ہم لوگ ابھی زندہ بیدار کھڑے ہیں ، حصہ 3 – حناطہ عثمان




میجر طفیل محمد شہید
“ہیں شیردل کبھی دشمن سےخوف کھاتےنہیں
محازٍ جنگ سے نا کام ہو کے آتے نہیں
وفائیں اپنی چلو آج ان کے نام کریں
ہم ان کےحوصلوں اورعزم کوسلام کریں”
پاک فوج ، (Pakistan Army) عسکریہ پاکستان کی سب سے بڑی شاخ ہے ۔ اِس کا سب سے بڑا مقصد مُلک کی ارضی سرحدوں کا دِفاع کرنا ہے۔ پاکستان فوج کا قیام 1947 میں پاکستان کی آزادی پر عمل میں آیا ۔ یہ ایک رضاکارپیشہ ور جنگجوقوت ہے۔
پاک فوج کا نصب العین ہے: “ایمان، تقویٰ اور ِجہاد فی سبیل اللہ ۔
پاکستان آرمی مختلف شعبوں پر مشتمل ہے، جنہیں لڑاکا بازو، امدادی بازو یا امدادی خدمتی شعبوں میں بانٹا جاتا ہے۔ لڑاکا آرمز میں انفینٹری یا پیادہ فوج ، آرمر یا رسالہ/ بکتر بند فوج، آرٹلری یا توپخانہ اور ائیر ڈیفینس یا فضائی دفاعی فوج شمار کی جاتی ہیں۔۔
خدا کی اور نبی پاک کی رضا کے لیے
شہید ہوتے ہیں اسلام کی بقا کے لیے
میجر طفیل محمد شہید جیسے پاک وطن کے بہادر جوانوں کی وجہ سے آج لوگوں کے دلوں میں وطن سے محبت اور عقیدت اور قربانی کا جذبہ موجود ہے۔ آپ کو آپکی بہادری کی وجہ سے نشان حیدر سے نوازا گیا ہے ۔ میجر طفیل محمد شہید 1914میں آپ ہوشیار پور میں پیدا ہونے آپکا تعلق آرءیں برادری سے تھا۔ 1943 میں 16 پنجاب رجمنٹ میں بطور کمیشن اے – اپنی بٹالین کے علاوہ شہری مسلح فورسز میں مختلف کمانڈر اور تدریسی تقاریروں پر مشتمل ایک امتیازی حیثیت حاصل کرنے کے بعد 1958 میں کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان رائفلز میں تعینات کردیا گیا۔۔
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
اسی سال اگست کی ابتدا میں بہارت نے رات کے اندھیرے میں سابقہ مشرقی پاکستان کے ایک گاؤں لکشمی پور میں قبضہ کر لیا۔ تو پاک فوج نے آزاد کرانے کے لیے میجر طفیل محمد شہید کا انتخاب کیا اور انہیں تین دستوں پر مشتمل کردیا۔ صبح 4 بجے کا وقت مقرر کیا اوراپ لوگوں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے دشمن کی چوکی پر حملہ کردیا۔ انتہائی بہادری سے دشمن کی ایک چوکی پر دستی بم پھینک کر اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اسی دوران دشمن نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشین گن سے حملہ کیا جس کی تین گولیاں میجر طفیل کے پیٹ پر لگی لیکن آپ نے ہمت نہ ہاری اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور اسی دوران آپ کے نائب محمد اعظم شہید ہوگئے۔ پاک فوج کے اعلیٰ افسران کی آمد پر میجر طفیل محمد نے سیلوٹ کیا اور کہا۔۔
“جناب میں اپنا فرض ادا کر چکا ہوں دشمن بھاگ چکے ہیں” یہ کلمات ادا کرتے ہوئے آپ 7 اگست 1958 میں شہید ہوگئے۔ اس بہادری پر آپ کو پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیا گیا۔
وطن کی پاسبانی جان و ایماں سے بھی افضل ہے
میں اپنے ملک کی خاطر کفن بھی ساتھ رکھتا ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں