفی درجہ پر لے جائے اور پھر برداشت اور رواداری کی توقع رکھے۔ قیامت ہے صاحب، قیامت! آصف علوی نے یہی غلطی کی ہے ۔۔۔ شومئی قسمت، ہر کمیونٹی میں 500 ڈگری احترام والے ایٹم بم بھی پائے جاتے ہیں۔ اِن “مخلص ترین افراد کے خلوص” سے بچ کر رہنا ہو گا۔ یہ ہمارا حشر ہیروشیما اور ناگاساکی والا نہ کر دیں! ۔۔۔ آصف علوی 500 ڈگری والے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے، حسبِ حجم دوسری طرف بھی اِس ڈگری والے وافر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں اصلاً ہوا کیا ہے؟
جو احتجاج پہلے سپاہِ صحابہ ایسی تنظیم تک محدود ہوا کرتا تھا، اُس دائرہ میں چنگاری پھینک دی گئی ہے۔ یوں، یہ دائرہ وطنِ عزیز کے طول و عرض تک پھیلا دیا گیا ہے۔ یعنی ایک عام سا نیوٹرل، سنّی مسلمان بھی پوری طرح متوجہ ہو گیا اور بول پڑا ہے۔ آپ بتائیں اس میں کون سی دانائی ہے آخر؟
اور اب آخری بات ……. ہمارے دشمن ہمارے بِیچ اِس فالٹ لائن کی موجودگی کو، جنگِ جُمل ایسے واقعات وغیرہ کو، ہم سے زیادہ گہرائی تک سمجھتے اور “دلچسپی” سے دیکھا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔ اُن کے ہاں پورے پورے تِھنک ٹینکس اور strategists بیٹھے ہیں جو ہماری جغرافیائی پوزیشن کے چپہ چپہ سے آگاہ ہیں، جو اس سماج کی ساری ڈائنامکس اور اس کے ایک ایک segment پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کے پاس ہر چیز کے اعدادوشمار ہیں۔ یہاں کے لوکل اخبارات تک کی خبریں وہاں ترجمہ ہو ہو کر پہنچا کرتی ہیں۔
پچھلے برسوں سُنا تھا کہ قطر میں ایک پورا نیوز ڈیسک بیٹھا ہے، اسی کام پر مامور! اُن تِھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ ہم نے پاکستانی قوم کو فوج کے خلاف کھڑا کرنے کی سرتوڑ کوشش کر ڈالی، مگر ہم ناکام رہے ۔۔۔۔۔ گزارش یہ ہے کہ شام و عراق جیسا حشر ہو جانے یا اس سے بچے رہنے کے بِیچ بالکل لطیف سی لکیر حائل ہے۔ کامیابی یہ ہے کہ ہم اس لکیر کو ناقابلِ عبور خلیج بنائے رکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں